Ataullah Makki
"الألقاب ليست سوى وسام للحمقى،
والرّجال العظام ليسوا بحاجة لغير أسمائهم."
- لقمان الحكيم-
نئے فارغین کو اولا اپنے علم میں رسوخ، مطالعہ میں وسعت،فہم وادراک میں سنجیدگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے.
بقول استاذ محترم حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری - رحمة الله عليه رحمة واسعة - سابق شیخ الحدیث دا رالعلوم دیوبند :
" بیس سال خوب مطالعہ کرو اور پڑھو اور بیس سال تدریس میں دماغ کھپاؤ تب جاکر علم کی تھوڑی سی بو آنی شروع ھوگی" .
ان کے یہاں حدیث میں ہر کسی کو اجازت خاصہ دینے کا رواج ہی نہیں تھا. البتہ دورہ کے سال میں اجازت عامہ دیتے تھے طلباء کو ان کی مجبوری تھی.
جب تک کہ یہ معلوم نہ ہوجائے 25 سال تک وہ حدیث کی کتابیں پڑھا رھے ہیں، اپنے مشائخ کے طرق سے اجازت حدیث نہیں دیتے.
ایک طرف تو یہ بات اور اس قدر اھتمام ہے .
دوسری طرف دیوبند ہی کے چند فارغین اسی گلشن علمی کے خوشہ چیں، وہیں کےپروردہ، ایسی اوٹ پٹانگ حرکت کرتے ہیں. کہ اہل علم انگشت بدنداں ہیں،
اور آئے روز سبکی اٹھانی پڑتی ہے. حلقہ یاراں میں شرمندگی محسوس ھوتی ہے.
یہ کیسی جرأت بیجا ہے کیا حقیقت میں یہ چند سال میں علامہ بن گئے.؟؟؟
عین ممکن ھے بعض لوگ بن بھی گئے ہوں گے.
جب گوگل شیخ بن سکتا ھے. انٹر نیٹ علامہ کہا جا سکتا ھے. جب کہ ان کے اندر عقل نہیں ھے نقل ھے.
تو صاحب عقل وخرد کیلئے کیا تعجب ھے.
جب ایک روبوٹ تمام کام کرسکتا ھے کئی زبانوں کے ماہر بن. سکتے ہیں.
تو کسی ادارے کے فارغین کیوں نہیں.!!!!؟ ؟؟؟
ممکن ھے سرجری کا زمانہ ھے کوئی چیپسchips ان کے ذہن میں کوئی سیٹ کردیا گیا ہو.
اس کا بھی امکان ہےکہ کوئی علم کا انجکشن نکلا ہو.
کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ رات میں کسی کھیتی میں دوا چھڑکنے سے صبح صبح سبزیاں بیچنے کے قابل ھوجاتی ھیں.
ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ پولٹری فارم میں انجکشن کے ذریعے چوزہ ایک ہی ھفتے میں ایک کلو کا ھو جاتاھے..
ہاں ہاں ایسا ممکن ھے. آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں.
یہ کیسا دور آگیا کہ ہر کوئی اپنے لیے ایسے القاب کا از خود انتخاب کرتا ہے یا اس طرح کے کرنے پر خوش ہوتا ہے.
ظاہر سی بات ہیکہ ادارہ اس سے بریء ہے.
قدیم علماء اپنے لیے اداب والقاب استعمال کرنے میں خود احتیاط سے کام لیتے تھے.
اب تو فراغت کے بعد ایک عشرہ گزرا نہیں تو کوئی خطیب العصر اور تو کوئی علامہ تو کوئی قاضی القضاہ تو کوئی اسلامی پروفیسر، تو کوئی مفسر قرآن،
تو کوئی اسلامی اسکالر.....
تعجب ہے کہ ابھی چند سال ہی عملی میدان میں گزارے ہیں.
واقعتا یہ القاب کا استعمال بر محل نہیں ھوسکتا.
میرے بزرگو، دوستو اور وقت کے نوجوانوں.
آپ وقت سے پہلے..... نہ.....
ایک وقت آئیگا کہ زمانہ خود آپ کو القاب سے نوازے گا.
تھوڑا صبر کیجیے، کچھ وقت کام میں، علمی خدمات میں صرف کیجیے.
اللہ آپ کو نوازے گا. زمانہ آپ کی قدر کریگا، آپ بن سکتے ہیں علامہ، آپ بن سکتے ہیں خطیب العصر آپ بن سکتے ہیں اسلامی اسکالر، آپ بن سکتے ہیں اسلامی پروفیسر، آپ بن سکتے ہیں وقت کے امام، آپ بن سکتے ہیں مجدد ملت، آپ بن سکتے ہیں فقیہ وقت، آپ بن سکتے ہیں شیخ الاسلام، آپ بن سکتے ہیں مفکر اسلام. آب بن سکتے ہیں حکیم الاسلام.
آپ کے لیے القا ب و آداب کم پڑ سکتا ھے.
آپ وقت کے ولی بن سکتےہیں. کہ کوئی خدا کا باغی و سرکش دیکھے تو وہ ہدایت ان کا مقدر بن جائے.
آپ جس قوم کو خطاب کریں وہ آپ کی پکار پر گوش بر آواز ہو جائے،
آپ کے محبین و منتسبین کی تعداد لاکھوں نہیں کڑوڑوں میں ھوسکتے ہیں k ہی نہیں M تک پہنچ سکتے ہیں.
پہلے آپ اس قابل بنیئے، اس قدر زمانہ کی آنکھوں میں آنکطیں ڈال کر باتیں کرنے والا بنئیے.
ابھی بھی زمانہ آپ کا منتظر ہے. اس کیلئے آپ اولا.
اپنے معاصرین علماء ہی کے چند کتابیں مطالعہ کرلیجیے.
کوئی آپ پر تنقید نہیں. آپ کی تنقیص نہیں کرتا ہے.
آپ اپنے گریبان میں جھانکیں کہ
علامہ کا لفظ، خطیب العصر کا لفظ، اسلامی پروفیسر کا لفظ، ابھی زیر تعلیم ہی ہے ان کیلئے مفسر قرآن کا لفظ.
کیا نئے فارغین کیلئے موضوع ہے. یا ایک یہ ایک مضحکہ خیز بات ہوی.
اللہ تعالی ہم سب کو فہم سلیم عطاء فرمائے.
اور اخلاص و للّہیت کے ساتھ علم وعمل اور قوم کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے.
ع ق م
17/03/2023
از قلم :محمد كليم أختر القاسمي
☆باسمه سبحانه وتعالى☆
الحمدلله حمداً كثيراً طيّباً مباركاً فيه،
والصلاة والسلام الأتمّان الأكملان على نبيّنا وحبيبنا محمد المصطفَى وعلى آله وصحبه أجمعين.
آج بتاریخ 24 شعبان المعظم 1444ھ۔ مطابق 16 مارچ 2023م۔ شب جمعہ
*جمعية عبدالله بن مسعود- رضي الله عنه- کی طرف سے معروف عالم دین مؤلف كتب كثيره حضرت مولانا خالد سیف اللہ قاسمی گنگوہی/ زید مجدہم شیخ الحدیث و مہتمم جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ ضلع سہارن پور یوپی الہند کے اعزاز میں ایک استقبالیہ مجلس کا انعقاد کیا گیا*
مجلس کا باضابطہ آغاز عزیزالقدر یاسر فیروز مکی سلمه الله کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔
بعدہ مولانا محمد عطاء اللہ داؤد قاسمی صاحب نے مہمانان کرام کے سامنے جمعيت کا مختصر و جامع تعارف پیش فرمایا، ، پھر مہمان محترم نے اخلاص و فضل علم و علماء پر جامع و پرمغز خطاب فرمایا،
اسی مجلس میں جامعه أم القری مکه مكرمه میں مقبول نو وارد طالب مولانا سعد اشتیاق قاسمی مئوى کا استقبال اور مہمان محترم کے دست مبارک سے جمعية کی طرف سے حقيبه پیش کیا گیا،
اور مہمان ذی وقار حضرت مولانا خالد سیف اللہ قاسمی صاحب کو ان کی علمی دینی ملی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ پیش کیا گیا۔
میزبان محترم حضرت مولانا فیروز صاحب قاسمی کی طرف سے شاندار و پرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔
شرکاء مجلس میں جناب مولانا مفتی محمد شمیم اختر القاسمی، مفتی محمد شاھد حسین قاسمی، مولانا مفتی محمد عطاء اللہ داؤد قاسمی، ابو مسعود مولانا مشتاق عالم ندوی، مولانا نظام الدین بن محیی الدین قاسمی، مولانا ساجد انصاری ندوی، مولانا اظہرالدین قاسمی، مولانا حذیفہ بن مولانا خالد سیف اللہ قاسمی، مولانا سعد اشتیاق قاسمی اور راقم الحروف محمد کلیم اختر وغیرہم شامل تھے،
عشائیہ کے بعد مہمان مکرم کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.