Professor History
10/05/2026
فاتحِ ہند شہاب الدین غوری اور معرکہِ ترائن: جب غرورِ ہند خاک میں ملا
تاریخِ عالم میں بعض معرکے ایسے گزرے ہیں جنہوں نے محض ملکوں کی سرحدیں ہی نہیں بدلیں بلکہ تہذیبوں اور نظریات کے رخ موڑ دیے۔ 1192ء میں لڑا جانے والا ترائن کا دوسرا معرکہ بھی ایک ایسا ہی تاریخ ساز موڑ تھا جس نے ہندوستان میں مستقل اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس جنگ کا مرکزی کردار سلطان شہاب الدین غوری تھا، وہ مردِ مجاہد جس کا مقصود نہ مالِ غنیمت کا حصول تھا اور نہ ہی محض ملک گیری کی ہوس، بلکہ اس کی تگ و دو کا محور صرف اعلائے کلمۃ اللہ تھا۔ سلطان کی شخصیت کا خاصہ یہ تھا کہ وہ تخت و تاج کے شائق ہونے کے بجائے درویش صفت سپاہی تھے، جو میدانِ کارزار میں اپنے لشکریوں کے ساتھ اس طرح گھل مل کر رہتے کہ اجنبی کے لیے سلطان اور عام سپاہی میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب پرتھوی راج چوہان نے حملہ کیا تو وہ سلطان کی سادگی کی وجہ سے انہیں پہچاننے میں ناکام رہا۔
ترائن کی پہلی جنگ میں شکست کھا کر سلطان غوری خاموش نہیں بیٹھے تھے بلکہ ان کے دل میں حق کی سربلندی کی تڑپ مزید دوچند ہو گئی تھی۔ دوسری طرف پرتھوی راج چوہان پہلی فتح کے بعد تکبر کے نشے میں چور ہو چکا تھا اور اس نے رعایا پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا شروع کر دیے تھے۔ جب 1192ء میں دونوں افواج دوبارہ مدمقابل آئیں تو پرتھوی راج کی کثیر فوج، جو بظاہر ناقابلِ تسخیر معلوم ہوتی تھی، اسلامی لشکر کے عزم و استقلال کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ شکست کے آثار دیکھتے ہی پرتھوی راج نے ہاتھی سے اتر کر گھوڑے پر سوار ہو کر فرار ہونے کی کوشش کی، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک غوری سپہ سالار نے اسے عین اسی عالم میں گرفتار کر لیا اور سلطان کے سامنے پیش کر دیا۔ جس پرتھوی راج کے سر میں کل تک شہنشاہیت کا سودا تھا، آج وہ شہاب الدین غوری کے سامنے دونوں گھٹنوں کے بل ایک قیدی کی حیثیت میں جھکا ہوا تھا۔
سلطان غوری نے فاتحانہ وقار کے ساتھ جب پرتھوی راج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا کہ "اگر آج تو مجھے گرفتار کر لیتا تو میرے ساتھ کیا سلوک کرتا؟" تو مغلوب راجہ نے اپنے شاہانہ مزاج کے مطابق جواب دیا کہ "میں تیرے لیے سونے کا ایک قید خانہ بنواتا اور تجھے اس میں رکھتا۔" اس پر سلطان نے نہایت متانت سے جواب دیا کہ "لیکن ہم تیرے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ایک جنگی قیدی کا مقدر ہوتا ہے۔" اس فتح کے نتیجے میں مسلمانوں کو بے پناہ مالِ غنیمت حاصل ہوا۔ مورخین، بالخصوص ابنِ اثیر کے مطابق، اس جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ چودہ ہزار ہاتھی آئے۔ سلطان نے ان میں سے اس خاص ہاتھی کو اپنے پاس رکھا جس نے پہلی جنگِ ترائن میں انہیں زخمی کیا تھا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ سلطان اپنی ہر چوٹ اور ہر آزمائش کو یاد رکھتے تھے تاکہ اسے فتح کی شکر گزاری میں بدل سکیں۔
جب پرتھوی راج کو اپنی موت سامنے نظر آئی تو اس نے جان بچانے کے لیے سلطان کو لالچ دینے کی کوشش کی۔ اس نے پیشکش کی کہ وہ ہندوستان کا بادشاہ بننے میں سلطان کی مدد کرے گا اور اتنا مال و دولت دے گا کہ پورے لشکر کے گھوڑے بھر جائیں گے۔ سلطان اسے ساتھ لے کر اجمیر میں واقع اس کے قلعے پہنچے، جہاں نوکر چاکر اور بے پناہ آسائشیں موجود تھیں۔ سلطان نے اس قلعے میں داخل ہوتے وقت پرتھوی راج کو اسی ہاتھی پر باندھ کر بٹھایا جس سے اتر کر وہ بھاگ رہا تھا۔ غوری لشکر نے تیزی کے ساتھ گرد و نواح کے تمام شہروں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ آخر کار، سلطان نے اسی قلعے میں سب کی موجودگی میں پرتھوی راج کے انجام کا فیصلہ کیا اور اسے کیفرِ کردار تک پہنچا کر تمام مفتوحہ علاقوں کا نظم و ضبط اپنے وفادار سپہ سالار قطب الدین ایبک کے سپرد کر دیا۔ شہاب الدین غوری، جس کے پیشِ نظر صرف اللہ کا دین تھا، سب کچھ ایبک کے حوالے کر کے خود واپس غزنی کی سادہ زندگی کی طرف لوٹ گئے، یہ ثابت کرتے ہوئے کہ مومن کی اصل منزل دنیاوی مال و منال نہیں بلکہ شہادت اور حق کی فتح ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the university
Telephone
Website
Address
Swabi
2300