Meer Collection
25/11/2024
میں چاند تو توڑ کر لانے سے رہا
ضد کرے گی تو اُسے آئینہ دیکھا دُوں گا
25/11/2024
بڑی مُدت میں گُر سیکھا ہے ہم نے کامیابی کا
لگا لیتے ہیں، ہوتا ہے جہاں درکار جو چہرہ...
25/11/2024
میں پا نا سکا کبھی اِس خلش سے چُھٹکارا
وہ مجھ کو جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا
25/11/2024
عجب طرح کی رفاقت ہمارے بیچ رہی
ہمارے بیچ دعا تھی سلام تھا ہی نہیں
جچا نہ اس لئے بھی پھر کوئی کلام ہمیں
غمِ حیات سے بڑھ کر کلام تھا ہی نہیں
25/11/2024
ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﭘﮑﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﭼﭗ ﮐﺎ ﺗﺮﯼ خاموشی ﺳﮯ
ﺭﻭﺡ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﻮ
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ
ﯾﻌﻨﯽ ﻭﺟﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﮞ،
ﺟﯿﺴﮯﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﺑﻦ ﮐﮩﮯ، ﺑﻦ ﺳﻨﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭻ
ﻋﮩﺪ ﻭ ﭘﯿﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ..!!
25/11/2024
ہم خانہ بُدوش لوگوں کی یہ منزلیں نہیں
ہم اگلے جہاں کہ لوگ ہیں اور راستے میں ہیں
25/11/2024
سینے میں کسک بن کے بسے رہتے ہیں برسوں
وہ لمحے جو پلٹ کر کبھی آنے نہیں ہوتے
25/11/2024
صیّاد تو اِمکان ِ سفر کاٹ رہا ہے
اندر سے بھی کوئی مِرے پر کاٹ رہا ہے
اے چادرِ منصب! تِرا شوق ِ گل ِ تازہ
شاعر کا تِرے دست ِ ہنر کاٹ رہا ہے
جس دن سے شمار اپنا پناہ گیروں میں ٹھہرا
اُس دن سے تو لگتا ہے کہ گھر کاٹ رہا ہے
کس شخص کا دل میں نے دکھایا تھا، کہ اب تک
وہ میری دعاؤں کا اَثر کاٹ رہا ہے
قاتل کو کوئی قتل کے آداب سکھائے
دستار کے ہوتے ہوئے سر کاٹ رہا ہے
میرزادہ وصیؔ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Address
Line Number 4 Street No 10
Sialkot