Neutral Craft

Neutral Craft

Share

10/01/2025

Hindi dubbed suqid game 2 explained

09/09/2024

ہم سمجھتے ہیں کہ وقت (Time) بس ایک سیدھی لکیر کی طرح چلتا ہے۔ صبح سے شام، کل سے آج اور آج سے کل اور (Space) ہمارے اردگرد ہر لمحہ قائم و دائم رہتا ہے۔ مگر یہ محض ایک نظر کا دھوکہ ہے، ایک فریب جسے آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت (Theory Of Relativity) نے اس قدر چاک کیا کہ کائنات کی بنیادوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ نظریہ اضافیت نے ہمیں بتایا کہ زماں و مکاں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ چاہے کائنات کے کسی گوشے میں ہو، کسی ستارے کے گرد گھومتے کسی سیارے پر یا کسی کہکشاں کے کنارے پر، آپکا وجود سپیس ٹائم کے چادر میں قید ہوگا۔ سپیس ٹائم میں آپ حرکت کرینگے تو نہ صرف آپکی پوزیشن بدلے گی بلکہ آپکے لئے وقت کی رفتار بھی مختلف ہوگی۔ سپیس ٹائم کے چادر کو آپ لچکدار کہہ سکتے ہیں۔ جسطرح آپ پانی میں کوئی بھاری پتھر رکھتے ہیں اور پانی کی سطح پر لہریں پیدا ہوتی ہیں بلکل ویسے ہی بھاری جسم (سورج، زمین، بلیک ہولز وغیرہ) سپیس ٹائم کے اس flexible چادر میں خم پیدا کرتے ہیں۔ جتنا بھاری جسم ہوگا اتنا ہی زیادہ خم پیدا ہوگا اور یہی وہ خم ہے جسے ہم گراوٹی کہتے ہیں۔ وقت کی تعریف کیا ہے؟ وقت خود کیا ہے؟ اگرچہ وقت سب کیلئے ایک سیدھی اور نا رکنے والی ندی کی طرح ہے لیکن درحقیقت یہ بہاؤ ارگرد کی چیزوں پر منحصر ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ کشش ثقل ہوگا اتنی ہی سست رفتاری سے وقت کا بہاؤ ہوگا۔ خلا میں بھاری اجسام جیسے بلیک ہولز جنکا ماس انتہائی زیادہ ہوتا ہے وہ سپیس ٹائم میں اتنا زیادہ خم پیدا کرتے ہیں کہ وہاں وقت کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے۔ وہاں گزارا ایک لمحہ زمین کے کئی گھنٹوں، مہینوں یا سالوں کے برابر ہو سکتا ہے۔ ہم جو کچھ بھی محسوس کرتے ہیں وہ سب کچھ اسی لامحدود کائناتی چادر سپیس ٹائم کے اندر ہونے والا ایک چھوٹا سا ارتعاش ہے جو بگ بینگ سے لیکر اب تک اس کائنات میں جاری ہے۔

07/09/2024

انویٹ (Inuit) قوم کے قدیم برفانی "چشمے" - برف کی چمک سے بچاؤ کی قدیم تکنیک

قطب شمالی کے منجمد علاقوں میں رہنے والی انویٹ قوم نے اپنی بقا کے لیے قدرت کے ساتھ ہم آہنگی کے اصولوں پر مبنی بہت سی تخلیقی ایجادات کیں۔ ان میں سے ایک نمایاں ایجاد ان کے قدیم برفانی "چشمے" تھے۔ یہ چشمے نہ صرف سادہ اور کارآمد تھے بلکہ انویٹ لوگوں کی فطرت کی گہری سمجھ اور سخت حالات میں زندگی گزارنے کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

برفانی اندھے پن کا مسئلہ اور اس کا حل

انویٹ قوم کو اکثر شدید روشنی کے انعکاس کا سامنا کرنا پڑتا تھا جو کہ برف کے وسیع میدانوں میں سورج کی کرنوں سے پیدا ہوتا تھا۔ اس روشنی کی شدت سے "برفانی اندھا پن" (Snow Blindness) کا خطرہ بڑھ جاتا تھا، جس سے آنکھیں متاثر ہو سکتی تھیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے انویٹ لوگوں نے برفانی چشمے ایجاد کیے۔

چشموں کا منفرد ڈیزائن

یہ چشمے عام طور پر ہڈی، خاص طور پر وہیل یا ہرن کی ہڈی، یا پھر سمندری جانوروں کی کھال سے تیار کیے جاتے تھے۔ ان چشموں کا ڈیزائن نہایت سادہ لیکن مؤثر تھا۔ چشمے کی پتلی پٹیوں میں باریک، لمبے اور افقی سوراخ کیے جاتے تھے۔ یہ سوراخ اتنے چھوٹے ہوتے تھے کہ صرف روشنی کی ایک محدود مقدار ہی آنکھوں تک پہنچتی تھی، اور یوں برف کی سطح سے منعکس ہونے والی شدید روشنی سے آنکھوں کو بچایا جا سکتا تھا۔

انویٹ لوگ ان چشموں کو اپنی آنکھوں پر فٹ کر کے باندھ لیتے تھے۔ ان کے باریک سوراخ روشنی کو صرف ایک مخصوص زاویے سے داخل ہونے دیتے تھے، جس سے نہ صرف ان کی نظر بہتر رہتی تھی بلکہ آنکھوں پر پڑنے والے روشنی کے دباؤ کو بھی کم کیا جا سکتا تھا۔ یہ چشمے دیکھنے میں بہت سادہ لگتے تھے لیکن ان کا ڈیزائن انتہائی کارآمد تھا۔

چشموں کی تیاری میں فطرت کے وسائل کا استعمال

انویٹ برفانی چشمے تیار کرنے کے لیے وہی مواد استعمال کرتے تھے جو ان کے اردگرد کی فطرت میں موجود ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر، ہرن کی ہڈی یا سمندری جانوروں کی کھال استعمال کی جاتی تھی۔ یہ چشمے نہ صرف انویٹ لوگوں کی فطرت سے ہم آہنگی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیت اور محنت کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

آج کے دور میں قدیم برفانی چشمے

اگرچہ آج جدید دور میں سائنسی ترقی نے ہمیں زیادہ بہتر اور مؤثر چشمے فراہم کیے ہیں، مگر انویٹ قوم کے قدیم برفانی چشمے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ کیسے انسان نے اپنے ماحول سے ہم آہنگ ہو کر مشکلات کا سامنا کیا اور اپنی بقا کے لیے تخلیقی طریقے اپنائے۔ یہ چشمے آج بھی ہماری تہذیب کی ایک اہم علامت ہیں اور ہمیں ماضی کے انسانوں کی ذہانت اور فطرت کے ساتھ ان کی ہم آہنگی کی یاد دلاتے ہیں۔

01/09/2024

کیا آپ جانتے ہیں کہ؟
قرون وسطیٰ میں فرانس کے ایک شہر میں عورتیں صبح سویرے اپنے شوہروں کے ناشتے میں ہلکا سا زہر ڈالتی تھیں اور پھر جب وہ رات گئے گھر واپس آتے تو انہیں اس کا تریاق دیا جاتا تھا، اس لیے اس زہر سے کوئی نقصان نہیں ہوتا تھا۔ اور اگر مرد گھر نہ آنے کی وجہ سے کہیں اور ہوتے تھے اور اس وجہ سے تریاق میں تاخیر ہوتی تو مردوں کو سر درد، متلی، سانس لینے میں تکلیف، افسردگی، درد، الٹی ہو جاتی ۔
جتنا آدمی گھر سے دور تھا،
وہ زیادہ بیمار تھا، اور پھر جب وہ گھر واپس آتا تو اس کی لاعلمی میں اس کی بیوی اسے تریاق دے د یتی اور وہ چند منٹوں میں بہتر ہو جاتا۔ اس خوفناک چال سے، مردوں کو دھوکہ دیا گیا کیونکہ وہ تصور کرتے تھے کہ گھر سے دور رہنے سے انہیں تکلیف اور ڈپریشن ہوں گے، تو وہ اپنے گھروں اور بیویوں سے منسلک ہو گئے. #

30/08/2024

محققین "مونا لیزا" کی پینٹنگ کے مصور "لیونارڈو دا ونچی" کو تاریخ میں گزرے ذہین ترین لوگوں میں سے ایک شمار کرتے ہیں -
لیونارڈو دا ونچی اپنی تمام ذاتی تحریروں نوٹس کو الٹا لکھتے تھے ، یہ لکھا ہوا ورق صرف آئینے کے سامنے رکھ کر ہی پڑھنے کے قابل ہوسکتا تھا اور یہ راز سب کو معلوم نہیں تھا اور ایسا لکھنے کی وجہ بھی نامعلوم ہے۔
لیو نارڈو دا ونچی نے اپنی "مونا لیزا" کی پینٹنگ میں بھی کچھ اہم راز چھوڑے ہیں جو حال ہی میں دریافت ہوئے ہیں، مونا لیزا کی آنکھوں میں ایک خاص کوڈ بھی بنایا ہے جو عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا اور اسے صرف حساس عدسے کی مدد سے مائیکروسکوپ کے نیچے ہی دیکھا جا سکتا ہے - مونا لیزا کی دائیں آنکھ میں دو حروف لکھے ہیں جب کہ بائیں آنکھ میں کچھ خطوط بنے ہوئے ہیں جو وقت کے عوامل کے ساتھ نہیں پہچانے جا سکتے …

Want your business to be the top-listed Media Company in Sillanwali?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Sillanwali
40010