Golden Words
02/10/2023
جرمنی نے اپنے لیڈر کو الوداع کہہ دیا۔
وہ اپنی بالکونی پر باہر آئی اور پورے ملک میں 6 منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں گئیں۔
اقتدار کے 16 سالوں میں اینجلا مرکل نے اپنے کسی بھی رشتہ دار کو ریاستی عہدے پر تعینات نہیں کیا۔
اس نے رئیل اسٹیٹ ، کاریں, پلاٹ اور نجی طیارے نہیں خریدے سولہ سال تک ، اس نے اپنی الماری کا انداز کبھی نہیں بدلا۔
ایک پریس کانفرنس میں ، ایک صحافی نے میرکل سے پوچھا: '' ہمیں احساس ہے کہ آپ نے وہی سوٹ پہنا ہوا ہے ، کیا آپ کے پاس دوسرا نہیں ہے؟ '' اس نے جواب دیا: "میں سرکاری ملازم ہوں ، ماڈل نہیں۔
پھر ایک اور صحافی نے پوچھا: "کپڑے دھونے کا کام کون کر رہا ہے ، آپ یا آپ کے شوہر؟" اس کا جواب تھا: "میں کپڑے ٹھیک کرتی ہوں اور میرا شوہر واشنگ مشین چلاتا ہے۔"
ایک اور پریس کانفرنس میں ، انہوں نے اس سے پوچھا:
"کیا آپ کے پاس ایک گھریلو ملازمہ ہے جو اپنا گھر صاف کرتی ہے ، کھانا تیار کرتی ہے ، وغیرہ۔" اس کا جواب تھا: "نہیں ، میرے کوئی نوکر نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی ضرورت ہے، میں اور میرے شوہر معمول کے کام خود گھر پر کرتے ہیں.
محترمہ میرکل کسی دوسرے شہری کی طرح ایک عام اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں، وہ جرمنی کی چانسلر منتخب ہونے سے پہلے جس اپارٹمنٹ میں رہتی تھیں، اس نے اسے آج تک نہیں چھوڑا، نہ ہی بدلا اور وہ ایک بھی ولا ، مکانات ، تالاب ، باغات کی مالک نہیں ہے۔
یورپ کی سب سے بڑی معیشت کی چانسلر انجیلا میرکل ہمیشہ اقدار ، بے لوث اصولوں، حقائق اور ہمدردی سے چلنے والی قیادت کی عظیم مثال رہیں گی۔
Al-Marsad newspaper – SPA: Today, the Ministry of Interior issued a statement regarding the implementation of the death sentence as a retaliation against one of the perpetrators in the Najran region.
07/09/2023
یہ ہوتا ہے انصاف۔۔
ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔
جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"
"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔
"کیوں؟"
"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔
"خرید لیتے"
"پیسے نہیں تھے"
"گھر والوں سے لے لیتے"
"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"
"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"
"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"
"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"
"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"
جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔
"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔
"اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"
فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"
فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔
("کفر" کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں)۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Riyadh