Chairman Adnan Sultan
31/01/2026
:
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری: ایک عہد کی رخصتی
تحریر: قلم چوہدری محمد الیاس ایڈوکیٹ
سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری بالآخر اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ محض ایک فرد نہیں تھے بلکہ آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک مکمل عہد تھے، جو اپنے ساتھ بے شمار یادیں، تجربات اور سیاسی نشیب و فراز سمیٹ کر رخصت ہو گیا۔
انہوں نے آنکھ کھولی تو اپنے والد کو ذوالفقار علی بھٹو کا مشیر پایا۔ ایک ایسا والد جس نے آزاد کشمیر کی سیاست میں جرات مندانہ آواز بلند کی اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگ ان کی قیادت کے سائے تلے آتے چلے گئے۔ وقت نے کروٹ لی تو یہی سیاسی چھتری آہستہ آہستہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ہاتھوں میں آ گئی، اور انہوں نے اسے نہ صرف سنبھالا بلکہ وسعت بھی دی۔
بیرسٹر سلطان نے اپنی جوانی کے قیمتی ایام برطانیہ میں گزارے۔ وہیں سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی اور جب وطن واپس لوٹے تو آزاد کشمیر میں “بیرسٹر” کے نام کا چرچا ہونے لگا۔ چار جماعتی اتحاد کی تشکیل ہوئی تو بیرسٹر سلطان ایک مضبوط، مدلل اور توانا آواز کے طور پر ابھرے۔ برطانیہ میں انہوں نے شعور کی آنکھ کھولی تھی، اسی لیے وہ اعتدال پسند، روشن خیال اور حقیقت پسند سیاست دان کے طور پر جانے گئے۔ وہ صاف گو تھے اور مصلحت کے پردے میں لپٹی سیاست کے قائل نہ تھے۔
ان کا سیاسی سفر آزاد مسلم کانفرنس سے شروع ہوا۔ بعد ازاں اسی جماعت کو لبریشن لیگ میں ضم کر کے اس کے صدر بنے۔ جوں جوں عمر اور تجربہ بڑھتا گیا، سیاست کے میدان میں ان کا قد بھی بلند ہوتا چلا گیا۔ ان کے گھر کبھی محترمہ بے نظیر بھٹو تشریف لائیں، کبھی نواز شریف اور کبھی عمران خان—ہر ایک نے انہیں اپنا ہم سفر بنانے کی کوشش کی۔ ان کی سیاسی اہمیت ایسی تھی کہ ان کے مخالفین بھی ان کی آواز کو نظرانداز نہ کر سکتے تھے۔
انہوں نے آزاد کشمیر کی سیاست میں نہ صرف اپنا مقام متعین کیا بلکہ بیرونِ ملک کشمیر کا پرچم لے کر برطانیہ، جنیوا اور امریکہ کی سڑکوں تک جا پہنچے۔ وہ ہندوستان کے ہر حکمران کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کی آواز بن کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے رہے۔ وہ حقیقی معنوں میں کشمیر کے سفیر تھے—جہاں کشمیر کا ذکر ہوتا، وہاں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا نام خود بخود زبان پر آ جاتا۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں انہوں نے اپنا ایک الگ وزن قائم کیا۔ وہ جدھر جاتے، اقتدار کا رخ ادھر مڑتا دکھائی دیتا۔ ان کی انفرادیت ایسی تھی کہ اقتدار کی خواہشمند کوئی بھی جماعت ان کے بغیر اپنی منزل مکمل نہ کر پاتی۔ ان کے والد کا ذوالفقار علی بھٹو سے ایک خاص سیاسی رومان تھا، اور بیرسٹر سلطان وہ واحد شخصیت تھے جن کے گھر محترمہ بے نظیر بھٹو میرپور آئیں اور دروازے پر کھڑے ہو کر انہیں مخاطب کیا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں آزاد کشمیر میں صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ اگرچہ وہ صدر نہ بن سکے، مگر وزارتِ عظمیٰ ایک مرتبہ ان کے قدموں تک آ گئی۔ بعد ازاں انہوں نے سیاست میں ایسی جگہ بنا لی کہ انہیں نظرانداز کرنا ممکن نہ رہا۔
وہ عمران خان کے رفیقِ سفر بھی بنے، مختلف حکمرانوں سے اختلافِ رائے بھی کیا، مگر ہمیشہ جھکنے کے بجائے کھڑے ہو کر مقابلہ کرنے کو ترجیح دی۔ ان کی شخصیت میں بلا کا اعتماد تھا۔ وہ اپنی عزتِ نفس اور اپنے مؤقف پر کبھی سمجھوتہ نہ کرتے۔
بیماری کے عالم میں انہوں نے موت کو قریب سے دیکھا، مگر کبھی خوفزدہ نہ ہوئے۔ وہ زندگی اور موت کی اٹل حقیقت کو سمجھ چکے تھے، اور بالآخر اسی حقیقت سے ہم کلام ہو گئے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ ایک پورا عہد وابستہ تھا—اور آج وہ عہد اختتام پذیر ہو چکا ہے۔
وہ آئے، اپنے نقوش چھوڑے اور رخصت ہو گئے۔
کہاں سے آئے، کدھر گئے—
یہ سوال آج بھی دل و دماغ کو حیران کیے ہوئے ہے۔
16/07/2024
سلام یا حسین
سلام اے شہیدان کربلا
17/04/2024
بھانجے اور بھتیجے خوشگوار موڈ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Jubail