Bright Rider Scientific Academy
21/11/2025
21/11/2025
رسول اللّه ﷺ نے فرمایا
اگر تم گناہ کرو یہاں تک کہ تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تم توبہ کرو تو اللّه تمہیں ضرور معاف کرے گا (ابن ماجہ 4248)
جمعہ مبارک
21/11/2025
21/11/2025
سوال:
کیا بچوں کے لیے ہوم اسکولنگ بہتر ہے یا انہیں اسکول بھیجنا چاہیے؟
جواب:
بچے کی تعلیم کا فیصلہ ہمیشہ اس بات پر ہونا چاہیے کہ اس کی نشوونما کس ماحول میں زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔ ہوم اسکولنگ کا فائدہ یہ ہے کہ بچہ محفوظ، توجہ کے ساتھ اور اپنی رفتار کے مطابق سیکھتا ہے۔ اگر گھر میں وقت، نظم اور سیکھانے والا فرد مستقل توجہ دے سکے تو بچہ اچھی اخلاقی تربیت اور پڑھائی دونوں میں آگے بڑھ جاتا ہے۔ ایسے بچے خوف کے بغیر سوال کرتے ہیں، غلطیاں کرنے سے نہیں گھبراتے اور والدین کے ساتھ اعتماد کا رشتہ مضبوط رہتا ہے۔
اس کے مقابلے میں اسکول بچے کو وہ چیزیں دیتا ہے جو گھر میں پوری طرح نہیں مل سکتیں۔ اسکول میں ہم عمر بچوں کے ساتھ رہ کر سماجی مہارتیں بنتی ہیں، مقابلہ کرنا آتا ہے، ٹیم ورک سیکھا جاتا ہے، نظم و ضبط بنتا ہے اور بچہ استاد کے مختلف انداز سے بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اسکول کا ماحول بچے کے ذہن کو وسیع کرتا ہے اور اسے دنیا کے رنگ دکھاتا ہے۔
فیصلہ اصل میں بچے کی ضرورت اور والدین کی سہولت پر ہے۔ اگر گھر میں مستقل وقت بھی ہے اور والدین پڑھائی میں رہنمائی دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں تو ہوم اسکولنگ کے ابتدائی سال بہت سودمند ہو سکتے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے، اسے سوشل ماحول، گروپ سرگرمیوں اور وسیع تجربات کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، اس وقت اسکول جانا بہتر رہتا ہے۔ دونوں طریقے الگ نہیں، اکٹھے بھی ہو سکتے ہیں۔ بچہ اسکول جائے، لیکن گھر میں مخصوص وقت ہوم اسکولنگ کی طرح فرداً فرداً اس کی تربیت اور کمزوریوں پر کام کیا جائے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچہ جہاں بھی ہو، اسے محبت، رہنمائی اور مستقل مزاجی ملے۔ تعلیم کی اصل بنیاد انہی تین چیزوں پر کھڑی ہوتی ہے، چاہے گھر ہو یا اسکول۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Rawalpindi West Ridge