Ali Raza Gadgor
24/04/2026
عقل والوں کے لیے زبردست مثال ہے -
ہم ”تربوز“ خریدتے ہیں مثلاً پانچ کلو کا ایک دانہ.. جب اسے کھاتے ہیں تو پہلے اس کاموٹا چھلکا اتارتے ہیں.. پانچ کلو میں سے کم ازکم ایک کلو چھلکا نکلتا ہے.. یعنی تقریبا بیس فیصد.. کیا ہمیں افسوس ہوتا ہے؟ کیا ہم پریشان ہوتے ہیں؟ کیا ھم سوچتے ہیں کہ ہم تربوز کو چھلکے کے ساتھ کھا لیں؟..
نہیں بالکل نہیں.. یہی حال، مالٹے کا ہے..
ہم خوشی سے چھلکا اتار کر کھاتے ہیں.. حالانکہ ہم نے چھلکے سمیت خریدا ھوتا ہے.. مگر چھلکا پھینکتے وقت تکلیف نہیں ہوتی..
ہم مرغی خریدتے ہیں.. زندہ، ثابت.. مگر جب کھانے لگتے ہیں تو اس کے بال، کھال اور پیٹ کی آلائش نکال کر پھینک دیتے ہیں.. کیا اس پر دکھ ہوتا ہے؟.. نہیں..
تو پھر چالیس ہزار میں سے ایک ہزار دینے پر.. ایک لاکھ میں سے ڈھائی ہزار دینے پر کیوں ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے؟.. حالانکہ یہ صرف ڈھائی فیصد بنتا ہے.. یعنی سو روپے میں سے صرف ڈھائی روپے..
یہ تربوز، کیلے، آم اور مالٹے کے چھلکے اور گٹھلی سے کتنا کم ہے.. اسے ”زکوۃ“ فرمایا گیا ہے.. یہ پاکی ہے.. مال بھی پاک.. ایمان بھی پاک.. دل اور جسم بھی پاک اور معاشرہ بھی خوشحال..
امید ہے کہ آ پ متفق ہونگے ..!!
18/04/2026
Your hope in my heart is the rarest treasure
Your Name on my tongue is the sweetest word
My choicest hours
Are the hours I spend with You -
O God, I can't live in this world
Without remembering You ❤️
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the public figure
Address
Sargodha , Kotmoman
Sargodha
0000