Al Qalam
06/10/2026
چالاک لڑکی (مکمل کہانی)
ایک تاجر نے اپنی دکان پر ایک بورڈ لگا رکھا تھا جس پر لکھا تھا مرد کی عقل عورت کی چالاکی پر غالب آجاتی ہے ۔ ایک روز ایک لوہار کی لڑکی بازار سے گزر رہی تھی ۔ اس کی نظر اس بورڈ پر پڑی ۔ اسے بہت غصہ آیا اس نے سوچا اس تاجر کو سبق سکھانا چاہیے ۔
اگلی صبح وہ خوب بن سنور کر ، اپنی بہترین پوشاک پہن کر تاجر کی دکان پر پہنچی ۔
السلام علیکم، اس نے کہا ۔
و علیکم السلام ، تاجر نے جواب دیا۔
لڑکی اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
تاجر کو بہت تعجب ہوا ۔
کیا ہوا بی بی کیوں رو رہی ہو ، تاجر نے پوچھا کیا چاہیے تمھیں، مجھ سے کہو ۔ میں دلا دوں "
لڑکی روتی رہی ۔
بھئی کیوں روتی ہو ، تاجر نے کہا۔ میں نے کہا نا تمھیں جو چاہیے مل جائے گا مگر تم کہو تو کہ تمھیں کیا چاہیے ؟
کاش یہ ممکن ہوتا ، لڑکی نے کہا۔ پھر تاجر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور پوچھا " آپکو میری آنکھوں میں کوئی خرابی نظر آتی ہے ؟ " بالکل نہیں، تاجر نے کہا۔
میرے بازوؤں میں ، اس نے اپنے سڈول بازو دکھائے ۔
تمھارے بازو تو بالکل شیشے کے مانند ہیں ۔ سفید جگمگاتے ہوئے تاجر نے کہا۔
لڑکی نے روتے ہوئے اپنے پیروں کی طرف اشارہ کیا۔
تو پھر ان میں کوئی عیب ہوگا؟
نہیں تو ۔ تمھارے پیر تو بڑے خوبصورت ہیں "
لڑکی نے اپنے سر سے رومال ہٹایا اور لمبے لمبے بالوں کو لہرا کر چھوڑا تو وہ ٹخنوں تک آنے لگے ۔ شاید میرے بال اچھے نہیں ہے ؟
تمھارے بال تو ریشم سے زیادہ ملائم ہیں "
لڑکی نے کہا میں داروغہ کی لڑکی ہوں ۔ جب بھی کوئی پیغام آتا ہے تو وہ کہتا ہے میری بیٹی بھینگی ہے ، لولی ہے ، لنگڑی ہے ۔ اب آپ ہی بتائیے ایسی لڑکی سے کون شادی کرے گا۔
تاجر نے کہا تم فکر نہ کرو کل میں خود داروغہ کے پاس جا کر پیغام دوں گا
اگلے روز صبح صبح تاجر خوب بن ٹھن کر داروغہ سے ملنے پہنچ گیا۔ داروغہ نے اسے دیوان خانے میں بٹھایا اور خاطر تواضع کی ۔ رسمی خیر و عافیت کی باتوں کے بعد وہ مطلب پر آیا ۔
داروغہ نے کہا "میری بیٹی ! میری تو کوئی بیٹی نہیں !
نہیں جناب، تاجر نے کہا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ کی ایک لڑکی ہے اور وہ شادی کے لائق بھی ہے ۔
" لیکن میاں وہ تو بھینگی ہے ، "
" مجھے منظور ہے "
لنگڑی بھی ہے"
" مجھے منظور ہے ،
لولی ہے "
"کوئی بات نہیں "
آپ کو دس ہزار دینار دینے پڑیں گے "
تاجر سوچ میں پڑ گیا ۔ پھر لڑکی کی خوبصورتی کا خیال آیا اور اس نے کہا مجھے منظور ہے ۔
نکاح ہوا ۔ دعوتیں ہوئیں ۔ اب دلھن کو دولھا کے گھر آنا تھا۔
تاجر دلھن کی رخصت کا انتظار کرنے لگا۔ بڑی دیر بعد ایک مزدور آیا اور ایک بڑی سی گٹھری ڈال گیا ۔ تاجر نے سوچا شاید اس میں دلھن کے کپڑے ہیں ۔ پھر خیال آیا ۔ کھول کر دیکھوں تو سہی۔ اس نے گٹھری کھولی تو اس میں ایک لڑکی بیٹھی نظر آئی ۔ بھینگی ، لولی لنگڑی ۔ اب تو وہ بہت چکرآیا ۔ اس نے پوچھا تم کون ہو ۔ لڑکی نے جواب دیا تمھاری دلھن
اب تاجر سمجھا کہ وہ لڑکی اسے بے وقوف بنا گئی۔
اگلے روز لوہار کی لڑکی وہاں سے گزری تو تاجر دونوں ہاتھ سر میں
دیے دکان پر بیٹھا ہے ۔
صبح بخیر لڑکی نے کہا ۔
" شیطان کی خالہ " اس نے لڑکی سے کہا۔ میں نے تمھارا
کیا بگاڑا تھا ۔
لڑکی نے سائن بورڈ کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا " اب آپ
کا کیا خیال ہے کون زیادہ چالاک ہے "
تو تم نے اسی لیے بدلہ لیا ؟ ،، تاجر نے پوچھا ۔
اگر تم میری مدد چاہتے ہو تو اس بورڈ کو اتار دو » لڑکی نےکہا۔
تاجر نے فورا بورڈ کو اتارا اور اس پر سنہری حرفوں سے لکھوایا۔ عورتوں کی چالاکی کے آگے مرد مات کھا جاتے ہیں ۔
اگلے روز لڑکی نے بورڈ دیکھا تو بہت خوش ہوئی ۔ اس نے کہا اب میں تمھیں اس مصیبت سے نجات دلاتی ہوں جس میں تم پھنس گئے ہو۔ اس نے تاجر سے کہا کہ شہر کے باہر خانہ بدوشوں کے خیمے لگے ہوئے ہیں انھیں رات میں کھانے پر بلالو اور ان کو کہو کہ خوب گانے گائیں اور ڈھول بجائیں۔اور وہ تم کو چچا کہے۔داروغہ کو بھی دعوت دو ۔ جب داروغہ پوچھے تو ٹھنڈی آہ بھر کر کہنا کہ آدمی اپنی اصلیت چھپا نہیں سکتا۔ میں دراصل اسی قبیلے سے ہوں اب خدا نے مجھے چار پیسے دیے ہیں ۔ تو انھیں کیسے بھول جاؤں ۔ داروغہ ضرور طلاق کے لیے کہے گا ۔
تاجر نے وہی کہا جو لڑکی نے کہا تھا۔ داروغہ بیٹھا ہوا تھا کہ خانہ بدوش گاتے بجاتے آئے ۔ اور چچا کہہ کر تاجر سے لپیٹتے ، مصافحہ کرنے لگے ۔
داروغہ نے تاجر سے پوچھا " جناب یہ کیا ہے ،
تاجر نے کہا کہ یہ میرے رشتہ دار ہیں ۔ دراصل میں بھی خانہ بدوش ہوں ۔ اب خدا نے مجھ پر فضل کیا ہے تو میں انھیں بھی یاد رکھتا ہوں اور پر سال میں کم از کم دو بار ان کی دعوت کرتا ہوں ۔
کیوں داروغہ کو بہت غصہ آیا ۔ اس نے تاجر سے کہا تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تم خانہ بدوشوں میں ہو؟ لاحول ولا قوة ، میری لڑکی اور خانہ بدوشوں میں جائے ۔ تم ابھی لڑکی کو طلاق دو ۔
جناب یہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔ تاجر نے کہا ۔ اسی رشتے سے تو میری عزت افزائی ہے ۔
اس نے کہا شادی پر جو کچھ خرچ ہوا ہے میں دینے کے لیے تیار ہوں ۔
تاجر راضی نہ ہوا ۔
اچھا ڈبل رقم لے لو۔ داروغہ نے تاجر سے کہا۔
اب تاجر نے ہامی بھری ۔ اور لڑکی کو طلاق دے دی۔
اگلے روز وہ لوہار کے گھر پہنچا۔ اور شادی کی تجویز رکھی مگر اس شرط پر کہ میں پہلے لڑکی دیکھوں گا۔
لوہار نے کہا جناب ایسی شرط کیوں ۔ ہمارے یہاں یہ چلن نہیں ہے
تاجر نے کہا " میں بن دیکھے شادی نہیں کر سکتا ۔ چاہو تو مجھ سے
ڈبل رقم لے لو ۔
لوہار کی برادری کا ایک اور شخص قریب ہی بیٹھا تھا اس نے کہا ۔ " ٹھیک ہے ۔ ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔ ہماری لڑکی کوئی لولی لنگڑی تھوڑی ہے جو ہم لڑکی دکھانے سے گھبرائیں"
لوہار نے نے لڑکی کو آواز دی ۔
تاجر نے دیکھا یہ وہی لڑکی ہے۔ وہ اسے دیکھ کر ہنسنے لگی ۔ تاجر نے اس لڑکی سے شادی کرلی اور دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے۔
06/06/2026
آخری بس۔۔ ایک سنسنی خیز کہانی (مکمل کہانی)
کراچی سے حیدرآباد جانے والی رات کی آخری بس ہمیشہ کی طرح مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ گرمی کا موسم تھا، مگر رات کی ہوا میں ہلکی خنکی شامل ہو چکی تھی۔ بس کے اندر پنکھے چل رہے تھے، مگر پھر بھی پسینے اور ڈیزل کی ملی جلی بو ماحول میں پھیلی ہوئی تھی۔
وقاص کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا باہر اندھیرے میں گزرتی روشنیوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ پچیس سال کا نوجوان تھا اور ایک نجی کمپنی میں ملازم تھا۔ دو دن پہلے اسے اطلاع ملی تھی کہ اس کے والد کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے، اسی لیے وہ جلدی جلدی کراچی سے اپنے گاؤں جا رہا تھا۔
بس میں مختلف قسم کے لوگ بیٹھے تھے۔ کوئی موبائل پر بات کر رہا تھا، کوئی اونگھ رہا تھا، اور کچھ لوگ خاموشی سے سفر کر رہے تھے۔
وقاص کے برابر والی سیٹ پر ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا۔ اس نے سادہ شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور بار بار بے چینی سے اپنی گھڑی دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کالا بیگ تھا جسے وہ کسی قیمتی چیز کی طرح سنبھالے ہوئے تھا۔
کچھ دیر بعد بس ایک ہوٹل پر رکی۔
کنڈکٹر نے آواز لگائی، “پندرہ منٹ کا اسٹاپ ہے۔ چائے پانی کرلیں۔”
لوگ اترنے لگے۔ وقاص بھی چائے لینے باہر چلا گیا۔
ہوٹل کے باہر ہلکی روشنی تھی۔ چند ٹرک ڈرائیور چارپائیوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ وقاص ابھی چائے کا کپ ہاتھ میں لے کر کھڑا ہی ہوا تھا کہ اس کی نظر بس کے قریب کھڑے دو آدمیوں پر پڑی۔
دونوں دھیمی آواز میں بات کر رہے تھے۔
“پکا یہی آدمی ہے؟”
“ہاں، کالا بیگ اسی کے پاس ہے۔”
وقاص نے بے اختیار ان کی طرف دیکھا، مگر دونوں فوراً خاموش ہو گئے۔
اسے عجیب سا احساس ہوا، مگر اس نے زیادہ توجہ نہ دی۔
پندرہ منٹ بعد بس دوبارہ روانہ ہو گئی۔
کچھ دیر بعد زیادہ تر مسافر سو چکے تھے۔ بس اب سنسان سڑک پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ باہر مکمل اندھیرا تھا۔
اچانک…
ڈرائیور نے زور سے بریک لگائی۔
بس جھٹکے سے رکی اور کئی مسافر گھبرا کر جاگ گئے۔
“کیا ہوا؟” کسی نے پوچھا۔
سامنے سڑک پر ایک سفید کار ترچھی کھڑی تھی۔
اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا، تین مسلح آدمی بس میں داخل ہو گئے۔
“سب لوگ خاموش رہیں!” ایک ڈاکو چیخا۔
بس میں خوف پھیل گیا۔ عورتیں سہم گئیں۔ ایک بچہ رونے لگا۔
ڈاکو ایک ایک مسافر سے موبائل اور پیسے لینے لگے۔
وقاص کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
اسی دوران ایک ڈاکو کی نظر اس شخص پر پڑی جس کے پاس کالا بیگ تھا۔
وہ فوراً اس کے قریب گیا۔
“بیگ دے!”
آدمی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
“اس میں کچھ نہیں…”
“میں نے کہا بیگ دے!”
اس شخص نے بیگ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
اچانک دوسرے ڈاکو نے پستول سیدھا اس کے سر پر تان دیا۔
بس میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
پھر…
دھماک!!!
گولی چل گئی۔
ایک عورت چیخ پڑی۔
وقاص کے کان سن ہونے لگے۔
جس آدمی کے ہاتھ میں بیگ تھا، وہ سیٹ سے نیچے گر چکا تھا۔
اس کے سینے سے خون بہہ رہا تھا۔
ڈاکو فوراً بیگ اٹھا کر نیچے اترنے لگے، مگر جاتے جاتے زخمی آدمی نے وقاص کا ہاتھ پکڑ لیا۔
اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی۔
وہ بمشکل بولا:
“یہ… بیگ… واپس… مت جانے دینا…”
اور پھر اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی چابی نکال کر وقاص کے ہاتھ میں رکھ دی۔
اگلے ہی لمحے اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔
وہ مر چکا تھا۔
وقاص ابھی سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ اسے احساس ہوا…
ڈاکو بس سے جاتے ہوئے کالا بیگ تو لے گئے تھے۔
مگر وہ چھوٹی چابی… اب اس کے ہاتھ میں تھی۔
اور بس کے آخری حصے میں بیٹھا ایک اجنبی شخص مسلسل اسے گھور رہا تھا…
قسط دوم: چابی کا راز
بس میں خوف اور بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ کچھ لوگ زخمی آدمی کو دیکھ رہے تھے، کچھ خاموش بیٹھے تھے۔ ڈرائیور نے قریب کے پولیس اسٹیشن جانے کے لیے بس دوبارہ چلائی۔
وقاص کے ہاتھ پسینے سے بھر چکے تھے۔
اس نے آہستہ سے اپنی مٹھی کھولی۔
وہی چھوٹی سی چابی۔
عام چابیوں سے مختلف… اس پر صرف ایک نمبر لکھا تھا:
“47”
وقاص نے فوراً چابی جیب میں ڈال لی۔
اسے بار بار احساس ہو رہا تھا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔
اس نے نظر اٹھائی۔
بس کے آخری حصے میں بیٹھا وہ اجنبی آدمی اب بھی اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔
کچھ دیر بعد بس پولیس اسٹیشن پہنچی۔ بیان لیے جانے لگے۔ ہر مسافر پریشان تھا۔ وقاص نے چابی کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتایا۔
صبح ہونے کے قریب بس دوبارہ روانہ ہوئی۔
اب بس میں پہلے جیسا شور نہیں تھا۔ ہر کوئی خاموش تھا۔
وقاص نے سوچا شاید معاملہ ختم ہو گیا ہے۔
مگر جب وہ اگلے اسٹاپ پر اترا تو اسے محسوس ہوا کہ وہی اجنبی آدمی بھی اس کے پیچھے اترا ہے۔
وقاص تیز چلنے لگا۔
آدمی بھی پیچھے آنے لگا۔
وقاص کا دل گھبرانے لگا۔ وہ سیدھا ایک چائے کے ہوٹل میں داخل ہو گیا۔ آدمی بھی کچھ فاصلے پر رک گیا۔
تبھی وقاص کے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی۔
“ہیلو؟”
دوسری طرف سے دھیمی آواز آئی:
“اگر زندہ رہنا چاہتے ہو تو وہ چابی کسی کو مت دینا۔”
وقاص چونک گیا۔
“آپ کون بول رہے ہیں؟”
“جس آدمی کو کل رات قتل کیا گیا… وہ میرا بھائی تھا۔”
وقاص خاموش رہ گیا۔
آواز دوبارہ آئی:
“اس بیگ میں پیسے نہیں تھے۔ وہ کچھ فائلیں تھیں… ایسے لوگوں کے خلاف، جو بہت طاقتور ہیں۔”
“اور یہ چابی؟”
“ریلوے اسٹیشن کے لاکر نمبر 47 کی چابی ہے۔”
وقاص کے ہاتھ کانپ گئے۔
“پولیس کے پاس کیوں نہیں جاتے؟”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر آواز آئی:
“کیونکہ ہمیں نہیں معلوم پولیس میں کون ان لوگوں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔”
کال کٹ گئی۔
وقاص گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
وہ سیدھا ریلوے اسٹیشن پہنچا۔
پرانے لاکر روم میں واقعی نمبر 47 موجود تھا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے چابی لگائی۔
کلک…
لاکر کھل گیا۔
اندر ایک فائل، چند تصاویر اور ایک یو ایس بی پڑی تھی۔
وقاص ابھی چیزیں دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے آواز آئی:
“بہت غلطی کر دی تم نے۔”
وقاص نے چونک کر مڑ کر دیکھا۔
وہی اجنبی آدمی دروازے پر کھڑا تھا۔
اس کے ہاتھ میں پستول تھا۔
“فائل مجھے دو۔”
وقاص کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔
“یہ سب کیا ہے؟”
آدمی آہستہ سے مسکرایا۔
“کچھ راز… راز ہی رہیں تو بہتر ہوتا ہے۔”
اسی لمحے باہر سے پولیس سائرن کی آواز سنائی دی۔
اجنبی آدمی ایک لمحے کے لیے گھبرایا۔
وقاص نے موقع دیکھ کر فائل اٹھائی اور پوری طاقت سے اسے دھکا دیا۔
پستول زمین پر گر گئی۔
وقاص تیزی سے باہر کی طرف بھاگا۔
پیچھے آدمی چیخ رہا تھا۔
چند منٹ بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔
بعد میں پتا چلا کہ مقتول شخص ایک صحافی تھا، جو ایک بڑے غیر قانونی نیٹ ورک کے خلاف ثبوت جمع کر رہا تھا۔ ڈاکو اصل میں عام لٹیرے نہیں، بلکہ اسی گروہ کے لوگ تھے۔
وقاص کئی دن تک اس واقعے کو بھول نہ سکا۔
اسے آج بھی یاد تھا…
اگر اُس رات مرنے والا شخص آخری لمحے میں وہ چابی اسے نہ دیتا…
تو شاید سچ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Downtown Miami
Miami, FL