Think Pakistan

Think Pakistan

Share

11/05/2025

سرکاری بمقابلہ پرائیویٹ اسکول — تعلیم یا تجارت؟

پاکستان میں تعلیم دو طبقات میں بٹ چکی ہے:
ایک طرف سرکاری اسکول جن کے وسائل محدود مگر مقصد خالص ہے،
اور دوسری طرف پرائیویٹ اسکول، جہاں تعلیم زیادہ تر "کاروبار" کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

سرکاری اسکولز:
یہ اسکول پاکستان کے عام شہریوں کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں۔
اساتذہ کی قابلیت تو ہے، مگر مسائل بے شمار:

ناکافی سہولیات

کم فنڈنگ

غیر فعال نگرانی
لیکن پھر بھی کئی جگہوں پر دیانت دار اساتذہ اپنی جان لگا کر بچوں کو پڑھاتے ہیں — اور یہی اصل "ہیرو" ہیں۔

پرائیویٹ اسکولز:
یہ اسکول پاکستان کے عام شہریوں کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں۔
اساتذہ کی قابلیت تو ہے، مگر مسائل بے شمار:

ناکافی سہولیات

کم فنڈنگ

غیر فعال نگرانی
لیکن پھر بھی کئی جگہوں پر دیانت دار اساتذہ اپنی جان لگا کر بچوں کو پڑھاتے ہیں — اور یہی اصل "ہیرو" ہیں۔

پرائیویٹ اسکولز:
یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ظاہری شان و شوکت بھی دی جاتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے:
کیا مہنگی فیسوں کے برابر معیار بھی ملتا ہے؟

برانڈنگ زیادہ

نصاب متوازن نہیں

مقابلے کی دوڑ نے بچوں کو ذہنی دباؤ میں ڈال دیا
اصل مسئلہ کیا ہے؟
یہ نہیں کہ کون سا بہتر ہے،
بلکہ یہ کہ ہر بچے کو مساوی، معیاری اور باوقار تعلیم کیوں نہیں ملتی؟

حل کیا ہے؟

سرکاری اسکولوں میں بہتری لائی جائے

اساتذہ کو تربیت دی جائے

پرائیویٹ اسکولز کی فیسوں اور نصاب پر مؤثر کنٹرول ہو

تعلیم کو تجارت نہیں، خدمت سمجھا جائے

تعلیم صرف امیروں کا حق نہیں — یہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے!

"تعلیم کا فرق ختم کرو — ایک پاکستان، ایک نظامِ تعلیم!"

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Swabi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Swabi