MILAD NAGAR DHOKE RATTA
03/04/2026
وہ دیکھو پاکستان نے آبنائے ہرمز سے چھتیس جہاز بحفاظت نکال لیے
وہ دیکھو اسحاق ڈار چین کے دورے پر پہنچ گئے۔
وہ دیکھو شہباز شریف کے بیان کو ٹرمپ نے ری ٹویٹ کر دیا
مگر یہ نہ دیکھو کہ اسی دوران عوام کس کرب اور بدحالی کا شکار ہیں اور ان کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
16/03/2026
مہنگائی کا بوجھ حکومت برداشت نہ کر سکی دل پر پتھر رکھ کے 9 کروڑ کی مہنگی گاڑی چیئرمین سینیٹ کیلئے خرید لی۔10 کروڑ کی بھی خریدتے تو تم کیا کر لیتے؟؟
ایک طرف حکومتی نمائندگان پورے اعتماد سے اعلان کرتے رہے کہ ملک میں اٹھائیس دنوں کا پٹرولیم سٹاک موجود ہے۔ یعنی یہ وہ تیل ہے جو پرانی قیمتوں پر خریدا جا چکا تھا۔ مگر عجیب منطق ہے کہ اسی پرانے داموں خریدے گئے تیل کی قیمت یک لخت پچپن روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی۔ اس خدشے کے تحت کہ شاید کل کو مہنگا تیل خریدنا پڑ جائے۔ یعنی مستقبل کے ممکنہ خرچے کی پیشگی وصولی آج ہی عوام کی جیب سے کر لی جائے۔
یا پھر شاید حکومت نے یہ سوچا ہو کہ ایسی ہنگامی فضا میں ذرا “عید” ہی منا لی جائے۔ اور اگر عید لگ جائے تو کیا بعید کہ کہیں سے کوئی اور دس ارب کا جہاز بھی ہاتھ آ جائے۔
اصل مسئلہ پٹرول کی قلت نہیں ہے مسئلہ حکومتی ترجیحات کا ہے۔ اگر واقعی مہنگا تیل خریدنا پڑتا تو اس کے مطابق قیمت بڑھا لی جاتی عوام بھی کم از کم یہ سمجھ لیتے کہ خرچ بڑھا ہے تو بوجھ منتقل کیا جا رہا ہے۔ مگر یہاں معاملہ الٹا ہے۔ خرچ ابھی نہیں بڑھا بوجھ پہلے ہی ڈال دیا گیا۔
ہمارے ہاں حکومتوں کی جانب سے موقع پرستی کی جو روایت بن چکی ہے اصل ظلم وہی ہے۔ بحران یہاں اکثر عوام کے لیے نہیں بلکہ حکومتوں کے لیے موقع بن جاتے ہیں۔ اس طرح کے فیصلے کا اثر اشیائے خورد و نوش پر بھی پرتا ہے، مہنگائی بڑھتی ہے اور بداعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
بات ترجیحات کی ہے۔ عوام اشرافیہ کی ترجیح نہیں ہوتے۔ اگر ہوتے تو دیگر اللوں تللوں پر اربوں خرچنے کی بجائے عوامی مفاد میں صرف کیے جاتے۔
اگر مودی اسرائیل کی کھل کے حمایت کرسکتا ہے تو پاکستان کھل کر ایران کی حمایت کیوں نہیں کرسکتا؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Telephone
Website
Address
Rawalpindi
46000