Catty Bee

Catty Bee

Share

06/05/2026

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا میں 3 کروڑ 20 لاکھ بیکٹیریا سے متاثرہ مچھر چھوڑنے جا رہی ہے اور اس عمل پر ماہرین بالکل بھی تعجب میں نہیں ہیں۔
گوگل، اپنی دہائی پرانے مگر کم معروف پروگرام 'ڈی بگ' کے ذریعے، سافٹ ویئر انجینئرز، حیاتیات دانوں، خصوصی کیڑوں کی افزائش کرنے والے روبوٹس، اور مصنوعی ذہانت کی مہارت کو یکجا کرتے ہوئے مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کو کم کرنے پر کام کررہا ہے

گزشتہ برس کمپنی نے ایک تجرباتی استعمال کا اجازت نامہ فائل کیا تھا جو وفاقی رجسٹر میں درج ہے تاکہ مچھروں کو وولبیکیا پائپنٹِس بیکٹیریا کی مخصوص قسم کے ساتھ انجیکشن دیا جا سکے اور مچھروں کی افزائش کو روکا جائے۔

ڈیبگ ویب سائٹ کے مطابق مچھروں کے ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر یہ کام نہیں کیا جا سکا ہے کہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روک سکیں۔ مچھر نازک ہوتے ہیں اور ضروری تعداد میں پالنا مشکل ہوتا ہے۔ ڈیبگ کے ساتھ کمپنی نئی ٹیکنالوجیز تیار کررہی ہے

05/16/2026

اگر کوئی آپ کو بتائے کہ ایک مرغی کی قیمت لاکھوں روپے ہو سکتی ہے اور اس کا ایک انڈا بھی ہزاروں روپے میں فروخت ہوتا ہے تو شاید یقین کرنا مشکل ہو، مگر حقیقت میں دنیا میں ایک ایسی نایاب مرغی موجود ہے جس کی قیمت سن کر لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔

انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی نایاب نسل ایام سلیمانی مرغی کو دنیا کی مہنگی ترین مرغیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس منفرد پرندے کی خاص پہچان اس کا مکمل سیاہ رنگ ہے۔ صرف اس کے پر ہی نہیں بلکہ گوشت، ہڈیاں، جلد اور یہاں تک کہ انڈے بھی سیاہی مائل خصوصیات رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے اسے ’’مرغیوں کی لیمبورگینی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اس غیر معمولی رنگت کے پیچھے fibromelanosis نامی جینیاتی کیفیت کارفرما ہوتی ہے، جس کے باعث اس کے جسم میں میلانین کی مقدار عام مرغیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔
ایام سلیمانی مرغی نہ صرف اپنی منفرد شکل بلکہ غذائی خصوصیات کے باعث بھی خاص مقام رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے گوشت میں عام برائلر کے مقابلے میں زیادہ پروٹین، کم چکنائی اور اینٹی آکسیڈنٹس کی بہتر مقدار پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے کئی لوگ اسے سپر فوڈ تصور کرتے ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں اعلیٰ نسل کی ایک ایام سلیمانی مرغی کی قیمت تقریباً 5 سے 6 ہزار امریکی ڈالر تک جا پہنچتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 14 سے 17 لاکھ روپے بنتی ہے، جبکہ اس کا ایک انڈا بھی 4 سے 5 ہزار روپے میں فروخت ہوتا ہے۔

انڈونیشیا میں اس نایاب نسل کو محض ایک پرندہ نہیں بلکہ روحانی اور ثقافتی اہمیت بھی حاصل ہے، جہاں بعض روایتی رسومات میں اسے مقدس سمجھا جاتا ہے۔

اس نسل کی افزائش نہایت مشکل سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ کم انڈے دیتی ہے اور اس کی افزائش کے لیے خاص حالات درکار ہوتے ہیں، یہی عوامل اسے دنیا کی مہنگی ترین مرغیوں میں شامل کرتے ہیں۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Chicago?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


7006 S Rhodes Avenue
Chicago, IL