Saudi Life With Asad

Saudi Life With Asad

Share

16/06/2026

لوہے کے پنجرے میں قید سر.... !!
2013ء میں ترکیہ کا ایک عام سا آدمی اچانک غیر معمولی بن گیا۔ اس کا نام ابراہیم یوگل ہے۔ سرکاری ملازم، ایک چھوٹے سے خاندان کا سربراہ اور ایک ایسی جنگ کا سپاہی جس میں وہ 20 برس سے مسلسل شکست کھا رہا تھا۔ یہ جنگ کسی دشمن فوج کے خلاف نہیں، بلکہ سگریٹ کے دھوئیں میں چھپے اس دشمن کے خلاف تھی جس نے اس کی زندگی کو قید کر رکھا تھا۔
ابراہیم روزانہ ایک دو نہیں، بلکہ تقریباً 3 ڈبیاں سگریٹ پی جاتا تھا۔ وہ چین اسموکر تھا۔ نکوٹین اس کی رگوں میں اس طرح سرایت کر چکی تھی کہ ہر ناکام کوشش کے بعد وہ دوبارہ اسی زنجیر سے بندھ جاتا۔
پھر ایک دن زندگی نے اسے ایسا زخم دیا جس نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
اس کے والد، جو خود بھی شدید سگریٹ نوش تھے، پھیپھڑوں کے سرطان کے باعث دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اسپتال کے بستر پر پڑے والد کی آخری سانسوں کا منظر ابراہیم کے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ اسی لمحے اس نے خود سے کہا:
"اگر میں نے آج یہ زہر نہ چھوڑا تو کل میری کہانی بھی یہی ہوگی۔"
اس نے ہر راستہ آزمایا۔ دوائیں، نکوٹین گم، پیچز، ڈاکٹروں کے مشورے، علاج کے مختلف طریقے... مگر ہر بار لت اس کی قوت ارادی پر غالب آجاتی اور وہ سگریٹ چھوڑنے میں ناکام ہوجاتا۔
آخرکار اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے سب کو حیران کردیا۔
وہ اپنی چھوٹی سی ورکشاپ میں گیا، لوہے کی سلاخیں اٹھائیں اور اپنے لیے ایک عجیب و غریب دھاتی پنجرہ تیار کیا۔ ایک ایسا پنجرہ جو ہیلمٹ کی طرح پورے سر کو ڈھانپ لیتا تھا۔ صرف آنکھوں اور سانس لینے کے لیے چھوٹے سوراخ تھے، مگر سگریٹ اندر لے جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ اس نے اس پنجرے کی چابیاں اپنی بیوی اور بیٹی کے حوالے کرتے ہوئے کہا:
"میں اپنی کمزوری کو جانتا ہوں، اس لیے اب میں خود پر نہیں، تم دونوں پر بھروسہ کرتا ہوں۔ چاہے میں کتنا ہی اصرار کروں، یہ تالا مت کھولنا۔"
اگلے دنوں میں ترکیہ کی سڑکوں پر ایک عجیب منظر دکھائی دینے لگا۔ ابراہیم سر پر لوہے کا پنجرہ پہنے بازار جاتا، موٹر سائیکل چلاتا، لوگوں سے ملتا اور روزمرہ کے کام انجام دیتا۔ لوگ اسے دیکھ کر ہنستے، حیران ہوتے، مذاق اڑاتے۔
مگر وہ مسکرا کر صرف ایک جملہ کہتا:
"مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ آج مجھ پر ہنس رہے ہیں، کیونکہ میں اس سے کہیں زیادہ ڈرتا ہوں کہ کل وہ میری قبر پر رو رہے ہوں۔"
وقت گزرتا گیا...
دھیرے دھیرے سگریٹ کی طلب کم ہونے لگی۔ برسوں بعد اس نے پہلی بار کھل کر تازہ ہوا میں سانس لیا۔ اس کے چہرے پر زندگی لوٹنے لگی اور اس کے قدم موت کی طرف نہیں، بلکہ صحت کی طرف بڑھنے لگے۔
وہی لوگ جو کل اس پر ہنستے تھے، آج اسے عزت اور تحسین کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ اصل قید لوہے کے پنجرے میں نہیں تھی، بلکہ اس عادت میں تھی، جس نے انسان کو اپنا غلام بنا رکھا تھا۔
ابراہیم نے اپنے سر کو چند دنوں کے لیے قید کیا، مگر اس کے بدلے اپنے دل، اپنی سانسوں اور اپنی پوری زندگی کو آزاد کرالیا۔
بسا اووقات آزادی حاصل کرنے کے لیے انسان کو اپنی کمزوریوں کے گرد ایک مضبوط دیوار کھڑی کرنا پڑتی ہے۔ یہی دیوار اس کی نجات کا ذریعہ بن جاتی ہے اور جب ارادہ کمزور پڑ جائے تو یہی تدبیر طاقت بن جاتی ہے۔

15/06/2026
14/06/2026

جتنا بڑا کھجور کا درخت کاٹا گیا، درخت کو اتنا بڑا کرنے کیلئے کم از کم 40 سال درکار ہیں۔ لیکن کہانی ملاحظہ فرمائیں ذرا۔ اس چھوٹی سی کہانی میں ہماری 78 سال کی داستان رقم ہے۔ ہماری 78 سال کی تربیت دکھائی دیتی ہے۔ 78 کی کل اوقات کا عکس ہے یہ چھوٹی سی کہانی۔

ملزم کھجور کے درخت پر چڑھ گیا اور قانون نے کھجور کاٹ کر نیچے گرا دی ملزم کو تو چند گھنٹوں بعد گرفتار کر لیا گیا، مگر کھجور کا درخت ہمیشہ کے لیے سزا پا گیا۔
یعنی ہمارے پاس اتنے بھئ وسائل نہیں تھے کہ کھجور کو بچا کر ملزم اتار لیتے
کیا قانون ھے یہ ؟

Want your business to be the top-listed Grocery Store in Khobar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Dammam
Khobar
34714