Tabeeb Center

Tabeeb Center

Share

08/01/2022

Allah

Photos from Tabeeb Center's post 06/01/2022

آج مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا.
بہت پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک ہندو بنیا(تاجر) جو کہ بہت امیر آدمی تھا اس کا پیشاب بند ہو گیا اس نے اپنے آس پاس کے حکیموں اور سنیاسیوں سے بہت علاج کروائے لیکن اسے کچھ افاقہ نہ ہوا الٹا دوائیاں کھا کھا کر اور پی پی کر اس کا پیٹ بھی پھول گیا اور موصوف مرنے کے قریب پہنچ گئے۔۔ کسی نے بتایا کہ فلاں گاءوں میں ایک حکیم صاحب ہیں جو کہ اس مرض کا علاج کر سکتے ہیں لیکن وہ مہنگے بہت ہیں۔۔ ہندو بنیے نے جو کہ فطرتا" ایک کنجوس آدمی تھا مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اجازت دے دی کہ جتنا بھی مہنگا ہے بلا لو۔۔ سو ایک آدمی کو حکیم صاحب کے پاس بھیجا گیا کہ ان کو لے کر آوء۔۔ وہ آدمی حکیم صاحب کے پاس پہنچا اور کہا کہ فلاں شہر میں ایک ہندو تاجر ہے اس کا کافی دنوں سے پیشاب بند ہے اور میں آپ کو اس کے علاج کی غرض سے لینے آیا ہوں۔۔ حکیم صاحب نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں انشاءاللہ پیشاب کھل جائے گا لیکن میری فیس ایک ہزار روپیہ ہو گی۔۔!! یہ شرط طے کرنے کے بعد حکیم صاحب اس آدمی کے ساتھ روانہ ہو گئے جا کے مریض کو چیک کیا اور بولے کہیں سے مٹھی بھر خربوزے کے چھلکے لے کے آءو۔۔!! خیر۔۔ خربوزے کے چھلکے آ گئے اب حکیم صاحب نے کہا کہ اب ایک کونڈی ڈنڈا، دو گلاس پانی اور ایک آدمی لے کے آءو۔۔ سب چیزیں اور ایک آدمی حکیم صاحب کو فراہم کر دی گئیں۔۔ حکیم صاحب نے خربوزے کے چھلکے کونڈی میں ڈالے اور آدمی سے کہا کہ تھوڑا تھوڑا پانی ڈالتے جاء اور چھلکوں کو خوب زور سے رگڑتے جاءو۔۔!! اس طرح کچھ ہی دیر میں چھلکوں کی دودھی تیار ہو گئی تو حکیم صاحب نے ہندو بنیے سے کہا کہ اس کو پی جاءو۔۔!! تو اس نے پی لیا۔۔ دودھی پینے کے چند منٹ بعد ہی بنیے کا پیشاب کھل گیا اور اس کی جان میں جان آئی۔۔ حکیم صاحب بولے کہ آپ کا پیشاب کھل گیا ہے اب مجھے میری مطلوبہ فیس ادا کر دیں تاکہ میں واپس اپنے گاوں جاءوں۔۔ اب بنیا کہ جس کے حواس قائم ہو چکے تھے وہ سوچنے لگا کہ خربوزے کے چھلکے بھی ہمارے، کونڈی ڈنڈا بھی ہمارا، پانی بھی ہمارا اور چھلکوں کو گھوٹنے والا بندہ بھی ہمارا تو حکیم کو ہزار روپیہ کس بات کا دیں۔۔ اس نے حکیم صاحب کو ایک سو روپیہ دیتے ہوئے کہا کہ میرے حساب سے تو سو روپیہ بھی زیادہ ہے لیکن حکیم صاحب نے کہا کہ معاہدے کے تحت مجھے ہزار روپیہ دیں جو کہ آپ سے بات ہوئی ہے۔۔ اس بات پر بنیے اور حکیم صاحب کی تکرار بڑھی جو کہ بلآخر پانچ سو پر ختم ہو گئی۔۔ خیر حکیم صاحب نے پانچ سو لیئے جیب میں ڈالے اور اپنے گھر کی راہ لی۔۔
اب ہوا کچھ یوں کہ چند ماہ بعد اسی بنیے کا پیشاب پھر سے بند ہو گیا۔۔ اب چونکہ پیشاب کھولنے کا نسخہ بنیے کے ہاتھ لگ چکا تھا سو اس نے حکیم صاحب کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے خربوزے کے چھلکے گھوٹ گھوٹ کے پینا شروع کر دئیے لیکن پیشاب ہے کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہا الٹا پیٹ بھی پھول پھول کر پھٹنے کے قریب پہنچ گیا۔۔ بنیا سوچنے لگا کہ اب کیا کروں۔۔؟ اگر مر گیا تو میری اتنی دولت اور جائداد میرے کس کام کی۔۔؟؟ کسی نے مشورہ دیا کہ اگر پیشاب کھولنا چاہتے تو تو دوبارہ اسی حکیم کو بلا لو۔۔ سو مرتا کیا نہ کرتا ایک آدمی پھر انہیں حکیم صاحب کے پاس بھیجا۔۔ حکیم صاحب نے ساری بات سن کے کہا کہ پیشاب تو کھل جائے گا میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ پانچ سو پچھلے اور ہزار روپیہ اس بار کا پندرہ سو ایڈوانس لے کر علاج کروں گا۔۔ معاہدہ طے پا گیا اور حکیم صاحب علاج کے لیئے بنیے کے گھر چلے گئے۔۔ اور ایڈوانس میں پندرہ سو لے کے جیب میں ڈال لیئے۔۔ اور بولے جلدی سے خربوزے کے چھلکے لاءو۔۔ تو بنیا جلدی سے بولا کہ وہ چھلکوں والا علاج تو ہم نے کئی بار کر کے دیکھ لیا ہے۔۔ اس سے پیشاب نہیں کھلا بلکہ الٹا میرا پیٹ مشک کی طرح پھول گیا ہے کوئی اور علاج کریں۔۔ لیکن حکیم صاحب نے کہا کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہی کرو اور جلدی سے چھلکے لاءو۔۔ سو چھلکے آ گئے اور ان کو رگڑ کر حسب سابق دودھی بنائی گئی۔۔ اب حکیم صاحب نے کہا کہ اس دودھی کو کسی کیتلی میں ڈال کر آگ پر رکھو اور دو تین جوش دو اور اس کو چھان کر نیم گرم کر کے اس کو پلاءو۔۔ سو ایسے ہی کیا گیا اور کچھ ہی دیر بعد بنیے کا پیشاب چالو ہو گیا۔۔ جب بنیے کی حالت بہتر ہوئی تو بنیا سوچنے لگا کہ کاش مجھے اس نقطے کا علم ہوتا اور میرے پندرہ سو بچ جاتے۔۔ پر جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا تھا۔۔۔
اب اس علاج میں راز کا نکتہ کیا تھا۔۔؟ وہ یہ کہ جب بنیے کا پہلی بار پیشاب بند ہوا تھا تو اس وقت گرمی کا موسم تھا اور جب دوسری بار بند ہوا تو سردی
دوا کے پیسے نہیں لیتا بلکہ اپنے ذہن، اپنے علم اور اپنے نقطے کے لیتا ہے:)

24/12/2021

سلطان محمود غزنوی کے پاس ایک شخص ایک چکور لایا جسکا ایک پاوں نہیں تھا۔ جب سلطان نے اس سے چکور کی قیمت پوچھی تو اس شخص نے اس کی قیمت بہت مہنگی بتائی۔ سلطان نے حیران ہو کر اس سے پوچھا کہ اسکا ایک پاؤں بھی نہیں ہے پھر بھی اس کی قیمت اتنی زیادہ کیوں بتا رہے ہو؟ تو وہ شخص بولا کہ جب میں چکوروں کا شکار کرنے جاتا ہوں تو یہ چکور بھی شکار پر ساتھ لے جاتا ہوں۔ وہاں جال کے ساتھ اسے باندھ لیتا ہوں تو یہ بہت عجیب سی آوازیں نکالتا ہے اور دوسری چکوروں کو بلاتا ہے۔ اس کی آوازیں سن کر بہت سے چکور آ جاتے ہیں اور میں انہیں پکڑ لیتا ہوں۔

سلطان محمود غزنوی نے اس چکور کی قیمت اس شخص کو دے کر چکور کو ذبح کردیا۔ اس شخص نے پوچھا کہ اتنی قیمت دینے کے باوجود اس کو کیوں ذبح کیا؟ سلطان نے اس پر تاریخی الفاظ کہے:

"جو دوسروں کی دلالی کیلئے اپنوں سے غداری کرے اس کا یہی انجام ہونا چاہیے

Want your practice to be the top-listed Clinic in Doha?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Doha
Doha
00000