Toba Tech
24/04/2026
کل اِس چڑے کی چڑیا اِسی روشن دان کے سوراخ سے گزری اور اندر چلتے پنکھے سے ٹکرا گئی ،میں نے اُسی وقت ٹوٹی جالی کا سوراخ ایک سخت کاغذ کی شیٹ سے بند کر دِیا تھا تاکہ مزید کوئی ایسا حادثہ پیش نا آئے ،میں کل سے دیکھ رہا ہوں کہ میاں صاحب اِس روشن دان کے بند سوراخ کے باہر اُداس بیٹھے انتظار کر رہے ہیں کہ بیگم باہر آئیں گی ،مگر وہ تو اللّٰہ کو پیاری ھو چکی ہیں اِس کو اب کون سمجھائے کہ جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتے.
Toba Tech
"ڈی بی اے بدر" کی وال سے نقل کیا گیا ہے۔
24/04/2026
استاد جی
ساتھ میں اپنے شیر دل جرنیل والا جملہ بھی لکھا کیجیئے
" مزہ نہ کرا دیا تو پیسے واپس"
😂🤣😂
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک لطیفہ مشہور ہے:
کسی ریٹائرڈ بابے نے بِلا پال رکھا تھا۔ ۔۔۔ بِلا بھی بابے کی طرح عمر رسیدہ تھا۔۔۔۔
سارا دن کہیں پڑا سویا رہتا۔۔۔۔۔
لیکن چند روز سے بِلا رات کو گھر سے غائب رہنے لگا۔۔۔۔ وہ بوڑھا بِلّا رات کو باہر نکل جاتا۔
جن لوگون نے بِلیاں رکھی ہوئی تھیں انہوں نے بِلے کے مالک بابے سے شکوہ کیا کہ آوارہ کہیں کا۔۔۔ بلیوں کو تنگ کرتا ہے، شور ہوتا ہے تو ہماری نیند خراب ہوتی ہے
ریٹائرڈ بابے نے پڑوسیوں سے معذرت کی؛ بِلّے کو سمجھایا ؛ بڑھاپے کا احساس دلایا۔ اپنی جان سے بڑے پنگے لینے کو منع کیا۔ بِلّے نے تعاون کی یقین دہائی کروائی
لیکن شکایتیں بڑھتی گئیں
بابے نے کھوج کی تو معلوم ہوا کہ جس الماری میں نشاط قوت طلاء اور کونچ کی جڑ رکھی ہے اسے تالا نہ لگا ہونے کی وجہ سے بِلّا بھی استفادہ کرتا ہے
بابے نے فورا" ایک اچھی قسم کا تالا الماری کو لگایا، چابی ناڑے کے ساتھ باندھی۔ سب متاثرہ پڑوسیوں یعنی شکایت کنندگان سے رابطہ کر کے ان کو یقین دلایا کہ آج کے بعد ان کو چنداں شکایت نہ ہو گی۔
بِلّے کو 'اسباب جوش و خروش' کی سپلائی منقطع ہونے سے بابا سمجھا کہ اب شکایت کی وجہ سے پڑوسیوں کے ساتھ جو تعلقات خراب ہو رہے تھے، وہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
لیکن بِلّا ابھی بھی رات کو باہر جاتا، محلّے میں رات کو بِلّیوں کا شور سنائی دیتا اور پڑوسی شکایت کرتے۔ چند ایک نے تو بابے کے بِلّے کو جان سے مار دینے کی دھمکی بھی دی۔ اس پر بابے نے متعلقہ حکیم صاحب سے رابطہ کیا اور اپنی کتھّا بیان کی۔
حکیم صاحب نے خوش ہو کر جواب دیا کہ بابا جی چلتے پنکھے کا سؤچ آف بھی ہو جائے تو وہ کچھ دیر تک چلتا رہتا ہے؛ تھوڑا صبر کریں
لیکن اگلے دن چند انتہا پسند پڑوسی اکٹھے ہو کر بابے سے بِلّے کی حوالگی کا مطالبہ کرنے آ گئے۔ بابے نے بڑی مشکل سے دو دن کے وعدے پر جان چُھڑائی اور اس مسئلے کے مستقل علاج کی یقین دہانی کروائی
بابے بے بُوڑھے بِلّے کو ساتھ لیا، ڈنگر ڈاکٹر کے پاس گیا اور اس کے خصیئے ہی نکلوا دیئے۔ نہ رہے بانس نہ بجے بنسری
دو دن تک بِلا رات کو گھر پر ہی رہا، پڑوسی بھی سکون سے سوئے اور بابے کا شکریہ ادا کیا
لیکن تیسرے دن بِلا پھر غائب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔البتہ کسی پڑوسی نے شکایت نہیں کی، بلیوں کی چیخ و پکار بھی سنائی نہ دی
لیکن بوڑھا اور خصّی بِلا۔۔۔۔۔۔۔ بلا ناغہ رات کو گھر سے چلا جاتا
بابے کو تجسّس ہؤا اور بِلّے سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ مادر زاد کھسرا ہو جانے کے باوجود تم راتوں کو گھر سے غائب رہتے ہو:
بِلّے نے پہلے تو بتانے سے انکار کیا، پھر گھر سے نکال دینے اور جان سے مار دینے کی دھمکی مِلنے پر بتایا کہ اگرچہ میں پہلے جیسے امورِ واہی تباہی انجام دینے سے قاصر ہو گیا ہوں لیکن انہی بِلیوں کے ذریعے علاقے مین مشہوری ہو گئی ہے تو اب میں کنسلٹنٹ کا کام کرتا ہون
بابا یہ سن کر بہت ہنسا، پھر یکدم سنجیدہ ہو گیا۔ بِلے نے پوچھا، بابا کیا ہؤا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکدم سنجیدہ کیوں ہو گئے
بابے نے بلے کو اٹھایا، تھپتھپایا، لپٹایا، پیار کیا اور کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو نے مجھے تو لکھ پتی بنانے کا نسخہ بتا دیا ہے
بِلّے نے پوچھا، وہ کیسے؟
بابے نے کہا کہ ایک بزنس آئیڈیا۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ اپنے دانڑیں مُک وی جائیں تو بندہ کنسلٹنٹ بن جائے اور اس سامانِ جوش و خروش کی مشہوری کے لیئے تیری چاچی سے بات کرتا ہوں کہ مجرب مارکیٹنگ کرے گی
یہ کہہ کر غور فکر کرتا رہا۔۔۔۔ اور پھر چاچی کو مارکیٹنگ کانٹینٹس سمجھانے کے لیئے زنان خانے کی طرف چلا
کیا دیکھتا ہے کہ چاچی وہ گٹھڑی تیار کیئے بیٹھی ہے جو وہ میکے جاتے وقت پل بھر میں باندھتی ہے
پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھلیئے لوکے میکے کی کیوں تیاری ہے۔؟
چاچی نے مختصر جواب دیا
تمہارے"نیک ارادے" میں نے سُن لیئے ہیں اللّہ کا کچھ خوف کرو
اگر مجھے بحیثیت بیوی تمہارا مارکیٹنگ والا حکم ماننا ہی ہے تو چاچیوں کے واسطے بھی کوئی "جنونی پھکّی" حکیم سے منگواؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وگرنہ مین تو یوں بھی اہل محلّہ کی بلیوں کی طرح نکّو نَک ہو چکی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
استاد جی، بلکہ چاچا جی تسی سمجھ تے گئے ہوو گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے سچی بات ہے، گھوڑا اور مرد کبھی بوڑھا نہین ہوتا بلکہ مرد عورت کو خوش رکھے تو عورت بھی کبھی بوڑھی نہیں ہوتی
پاکستان سے جب میں کینیڈا آیا تو 42 سال کا تھا۔ دوچار ماہ بعد میں کینیڈا میں اپنے کو یوں ہی محسوس کر رہا تھا جیسا کہ مین 25 سال کا تھا
آج 67 سال عمر ہے اور انیس بیس کا ہی فرق پڑا ہے۔ اور وہ بھی انگریزی ادویات کی وجہ سے۔۔۔۔انسان کو حالات اور مزاج بوڑھا کرتے ہین اور وہی جوان رکھتے ہیں
آپ یا کسی کو میرے لکھے میں غیر مناسب لگا ہو تو بہت معذرت.
Toba Tech
23/04/2026
ایک گاوں لوگوں نے تاریخ بدل کر تاریخ رقم کردی
________________________________________________
تفصیل سے پہلے سلیوٹ ھے پنجاب کے اس گاوں کے لوگوں نے جن نے
مثال قائم کردی کہ اصل تعزیت کیا چیز ھوتی ھے
اج تک رواج چل رہا کہ فوتیدگی کے بعد میت کے گھر تین دن تعزیت کے نام پر دعا ھوتی رہتی
بحث یہ نہیں کہ تین دن دعا ٹھیک ھے کہ نہیں سچائی یہ ھے کہ فوتیدگی والے گھر میت کی روح قبض ھونے سے قبر پر مٹی ڈالنے تک ستر ہزار ایک لاکھ تک صرف کھانے کے نام پر بوجھ پڑ جاتا
باقی تین دن مزید ایک لاکھ سوا لاکھ کا بوجھ
یعنی غریب کو فوتیدگی کے غم پلس کئی ہزار قرض کا غم مل جاتا
خیر پنجاب کے اس گاوں نے جو کارنامہ کیا سن کر روح خوش ھوجاتی
پنجاب کے ایک گاوں کا ایک یہ جنازہ جب جنازہ گاہ میں رکھا گیا
صفیں بن گئیں تو مولانا صاحب کی طرف سے جنازے میں شامل لوگوں کو مخاطب کرکے کہا گیا کہ
یہ میت جس کا ہم جنازہ پڑھنے لگے ہیں یہ گھر کا واحد سہارا یعنی واحد کمانے والا تھا
مرحوم کے سوگوران میں ایک بیوہ اور جھوٹے بچے ہیں
یعنی کم سے کم بھی چار ماہ دس دن گھر میں امدن مزدوری کے لیے نکلنے والا کوئی نہیں اور نا کوئی اور سہارا ھے جس سے گھر کے اخراجات چل سکیں
لہذا جنازے کے بعد جنازہ گاہ کے مین گیٹ پر ایک چادر بچھی ھوگی
جوبندہ بغیر کسی پر احسان یا دکھلاوے کے ایک روپے سے لے کر حسب توفیق جتنی رقم دے سکے
مین گیٹ سے نکلتے ھوے چادر پر ڈال دے اللہ کی رضا کی خاطر
نیت حاضر کریں اللہ اکبر
بس اس اعلان اور اس اللہ اکبر کے سلام کے پھیرنے کے بعد گاوں والوں نے بتا دیا کہ
تین دن صرف چل کر جانا اور ھاتھ اٹھا دینا تعزیت نہیں اصلی تعزیت یہ ھے
جنازے کے بعد اور میت کو دفن کرنے کے بعد جب چادر سے رقم کی گنتی کی گئی تو
لاکھ روپے سے اوپر رقم بنی
کسی کے دس روپے کسی پچاس کسی کے ہزار روپے حسب توفیق لیکن میت کے یتیم بچوں کے لیے کئی مہینوں کی بے فکری سکون غم میں سہارا
دس بیس پچاس ہزار نوٹ کو ذہن میں نا رکھیں
ذہن میں یہ رکھیں ہمارے پیارے نبی پاک ﷺ کا فرمان
اگر کسی نے کوئی پودا لگایا اور وہ درخت بن گیا اس درخت سے کسی پرندے کسی جانور یا کسی انسان کو فائدہ پہچا تو اسے لگانے والے کو تب تک ثواب ملتا رہے گا جب تک مخلوق کو اس درخت سے فائدہ پہنچتا رہے گا
کاش یہ بات اج کے مسلمان کے دماغ میں بیٹھ جاے کہ
جنت میں جانے کا سب سے اسان بلکہ شارٹ کٹ ھے مخلوق خدا کی خدمت
مخلوق خدا میں چرند پرند جانور انسان پودے ہر چیز شامل ہے
اگر ہم ناشتہ میں کھانے والا ایک بسکٹ ہی چیونٹیوں کو ڈال دیں تو دس ہزار چیونٹوں کا پیٹ بھر سکتا
اسی طرح کھانا کھاتے وقت ایک نوالہ ہی پرندوں کو ڈال دیں تو ایک ہزار پرندوں کا پیٹ بھر سکتا
ان ایک ہزار میں سے کسی ایک کی دعا ہی ہمیں لگ گئی تو کام بن گیا
آخر میں یہی کہنا ھے کہ ہر گاوں ہر شہر میں یہ رسم پڑنی چاہیے کہ اج کے بعد
گاوں شہر کہیں بھی جنازہ ایسے غریب کا ھو جو اکیلا کمانے والا ھو اور پیچھے کمائی کا کوئی ذریعہ نا ھو تو
مولوی صاحب بجاے پانچ دس منٹ میت کی گزری ذندگی بتانے کی بجاے ایک اعلان کردیا کریں کہ
میت گھر کا واحد کفیل تھا اس کی موت کے ساتھ ہی گھر کی امدن کا ذریعہ بن ھوگیا ھے مرحوم کے وارثان میں بچے یا عورتیں رہ گئی ہیں لہذا جنازے میں شریک ہر بندہ حسب توفیق رب کی رضا کی خاطر جنازہ گاہ سے باہر بچھی چادر پر چپ کر کے رقم ڈال جاے تاکہ میت کے گھر والوں کے کچھ ماہ معاشی طور پر سکون سے گزریں اور اپ کی یہ مدد اپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جاے ۔ شکریہ
Toba Tech
(عوامی نیوز پاکستان) کی وال سے نقل شدہ
22/04/2026
ایک غریب باپ اور 16 کروڑ کا صرف 1 ایک انجیکشن جو اس کی چند ماہ کی بیٹی کی زندگی کی ضمانت تھا "کرنول، آندھرا پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں
'ویلدورتھی' میں رہنے والے جے ایس سریش کمار پیشے کے اعتبار سے ایک معمولی حجام (Barber) ہیں۔
جب ان کے گھر ایک ننھی پری پنرویکا (Punarvika) نے جنم لیا،
تو میاں بیوی کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ لیکن یہ خوشی چند ماہ کی مہمان ثابت ہوئی۔
جیسے جیسے بچی بڑی ہونے لگی،
والدین نے محسوس کیا کہ وہ عام بچوں کی طرح ہاتھ پیر نہیں ہلا سکتی۔
ہسپتالوں کے چکر شروع ہوئے اور پھر ڈاکٹروں نے وہ خبر سنائی جس نے اس غریب خاندان کے پیروں تلے زمین نکال دی
"آپ کی بچی کو اسپائنل مسکولر ایٹروفی
SMA Type-1
نامی ایک انتہائی نایاب اور جان لیوا جینیاتی بیماری ہے۔ اس کے پٹھے آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیں گے اور وہ سانس لینا بھی بند کر دے گی۔🥹
علاج کیا تھا؟ صرف ایک سنگل ڈوز جین تھراپی انجیکشن،
جسے Zolgensma کہا جاتا ہے۔
اسے امریکہ سے منگوانا تھا اور اس کی قیمت تھی 16 کروڑ روپے
ایک حجام کے لیے یہ رقم کمانا تو دور کی بات، اس کا تصور کرنا بھی ناممکن تھا۔
انسانیت کا سمندر اور سوشل میڈیا کی طاقت
باپ نے ہار نہیں مانی
مقامی اخبار "ایناڈو" میں اس بچی کی کہانی چھپی اور پھر سوشل میڈیا اور 'امپیکٹ گرو' پلیٹ فارم کے ذریعے کراؤڈ فنڈنگ مہم شروع کی گئی۔
دیکھتے ہی دیکھتے کرشمہ ہونے لگا۔ کسی نے 100 روپے دیے تو کسی نے ہزار۔ ہزاروں، لاکھوں اجنبی اس بچی کی زندگی بچانے کے لیے ایک ہو گئے۔ عوام نے اپنی جیبوں سے 10 کروڑ روپے جمع کر دیے🌹
ایک نئی رکاوٹ اور مسیحا کی انٹری
10 کروڑ جمع ہو گئے، لیکن ابھی بھی 6 کروڑ روپے کی کمی تھی۔
وقت تیزی سے گزر رہا تھا کیونکہ یہ انجیکشن ڈیڑھ سال کی عمر سے پہلے لگنا ضروری ہوتا ہے۔
امید دم توڑنے لگی تھی کہ اچانک آندھرا پردیش کے وزیرِ تعلیم و آئی ٹی،
نارا لوکیش (Nara Lokesh) کی نظر اس مہم پر پڑی۔
انہوں نے نہ صرف باقی کے 6 کروڑ روپے کا فوری بندوبست کیا،
بلکہ بیوروکریسی اور کسٹمز کی تمام رکاوٹوں کو ذاتی طور پر دور کر کے امریکہ سے یہ دوا ہنگامی بنیادوں پر امپورٹ کروائی۔❤️
ایک نئی زندگی کا آغاز (18 اپریل 2026)
آج سے ٹھیک تین دن قبل،
18 اپریل 2026 کو حیدرآباد کے 'رینبو چلڈرن ہسپتال' میں نارا لوکیش کی موجودگی میں وہ 16 کروڑ کا انجیکشن معصوم پنرویکا کو لگا دیا گیا۔
جب وزیر نے بچی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا تو والدین کے آنسو نہیں رک رہے تھے۔ 🥹
انہوں نے اسے اپنی بیٹی کا "دوسرا جنم" قرار دیا۔
لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوئی!
اس واقعے نے وزیر کو اتنا جذباتی کیا کہ انہوں نے ہزاروں دیگر بچوں کو اس عذاب سے بچانے کے لیے 'پراجیکٹ پنرویکا'
Project Punarvika
کا اعلان کر دیا ہے، تاکہ مستقبل میں فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایسی نایاب ادویات کو مقامی سطح پر اور سستے داموں فراہم کرنے پر کام کیا جا سکے۔
دنیا میں اب بھی بہت اچھائی باقی ہے۔
جب لاکھوں عام لوگ اور ایک فرض شناس لیڈر مل جائیں، تو موت کے منہ سے بھی زندگی چھین کر لائی جا سکتی ہے۔ ❤️
"نوٹ: یہ کہانی مستند خبروں اور زمینی حقائق پر مبنی ہے
اور اس کی مکمل تصدیق کر کے پھر ترتیب دیا ہے تاکہ انسانیت پر ہمارا یقین مزید پختہ ہو سکے۔"
🙏 "فیاض بخاری" کی وال سے نقل شدہ ۔
Toba Tech
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Address
Doha
00000