Create By Amir

Create By Amir

Share

14/02/2026

ایک # پاکستانی فوجی کا بیٹا بنگلہ دیش میں کیسے جیت گیا؟
بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم طارق رحمان کون ہیں؟

اپنی زندگی کے 17 قیمتی سال ملک سے باہر کیوں گزارے؟

وہ 20 نومبر 1965ء کوڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے ابتدائی و کالج کی تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی۔
ڈھاکہ یونیورسٹی سے International Relations میں گریجویشن کیا۔

ان کے والدین دونوں اہم شخصیات رہ چکے ہیں:
1):
والد ضیاء الرحمان نے پی ایم اے 1953ء میں پاک فوج جوائن کی۔
پھر 65 کی جنگ بھی لڑی۔ جس پہ انہیں ہلال جرات بھی دیا گیا۔
مگر 71ء میں انہوں نے مشرقی پاکستان کا ساتھ دیا، علیحدہ ہوئے۔
پھر وہ 1977ء میں بنگلہ دیش کے صدر بنے۔
مگر بعد میں انہیں ق-تل کردیا گیا تھا۔

2):
دلچسپ بات یہ کہ انکی والدہ خالدہ ضیاء بھی دو مرتبہ وزیرِاعظم بن چکی ہیں:

1): سال 1991ء سے سال 1996ء تک
2): سال 2001ء سے 2006ء تک

انہوں نے 1994ء کو ڈاکٹر زبیدہ رحمان سے شادی کی۔
جنہوں نے بنگلہ سول سروس بھی پاس کیا ہوا ہے۔
ان کی بیٹی ضائمہ رحمان وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں۔

انکی پارٹی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی ہے۔
جبکہ عوامی لیگ ان کے مخالف رہی ہے۔

سال 2008ء میں مخالف پارٹی کے جیتنے کے بعد خودساختہ ملک بدر ہوئے۔
کیونکہ ان پہ کرپشن بالخصوص منی لانڈرنگ کے کیسسز بھی رہ چکے ہیں۔
اور 2025ء تک وہ واپس نہیں آئے کہ انہیں گرفتار کردیا جائے گا۔

کہا جارہا ہے کہ 12 فروری الیکشن میں انہوں نے 300 میں
سے 210 سیٹیں جیتی ہیں جو کہ کافی ہیوی مارجن ہوتا ہے۔

اور یہ عموما جمہوری نظام کے لیے خوش آیند ہوتا ہے۔
وگرنہ دیگر پارٹیاں اپنی بات منوانے کے لیے بلیک میل کرتی ہیں۔

(یاد رہے کہ حتمی سرکاری نتائج میں کم سیٹیں فائنل ہوسکتی ہیں۔)

کیا طارق رحمان کی زندگی ایک پاکستانی اہم سیاستدان سے ملتی ہے؟
اورپاکستان بنگلہ تعلقات میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے؟

شکریہ
بلال مختار
آسٹریلیا

11/02/2026

عظیم سلطنت عثمانیہ کہ آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید کا آخری صفر
fb ゚

Photos from Create By Amir's post 07/02/2026

لیبیا #کے سابق سربراہ معمر قذافی کے صاحبزادہ سیف الاسلام قذافی کی نمازہ جنازہ ادا کردی گئی۔

سیف الاسلام قذافی کی نماز جنازہ لیبیا کے شہر بنی ولید میں ادا کی گئی جس میں قبائلی عمائدین سمیت ہزاروں لیبیائی شہری شریک ہوئے۔

سیف الاسلام قذافی کی تدفین بنی ولید میں ان کے بھائی اور چچا کے پہلو میں کی گئی۔

17/01/2026

سو سے زائد مساجد بنوانے والے
جاگیردار منشی میاں فتح دین ارائیں
جب لائل پور(فیصل آباد) کے نام سے نیا شہر بسایا گیا تو اس کی آبادکاری کے لیے جن شخصیات نے اہم کردار ادا کیا، ان میں میاں فتح دین ارائیں کانام بہت نمایاں ہے۔ انہوں نے فیصل آباد اور نواحی علاقوں میں سو سے زائد مساجد، مدارس، سکول، کالج اور دیگر فلاحی ادارے قائم کئے۔ 1896 میں لائل پور کی آبادکاری کے لیے برطانیہ کی حکومت نے میاں فتح دین سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا کیونکہ وہ جالندھرکے بڑے زمیندار تھےاور ان کے بڑے بیٹے میاں برکت اللہ ارائیں جالندھر سمیت پانچ اضلاع کے ذیلدار اور آنریری مجسٹریٹ تھے۔
سرگنگا رام اور منشی صاحب آپس میں بہت اچھے دوست تھے۔ برٹش حکومت نے سرگنگا رام کو درخواست کی کہ آپ منشی میاں فتح دین کو درخواست کریں کہ ہماری مدد کریں ہم نے نیا شہر بنانا ہے۔ سر گنگا رام نے منشی صاحب کو رضامند کر لیا اور پھر وہ 1900 میں فیصل آباد پہنچے۔مقامی لوگ انہیں منشی فتح دین کے نام سے یاد کرتے ہیں ،
لائل پور آنے کے بعد منشی میاں فتح دین نے سب سے پہلی مسجد عبداللہ پور میں اپنے گھر کے پاس بنائی تھی جس کے ساتھ شہر کا پہلا دارالعلوم بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ فیصل آباد میں منشی فتح دین 101 مربع اراضی کے مالک تھے جبکہ ملحقہ شہروں گوجرہ، جڑانوالہ، تاندلیانوالہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ وغیرہ میں بھی ان کے پاس کافی اراضی تھی جو انہوں نے انگریز حکومت سے نیلامی میں خریدی تھی۔جہاں جہاں زمینیں تھیں ان شہروں کی جامع مساجد، مرکزی عید گاہیں، یتیم خانے اور متعدد قبرستان منشی صاحب نے وہاں پر عطیہ کیے۔لائل پور میں انجمن اسلامیہ کی بنیاد بھی منشی فتح دین نے رکھی تھی ۔اس کے زیر انتظام اسلامیہ کالج، اسلامیہ سکول، طارق آباد میں آدھ مربع کے وسیع رقبے پر محیط سکول بھی منشی فتح دین کا عطیہ ہے اور پھر اس کے ساتھ ایک یتیم خانہ بنایا۔ ریلوے روڈ پر واقع مرکزی چرچ اور اس سے ملحق سیکرڈ ہارٹ کانونٹ سکول کی اراضی بھی منشی فتح دین ، میاں برکت اللہ اور ان کے بھائیوں نے عطیہ کی تھی۔ جب کچہری بازار والی مسجد کی جگہ نیلام ہو رہی تھی تو وہ اپنے خچر پر وہاں پہنچے اور انہوں نے انگریز سے کہا کہ آپ نے جتنے پیسوں میں بھی دینی ہےمیرے نام ڈال دیں ۔ آج کچہری بازار کی جامع مسجد کے ساتھ کم و بیش اربوں روپے کی دکانیں ہیں ، ان کی ساری آمدن مسجد کو جاتی ہے۔ آج فیصل آباد کے وزٹ کے موقع پر 1911ء میں منشی فتح دین کے ہاتھوں سے بنائی ہوئی فیصل آباد کی پہلی مسجد اور دارالعلوم بھی دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
پروردگار عالم منشی فتح دین کو اعلیٰ ترین جنتوں میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے آمین
ان کی آخری آرام گاہ حلال روڈ پر بوہڑ چوک کے قریب جامع مسجد فتح دین سے ملحق ان کے آبائی قبرستان میں ہے۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Istanbul?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Istanbul Türkiye
Istanbul
34000