Badar Homoeo Pathic Clinic Rukkan

Badar Homoeo Pathic Clinic Rukkan

Share

Photos from Badar Homoeo Pathic Clinic Rukkan's post 10/01/2025

بیر Jujube
وہ پھل جس کا ذکر تین آسمانی کتابوں تورات، انجیل اور قرآن میں موجود ہے، روایات میں بھی اسکی غذائیت کا زکر آتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آدم علیہ سلام جب زمین پر اترے تو سب سے پہلے بیری کا پھل ہی کھایا۔واللہ عالم۔
اسے انگریزی میں Jujube جوجوبی یا جوجوب دونوں پڑھ سکتے ہیں۔ لمبے والا بیر پہلی بار چین کے علاقے میں پیدا ہوا جبکہ گول والا ہندو پاک کے علاقے میں پلا بڑھا۔ اب تو تقریباً ساری دنیا میں ہی پھیل چکا ہے اور اس کا سب سے بڑا پیداواری ملک چین ہی ہے اس کے بعد بھارت کا نمبر آتا ہے۔
عام طور پر پاکستان میں تین نسلیں مشہور ہیں جن کے نام: Zhizipus jujuba پیوندی بیر (سیائو بیر),
تخمی بیر( کاٹھا بیر) Zhizipus Mauritiana,
اور جنگلی بیر (کوکنی)
شامل ہیں۔ لمبے پیوندی بیر کو کہا تو غریبوں کا سیب جاتا ہے کیونکہ کچی حالت میں یہ سیب کی طرح کھاتے وقت خستہ کرارا لگتا ہے لیکن اسکی غذائیت سیب سے بھی اعلیٰ ہے۔ امرود کی طرح یہ بھی ایسا پھل ہے جو پاکستانی سرزمین خصوصاً خشک کم پانی والے علاقوں میں بہترین اگ سکتا اور پھل دے سکتا ہے۔ یہ سالانہ اوسطاً آٹھ انچ والے بارشی علاقوں میں بھی زندہ رہ سکتا ہے اسے پانی کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی، اور یہ ہے بھی سخت جان جسے زیادہ کیڑے مار سپرے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ مویشی اسکی ٹہنیاں پتے بڑے شوق سے کھاتے ہیں اس لئیے جہاں جہاں مویشی پل رہے ہوں وہاں ایک بیری کا درخت بھی ہوجائے تو اسکی لمبی شاخوں کی کٹائی کے وقت مفت میں ان کو بھی چارہ مل جائے گا۔ اور آپ کو پھل بھی۔
ان تینوں نسلوں میں غذائیت تقریباً ایک جیسی ہے بس تھوڑا بہت میٹھا، پانی کا فرق ہے۔ بیر ایک ایسا پھل ہے جو یہاں بہت ہی زیادہ نظرانداز ہوتا ہے لیکن چین اور بھارت دونوں میں ہی یہ ٹاپ پھلوں میں سے ہے جن کا استعمال بہت زیادہ ہے۔ قدرتی طور پر اسکی کوئی چالیس نسلیں ہیں لیکن لیبارٹری کے کمالات سے سات سو کے قریب ورائیٹیاں بنالی گئی ہیں جن میں کھانے والی چند ایک ہی ہیں۔
اس میں لیموں اور مالٹے سے زیادہ وٹامن سی موجود ہے، جی ہاں! یہ امرود کے بعد دوسرا بڑا پھل ہے جس میں وٹامن سی پیک ہے، روزانہ کی جسمانی ضرورت کا تقریباً 83% وٹامن سے بیر کے اندر موجود ہے۔ وٹامن سی ہمارے مدافعتی نظام کے لئیے بہت ضروری ہے۔
اس میں اچھی خاصی مقدار میں پوٹاشئیم موجود ہے جو دل، پٹھوں اور نرو کی صحت و فنکشن کے لئیے بڑا اچھا ہے۔
بیر کے اندر خاص قسم کے اینٹی آکسیڈینٹس Flavonoid, polysacharrides, اور Triterpenic Acid ہوتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں یہ ایک قسم کی دوائیاں ہیں جو بیر کے اندر موجود ہیں۔ یہ دل کی شریانیں کھولتے ہیں۔دل کو مضبوط کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر جسم میں موجود کینسر کےسیلز کو تباہ کرتے ہیں۔ یعنی بیر کے اندر قدرتی طور پر کینسر سے لڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔
بیر کے اندر مناسب مقدار میں پروٹین موجود ہے۔ وہی پروٹین جو آپ گوشت سے بھی حاصل کرتے ہیں۔ پروٹین جسم کی صحت کے لئیے بہت ضروری چیز ہے یہ پٹھے بناتا اور مضبوط کرتا ہے۔
بیر کے اندر فائیبر موجود ہے، وہی فائیبر جو آپ کو روٹی سے اور اسپغول کے چھلکے سے بھی حاصل ہوتا ہے۔ فائیبر پیٹ کے لئیے بہت ضروری شے ہے۔ یہ معدے کی بیماریوں مثلاً ہیضہ اور قبض وغیرہ کو درست کرتا ہے۔ جسم میں پیشاب کے اخراج کو (Stool Movement) بہتر کرتا ہے۔
بیر قدرتی نیند عطا کرنے والا اور مایوسی کو رفع کرنے والا پھل ہے۔ اس میں موجود Flavonoid اور Saponin کیمیکل نہ صرف انسانی دماغ کو سکون مہیا کرتے اور میٹھی نیند سلاتے ہیں بلکہ مایوسی Depression سے بھی نجات دلاتے ہیں۔ بہت سارے ایشیائی ممالک میں خشک بیروں کی چائے بھی بنا کر پی جاتی ہے۔ شاید یہ واحد چائے ہے جو پینے کے بعد آپ میٹھی نیند کے مزے لے سکتے ہیں۔
تاہم شوگر کے مریضوں اور حاملہ خواتین کو بیر کھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرلینا چاہئیے۔ بیر جب خشک ہوجائے تو کشمش ساوگی کی طرح اس پر جھریاں پڑ جاتی ہیں۔ اسی لئیے اسے چائینیز کھجور بھی بولتے ہیں۔ جوان بیر کی نسبت خشک بیر میں غذائیت تقریباً دوہری ہوجاتی ہے۔ اور انہیں کافی دیر تک کھانے کے لئیے محفوظ بھی کیا جاسکتا ہے۔ خشک بیروں کو عناب بھی کہا جاتا ہے اور بازار سے ان کا شربت بھی ملتا ہے۔
بیری کا شہد: Sidr Honey
دنیا کے چند قیمتی اور نایاب شہد میں سے ایک شہد بیری کا ہے، اسکی خوشبو اور غذائیت باقی تمام شہد کی قسموں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ شہد کی مکھیاں بیری کے پھولوں کی بنیادی Pollinators ہیں جو ان کا رس چوس کر خاص قسم کا بیری کا شہد بناتی ہیں ۔
اس شہد میں اوپر بتائے گئے تمام فوائد بہترین انداز میں موجود ہیں لیکن اس شہد کی ایک خاص بات اس میں موجود Aphrodisiac کیمیکل کا پایا جانا ہے۔ یہ وہ شے ہے جسکی ہر مرد کو ضرورت ہوتی ہے۔یہ جنسی مسائل کا بہترین حل ہے اور مرادنہ جنسی قوت فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہ علاقہ بیری کے بہترین جنگلات اگا سکتا اور شہد کی بہترین فارمنگ کر سکتا ہے۔ اگر حکومت لوگوں کی اس معاملے میں بہترین تربیت کرے تو یہ ملک دنیا کو بیری کا شہد بیچ کر بہترین زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ پاکستان میں بہت سارے مقامی باشندے اس مفید کاروبار میں پیش پیش ہیں
تاہم بیری کا درخت ایک invasive Species بھی ہے، مطلب یہ اپنے ہی درخت سے اپنے گرتے پھلوں بیجوں اور گرتی ٹہنیوں سے مذید درخت اگا لیتا ہے اور دوسرے درختوں کا گھر چھین لیتا ہے، اسلئیے اگر آپ اس کے اردگرد اس کے دوسرے ننھے پودے اگتے دیکھیں تو انہیں اکھاڑ پھینکیں۔
بیری کے پتوں سے ایک خاص قسم کا کیمیکل Ziziphin نکالا جاتا ہے ۔ یہ ایک Anti-Sweet ہے جو کسی چیز میں میٹھے کی مقدار کو کم کرنے کے لئیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر آپ دو چمچ چینی والی چائے پیتے ہیں اور غلطی سے چار چمچ ڈال دیں تو اس کیمیکل کو استعمال کرکے دوبارہ دو چمچ والا ذائقہ حاصل کر سکتے ہیں .
بیری کے پتوں کے پانی سے مردے کو بھی نہلایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یا تو اس کے جسم کو خوشبو میں محفوظ کرنا یا کیڑوں سے بچانا ہے۔ بیر کے پتے قدرتی طور پر بہت سارے کیڑے بھگاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیر کو زیادہ کیڑے مار سپرے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
انتہائی بہترین پھل دینے والا، بہترین شہد مہیا کرنے والا, آسان ترین طریقے سے اگنے والا، بہت ہی Underrated پھل۔ میری تو پھلوں کی ٹاپ فہرست میں یہ شامل ہوگیا، آپ کا کیا خیال ہے؟

13/04/2024

*ففٹی پلس کیلئے تحفہ*❤

اگر آپ 50 سال سے زیادہ عمر کے ہوگئے ہو تو یہ *چند نصیحتیں* ضرور یاد رکھنا اور اپنے دوستوں کو بھی بتانا:
*سب سے پہلی بات*
حتی المقدور کوشش کرنا کہ تیری یہ دو چیزیں تیرے قابو میں رہیں؛
*1*: تیرا فشار خون (بلڈ پریشر)۔
*2*: تیرے خون میں شکر کا تناسب
*دوسری بات*
ان سات چیزوں کا استعمال کم سے کم کرنا:
*1*: نمک
*2*: چینی
*3*: گوشت یا دیگر محفوظ کردہ غذائیں
*4*: سرخ گوشت
*5*: دودھ اور اس کی بائی پروڈکٹس
*6*: نشاستہ دار غذائیں
*7*: كاربونيٹیڈ گیسوں والے مشروبات
*تیسری بات*
اپنے کھانوں میں ان تین اشیاء کی کثرت کرنا
*1*: سبزیاں
*2*: پھل
*3*: خشک میوہ جات
*چوتھی بات*
ان تین چیزوں کو بھلانے کی کوشش کرنا
*1*: تیری عمر
*2*: تیرا ماضی
*3*: اگر تیرے ساتھ کوئی ظلم یا زیادتی ہوئی ہو تو
*پانچویں بات*
ان چار چیزوں کو، بھلے تیرا جتنا بھی زور لگے، اپنے پاس رکھنا:
*1*: اپنے محبین اور دوستوں سے تعلق
*2*: اپنے خاندان کا خیال
*3*: مثبت سوچ
*4*: اپنی مشکلوں کو اپنے گھر سے دور
*چھٹی بات*
اپنی صحت کی حفاظت کیلئے ان پانچ کا اہتمام رکھنا
*1*: روزے
*2*: ہنسی مذاق اور مسکراہٹیں
*3*: مسلسل سفر و سیاحت
*4*: جسمانی ورزش
*5*: اپنا وزن کم کرنے کےلئے محنت کرنا
*ساتویں بات*
ان چار باتوں کو کبھی نظر انداز نہ کرنا
*1*: پانی پینے کیلئے پیاس کا انتظار نہ کرنا
*2*: نیند کیلئے جماہیوں کا انتظار نہ کرنا
*3*: آرام کیلئے تھکاوٹ ہونے کا انتظار نہ کرنا
*4*: اپنے ریگولر میڈیکل ٹیسٹ کیلئے بیمار ہونے کا انتظار نہ کرنا...

ثواب کی نیت سے آگے شیئر ضرور کریں جزاک اللہ خیرا کثیرا
●▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬●

26/06/2023

*خاص الخاص نسخہ عورتوں کے لئے*
ھوالشافی
ایک چمچ کلونجی، ایک چمچ متھی دانہ رات کو تین گلاس پانی مین بگھو دیں صبح اتنا جوش دیں
کہ ادھا گلاس اڑ جاے باقی پانی کے تین حصہ کریں۔
صبح ناشتہ سے ادھا گھنٹہ پہلے نیم گرم دوپہر کھانے سے پہلے نیم گرم رات کھانے سے پہلے نیم گرم کرکے پی لیا کریں
جن خواتین کو ایام کا کسی قسم کا مسلہ ہے موٹاپا ہو ہارمونز میں کسی کسی کا مسلہ ہو ختم ہوجاے گا
چہرے کے بال ختم ہوجاہیں گے ایام باقاعدہ ہوجاہیں گے،
ہر قسم کی رسولی تھلی گلٹھیاں ختم ہوجاہیں گی پیٹ کمر سے لگ جاے گا۔
۔تقریبا ستر پوشیدہ بیماریاں جڑ سے ختم ہوجاہیں گی ۔اس پانی میں اگر ادھی چمچ شہد ڈال لیں تو سونے پر سوہاگہ ہوگا ۔
صرف پندرہ دن استمال کریں ٹیسٹ کراہیں گلٹیان رسولیاں ختم ۔ان شاءاللہ

04/12/2022

جگر کو صحت مند رکھنے میں مددگار غذائیں

لہسن:

زہریلے مواد کا اخراج جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے اور لہسن اس حوالے سے بہترین غذاﺅں میں سے ایک ہے، لہسن میں ایک اینٹی آکسائیڈنٹ الیسین جسم کو تکسیدی تناﺅ سے ہوےن والے نقصان سے بچاتا ہے۔ الیسین وہ اہم بائیو ایکٹیو کمپاﺅنڈ ہے جو جگر کے انزائمے کو حرکت میں لاکر نقصان دہ مواد کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں:

اپنی پلیٹ کو سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک یا ساگ وغیرہ سے جتنا بھریں گے، اتنا ہی جگر کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ یہ سبزیاں قدرتی طور پر جگر کی صفائی میں مدد دیتی ہیں۔

چقندر:

چقندر میں اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں اور ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چقندر کا جوس پینے کی عادت ڈی این اے کے نقصان کو کم کرکے جگر کو نقصان پہنچانے والی انجری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

ہلدی:

ہلدی ایسا مصالحہ ہے جو صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، اور یہ جگر کی صحت کے لیے بھی موثر ثابت ہوتا ہے جو جگر کے خلیات کو دوبارہ بننے میں مدد دیتا ہے۔

گاجر:

گاجر اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز، منرلز اور غذائی فائبر موجود ہوتے ہیں اور اس کا جوس جگر میں ڈی ایچ اے، ٹرائی گلیسڈر اور مونو ان سچورٹیڈ فیٹی ایسڈز لیول کم کرتا ہے جبکہ جگر میں چربی چڑھنے اور زہریلے مواد سے ہونے والے نقصان سے بچنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

اچھی چربی:

صحت کے لیے فائدہ مند فیٹ یا چربی جیسے زیتون کے تیل، وغیرہ جگر کی صفائی کے لیے اچھے سمجھے جاتے ہیں۔

سبزچائے:

سبز چائے پینے کی عادت کے متعدد طبی فوائد ہیں اور اس میں موجود پولی فینولز جگر کے کینسر، جگر کے امراض اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ گرین ٹی ایکسٹریکٹ جگر کی چربی چڑھنے کا باعث بننے والے انزائمے کا خطرہ کم کرتا ہے، تاہم اس کا زیادہ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور 2 سے 3 کہ ہی مناسب ہیں۔

وٹامن سی:

وٹامن سی سے بھرپور غذائیں جیسے ترش پھل وغیرہ زہریلے مواد کی صفائی کرکے جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

سیب:

چین میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ سیب میں موجود پولی فینولز جگر کے ورم کا خطرہ کم کرتے ہیں جس سے مختلف امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے، بس ایک سیب روزانہ اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

پانی کا زیادہ استعمال:

پانی کی کمی جسم میں مختلف مسائل کا باعث بنتی ہے جن میں جگر کے افعال بھی شامل ہیں۔ روزانہ 8 سے 10 گلاس پانی کا استعمال جگر کی صفائی کے عمل کو بہتر بناتا ہے جو اسے امراض سے بچانے کے لیے بہت ضروری ہے۔

زیتون کا تیل:

جگر کے مسائل میں سب سے عام نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز ہے جس کی وجہ طرز زندگی کی خراب عادتیں ہوتی ہیں، مگر طبی سائنس نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ زیتون کے تیل کا استعمال کرتے ہیں، ان میں جگر کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے، زیتون کا تیل نقصان دہ کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں جبکہ انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ:

جنک فوڈ کا استعمال کم اور اومیگا تھری ایسڈز سے بھرپور غذا کا زیادہ استعمال جگر کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے، جنک فوڈ میں موجود چربی جگر پر جم جاتی ہے جو سوجن اور دیگر عوارض کا باعث بنتی ہے جبکہ جسم کے لیے مناسب چربی اس سوجن کے خلاف جدوجہد کرتی ہے۔

اخروٹ:

اکروٹ صحت بخش چربی سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ ورم کش خصوصیات بھی رکھتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کای گیا کہ زیادہ حیوانی چربی کھانے سے جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ بڑھتا ہے مگر اخروٹ کا استعمال اس سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔ اس کے لیے روزانہ چند اخروٹ کھانا کافی ہوتا ہے۔

اجناس کا استعمال:

چینی، سفید آٹے اور پراسیس فوڈ کا استعمال کم کریں اور سبزیوں، پھلوں اور اجناس کو ان کی جگہ ترجیح دیں جو موٹاپے ، ذیابیطس سمیت مختلف امراض سے تحفظ تو دیتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ جگر کو بھی صحت مند رکھتے ہیں۔

ٹماٹر:

ٹماٹر بھی جگر کے لیے صحت بخش ہوتے ہیں، ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جگر کا ورم کم کرنے کے ساتھ انجری سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

کافی:

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ کافی پینے کی عادت جگر کے امراض کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتی ہے جس کی وجہ اس مشروب میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس ہوتے ہیں۔ تاہم 4 کپ سے زیادہ کافی پینا فائدے کی بجائے نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مچھلی:

مچھلی پروٹین کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جو کہ جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ مچھلی سے جسم کو امینو ایسڈز اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی ملتے ہیں جو کہ جگر میں نقصان دہ چربی کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

گریپ فروٹ:

یہ پھل وٹامن سی اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو جگر سے زہریلے مواد کی صفائی میں مدد دیتے ہیں۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ گریپ فروٹ میں موجود اجزا ایسے کیمیکلز کو حرکت میں لاتے ہیں جو کہ جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ کم کرتے ہیں۔۔

Want your practice to be the top-listed Clinic in Rukkan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Gali Jamia Masjid Badrudin
Rukkan

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00