Nafs e Islam
18/11/2021
علماء فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا اپنی امت کے معاملے میں اندیشے کا اظہار کرنا اس وجہ سے تھا کہ کہیں دنیا کی محبت ان کے دل میں نہ بیٹھ جائے، دنیا کی خوبصورتی ان کو اپنی طرف کھینچ نہ لے. مال کی کثرت کہیں انہیں اعمالِ صالحہ سے نہ روک دے اور انہیں علوم نافعہ یعنی قرآن و حدیث اور فقہ کے علم سے غافل نہ کر دے، اور پھر وہ ان اسباب میں مبتلا ہو جائیں جو دین میں بگاڑ کی طرف لے جانے والے ہوں۔ عام مشاہدہ بھی یہی ہے کہ غریبی میں خدا یاد رہتا ہے اور امیری میں بھول جاتا ہے۔ (دلیل الفالحین، مرقاۃ المفاتیح و مرآۃ المناجیح)
30/10/2021
یعنی گزشتہ امتوں کی آزمائشیں مختلف چیزوں سے ہوئیں، میری امت کی سخت آزمائش مال سے ہوگی۔ رب تعالیٰ مال دے کر آزمائے گا کہ یہ لوگ اب میرے رہتے ہیں یا نہیں! اکثر لوگ اس امتحان میں ناکام ہوں گے کہ مال پا کر غافل ہو جائیں گے۔ اس کا تجربہ برابر ہو رہا ہے، اکثر قتل و غارت، غفلت اور مال کی وجہ سے ہوتا ہے اور تقریباً ستر فیصد گناہ مال کی بنا پر ہوتے ہیں۔ (مرآۃ المناجیح، جلد ۷، صفحہ ۹۲)
23/10/2021
یہ بھی فقط سمجھانے کے لیے ہے ورنہ فانی اور متناہی کو باقی غیر فانی غیر متناہی سے وجہ نسبت بھی نہیں جو بھیگی انگلی کی تری کو سمندر سے ہے۔ خیال رہے کہ دنیا وہ ہے جو اللہ سے غافل کر دے۔ عاقل عارف کی دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے اس کی دنیا بہت ہی عظیم ہے۔ غافل کی نماز بھی دنیا ہے جو وہ نام نمود کے لیے کرتا ہے۔ عاقل کا کھانا پینا سونا جاگنا بلکہ جینا مرنا بھی دین ہے کہ حضور ﷺ کی سنت ہے۔ مسلمان اس لیے کھائے پیے سوئے جاگے کہ یہ حضور ﷺ کی سنتیں ہیں۔ حیاۃ الدنیا اور چیز ہے، حیوۃ فی الدنیا اور، حیاۃ للدنیا کچھ اور یعنی دنیا کی زندگی، دنیا میں زندگی، دنیا کے لیے زندگی، جو زندگی دنیا میں ہو مگر آخرت کے لیے ہو دنیا کے لیے نہ ہو وہ مبارک ہے۔ کشتی دریا میں رہے تو نجات ہے اور اگر دریا کشتی میں آجائے تو ہلاکت ہے۔ (مرآۃ المناجیح، جلد ۷، صفحہ ۳)
16/10/2021
حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ﷺ نے حضرت سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: اے براء! آدمی جب اپنے بھائی کی اللہ کے لیے مہمانی کرتا ہے اور اس کی کوئی جزا اور شکریہ نہیں چاہتا تو اللہ اس کے گھر میں دس فرشتوں کو بھیج دیتا ہے جو پورے ایک سال تک اللہ کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر پڑھتے ہیں اور اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور جب سال پورا ہو جاتا ہے تو ان فرشتوں کی پورے سال کی عبادت کے برابر اس کے نامۂ اعمال میں عبادت لکھ دی جاتی ہے اور اللہ کے ذمۂ کرم پر ہے کہ اس کو جنت کی لذیذ غذائیں جنتِ خُلد اور نہ فنا ہونے والی بادشاہی میں کھلائے۔ (كنزالعمال، كتاب الضيافة، الجزء التاسع، جلد ۵، صفحہ ۱۱۹، حديث ۲۵۹۷۲)
15/10/2021
حیا تو ایسا وصف ہے کہ جتنا زیادہ ہو خیر ہی بڑھاتا ہے. بلاشبہ، نورِ ایمان جتنا زیادہ ہوگا شرم و حیا بھی اسی قدر پروان چڑھے گی. آقا کریم ﷺ نے فرمایا: حیا ایمان سے ہے. (مسند ابی یعلیٰ، جلد ٦، صفحہ ٢٩١، حدیث ٧٤٦٣)
وہ لوگ جو مخلوط محفلوں (جہاں مرد و عورت میں بے پردگی ہوتی ہو)، مکمل بدن نہ ڈھانپنے والے لباس، روشن خیالی اور مادر پِدر آزادی جدت و ترقی کا زینہ سمجھ کر انہیں فروغ دیتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ ان میں نورِ ایمان کتنا کم ہو گیا ہے؟ والعیاذ باللہ تعالی!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Medina