Mr Documentary

Mr Documentary

Share

06/06/2026

یہ عظیم الشان چٹان نما ڈسک، چار سے پانچ ٹن وزنی، کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک ملک کی کرنسی ہے۔ یہ کوئی ماضی کا قصہ نہیں بلکہ اس انوکھے ملک میں یہ کرنسی صدیوں سے رائج ہے اور آج بھی استعمال کی جاتی ہے۔ بحرالکاہل میں واقع جزیرہ یاپ، ان چار ریاستوں میں سے ایک ہے جو مائکرونیشیا کی آزاد خود مختار ریاست تسلیم کی جاتی ہے۔ یاپ جزیرہ گوام کے قریب واقع ہے اور اسکی آبادی لگ بھگ 12 ہزار سے زائد ہے۔

ریاستہائے متحدہ مائیکرونیشیا میں چار ریاستیں شامل ہیں،،، اس میں سے ایک یاپ ہے۔ یہ خطہ فلپائن اور ہوائی کے درمیان واقع ہے۔ صدیوں سے آباد یہ ریاستیں قدیم ثقافت سے جڑی ہیں۔ تاریخ طور پر ملایا، انڈونیشیا، نیوگنی اور سولومن آئی لینڈ سے ہجرت کرنیوالوں نے یاپ آباد کیا، 1526 میں پرتگالی سیاحوں نے بحرالکاہل کے بیچ جزیرے کو دریافت کیا۔

اب آتے ہیں اس انوکھی کرنسی کی جانب،،، کرپٹو کرنسی اور بٹ کوائن کے جدید دور میں اسٹون ایج کرنسی ایک عجوبہ لگتی ہے۔ تو جناب صورتحال یہ ہے کہ یاپ میں سونے، چاندی یا دیگر قیمتی دھاتیں موجود نہیں، باہمی تجارت کیلئے لائم اسٹون کی 2 ہزار سال پرانی چٹانوں سے بنائی گئی کرنسی کو رے کہا جاتا ہے۔ جزیرہ یاپ کی ڈسک نما کرنسی رے ایک اعشاریہ چار انچ قطر سے 12 فٹ قطر تک، اور وزان کے اعتبار سے 5 ٹن تک ہوتا ہے۔ ایک امریکی ڈالر میں 246 رے آتے ہیں۔ بھاری بھرکم ڈونٹ نما یہ کرنسی کسی جائیداد کی طرح ہوتی ہے، یعنی اسکی ملکیت منتقل ہوتی ہے اور جزیرے میں جس جگہ موجود ہے وہیں رہتی ہے، چھوٹے رے کو سکوں کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

پتھر کے سکوں کا استعمال بیسویں صدی کے شروع میں ہسپانوی اور جرمن تجارتی تنازعات میں بہت کم ہو گیا تھا، دوسری جنگ عظیم میں جب جاپان نے مائیکرونیشیا ریاستوں پر قبضہ کیا تو رے کی بھاری کرنسی کو تعمیرات میں استعمال کیا اور لنگر کے طور پر بھی آزمایا۔ اگرچہ رے میں اب دھاتی سکوں اور کاغذی کرنسی چلتی ہے مگر روایتی طور پر یاپسیسز رے کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں، آج بھی یاپ میں سماجی لین دین میں رے کا استعمال کیا جاتا ہے۔

06/05/2026

انسان اپنے ماضی اور اجداد کے بارے میں جاننا چاہتا ہے، صدیوں پہلے کا انسان کیا سوچتا تھا؟ کیسے زندگی گزارتا تھا؟ صدیوں کا سفر کیسے طے کیا؟ یہ ہے 4 ہزار سال پرانا قصبہ، خطہ عرب، ایک چھوٹا قصبہ جہاں لگ بھگ 500 انسان بستے تھے۔ محلے، گھر، گلیاں، جی ہاں اس قصبے کا نام الناتھہ تھا اور یہ موجودہ سعودی عرب کا حصہ ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق 3 اعشاریہ 7 ایکڑ پر پھیلے اس قصبے میں دو مرکزی علاقے تھے، 4400 سال پہلے قصبے کو محفوظ رکھنے کیلئے 15 کلو میٹر دیوار بھی بنائی گئی تھی۔

پی ایل او ایس ون جرنل کے مطابق الناتھہ 2400 قبل مسیح آباد ہوا اور 1500 قبل مسیح تک آباد رہا۔ فرانسیسی ماہرین آثار قدیمہ نے الناتھہ پر ریسرچ کی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اس دور میں بسایا گیا جب انسان خانہ بدوش زندگی چھوڑ کر شہری طرز زندگی کی طرف آ رہا تھا، اس قصبے کے گھروں کو چھوٹی چھوٹی گلیوں سے جوڑا گیا ہے۔

الناتھہ کانسی کے دور سے تعلق رکھتا ہے اور نخلستان خیبر کے قریب واقع ہے، مدینہ منورہ کے قریب مکہ المکرمہ اور عقبہ کے درمیان مرکزی شاہراہ کے قریب دریافت کیا گیا ہے۔ جزیرہ نما عرب کے صحرا میں موجود نخلستان آبادی کا باعث تھے، ہر نخلستان اور آبادی کے اطراف حفاظت کیلئے دیوار تعمیر کی جاتی تھی، الناتھہ کی موجودگی کا پتہ بھی ایسی ہی دیوار سے چلا تھا۔ اسی طرح کی دیواریں خیبر کے قلعے کے اطراف بھی موجود ہیں جو فرانس کے ماہرین آثار قدیمہ نے ڈھونڈ نکالیں۔ یہ وہی خیبر ہے جو تاریخ اسلام میں حضرت علی مرتضیٰ کی شجاعت کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، قلعہ خیبر مدینہ منورہ سے تقریبا 150 کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔

الناتھہ کے گرد دیواریں تقریبا 15 کلو میٹر پھیلی ہوئی ہیں جو 4 ہزار سال قبل تعمیر کی گئی تھیں، فرانس میں سینٹر نیشنل ڈی لاریچرچی سائنٹیفک (سی این آر ایس) اور سعودی عرب کی رائل کمیشن فار ال اولا کے مشترکہ کوششوں کے باعث انسانی تاریخ کا یہ اہم گوشہ بے نقاب ہوا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ دایوریں 2250 سے 1950 قبل مسیح کے درمیان تعمیر کی گئی تھیں، اس کا اندازہ تعمیراتی میٹریل کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ ٹیسٹ کے بنیاد پر کیا گیا ہے۔

4000 سال پہلے یہ ایسا دور تھا جب انسان صحرا میں پانی دیکھ کر گھر بسانے کے سوچتا تھا، خانہ بدوشی سے تنگ آ کر گائوں، دیہات، قصبے اور شہر آباد کرنے کا پہلا مرحلہ، آج سعودی عرب میں موجود دو بڑے نخلستان، پہلا خیبر اور دوسرا تبوک میں تیما نخلستان، اسی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں نخلستان انسانی تاریخ کا اہم ترین باب ہیں جہاں تہذیب نے جنم لیا۔

06/03/2026

2 ارب سالہ پراسرار پہاڑ، دیوتائوں کا مسکن؟

دنیا بھر میں پہاڑ مخروطی شکل، نوکدار بلند و بالا چوٹیوں سے پہچانے جاتے ہیں، مگر آج اپکو ایک ایسے عظیم الشان پہاڑ سے ملواتے ہیں جو چپٹا ہے، بالکل جیسے کسی نے کیک کا ٹکڑا کاٹ کر رکھ دیا ہو۔ دنیا کے قدیم تریں پہاڑ سے کئی پراسرار کہانیاں جڑی ہیں، ویسے یہ ہے ہی اتنا عجیب و غریب اور پرہیبت پہاڑ، سیدھا اور چپٹا، 9 ہزار 220 فیٹ بلند پہاڑ جس کے اوپر جانا تقریبا ناممکن ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دھند میں لپٹے پراسرار پہاڑ کو دیوتائوں کا مسکن یا خلائی مخلوق کا گھر کہا جاتا ہے۔

تو جناب یہ ہے وینزویلا کا خوفناک مائونٹ رورائما، 2 ارب سال پرانا، 14 کلومیٹر پر پھیلا پاکارائما مائونٹین رینج، جہاں وینزویلا، گیانا اور برازیل آپس میں ملتے ہیں۔ یہ دراصل ٹیپوئی مائونٹینز کہلاتے ہیں، 2 ہزار 810 میٹر بلند، 5 کلومیٹر چوڑا یہ آسمان کا چھوتا پہاڑ ایک عجوبہ ہے، نوکیلی چوٹی کے بجائے وسیع و عریض میدان، صرف اتنا نہیں قدرت کا یہ عجوبہ شفاف جھیلوں، بلند آبشاروں سمیت قدرتی خزانوں سے مالامال ہے۔ بس یوں سمجھیں کہ پہاڑ کی عمودی چوٹی بادلوں میں معلق ایک جزیرہ دکھائی دیتی ہے، یا کوئی بڑا میدان یا پھر آسمان چھوتی ایک دیو ہیکل میز، اربوں سال قدیم مائونٹ رورائما قدرت کا پراسرار معجزہ ہے، جہاں جنگلی حیات، پودوں، جانوروں اور حیاتیاتی نمود ایک حیرت کدہ ہے۔ مقامی لوگ اس عجوبے کو گمشدہ دنیا بھی کہتے ہیں جبکہ اسے ٹیپوئی پکارا جاتا ہے جس کا مطلب دیوتائوں کا گھر ہے، مقامی روایات کے مطابق صدیوں پہلے رورائما پہاڑ ایک مافوق الفطرت درخت تھا جس میں دنیا کی ہر فصل اور پھل موجود تھا، مکونائیما نامی افسانوی شخصیت کے اس پیڑ کو کاٹ ڈلا جس کے بعد یہ پتھر میں تبدیل ہو گیا۔

بہرحال جناب، جیولوجیکل سوسائٹی آف لندن کی تحقیق کے مطابق مائونٹ رورائما ایک بڑے ریت کے پتھر کی باقیات ہیں جو لگ بھگ ایک اعشاریہ 8 بلین سال قدیم ہے۔ ابتدا میں یہ علاقہ ریت کا طویل میدان تھا جو آہستہ آہستہ سکڑ کر چٹان میں تبدیل ہو گیا، چٹان پر پتھر کی پرتیں جمع ہوتی گئیں اور تقریبا 180 ملین سال پہلے مٹ گئی اور پھر رفتہ رفتہ یہ عظیم الشان چپٹا پہاڑ وجود میں آیا۔ مائونٹ رورائما کا منفرد ارضیاتی ماحول اچھوتے جانور، پرندے اور پودوں پر مشتمل ہے جو سخت موسم میں بقا میں اپنی مثال آپ ہیں۔ مائونٹ رورائما پر رہنے والے مینڈکوں کے چار اقسام کا ڈی این اے تجزیہ کیا گیا تو پتہ چلا یہ انکا سلسلہ 5 اعشاریہ تین ملین سال پرانا ہے۔ کچھ نایاب جانور جیسے نایاب پرندے اور سیاہ مینڈک صرف دنیا میں اسی مقام پر پائے جاتے ہیں۔

مائونٹ رورائما مہم جو اور سیاحوں کیلئے ایک پرکشش مقاسم بن چکا ہے، ہائیک کرنیوالے مہم جو دنیا کے اس عجوبہ پہاڑ کی چوٹی یعنی عظیم میدان پر پہنچ کر جشن مناتے ہیں۔ یہ سفر آسان نہیں چونکہ اسمیں جگہ جگہ آبشاور، جھرنے، جھیلیں، جنگل، چٹانیں اور دشوار گزار منزلیں آتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ قدرت کا یہ عجوبہ دنیا کی ارضیاتی اور حیاتیاتی منظر پر ایک انوکھی تصویر ہے۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Queens?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Hillside Avenue
Queens, NY
21309B