The Great Rajputs

The Great Rajputs

Share

24/01/2026

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 56
عنوان : راجہ راوک یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

راجہ راوک یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ

راوک سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی محبت کے ہیں

راجہ راوک کا اصل نام راوھک تھا جبکہ تواریخ کی مختلف کتب میں آپ کا نام راوک ، راوھک ، راوک وغیرہ درج ہے

راجہ راوک اپنے والد بھوج شورسینی یادو بنسی کے بعد شورپورہ کے تخت پہ حاکم مقرر ہوئے - راجہ مذکور نے اس شہر کو خوب رونق بخشی یہی وجہ ہے کہ اس دور میں شورپورہ کو ایک خوبصورت شہر مانا جاتا تھا

راجہ راوک کے بیٹوں میں راجہ دیومیدھ زیادہ معروف ہوئے جو کہ بعد ازاں والئی ریاست بنے

قدیم راجپوت کھشتریوں کے متعلق مختلف مصنفین و محققین کی تحقیق درج ذیل ہیں :

مولوی نجم الغنی رامپوری کی کتاب "تاریخِ راجگانِ ہند" کے صفحہ نمبر 85 پہ درج ہے :
"چندر بنسی لوگ ہندوستان میں بڑے زبردست تھے"

کتاب "تاریخِ پاکستان قدیم دور" از یحییٰ امجد صفحہ نمبر 427 پہ درج ہے :
"پانچ بڑے (آریہ) قبائل کے نام یہ تھے یادو ، پورو ، انو ، تروسو اور دروھو"

کتاب "مکمل تاریخِ سُودان" از سلامت رائے دوساج صفحہ نمبر 20 پہ درج ہے :
"قدیم الایام سے کھشتری راج کے مالک چلے آئے - سورج بنس اور چندر بنس دو بنس چلے"

راجہ راوک کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کتب میں مختلف ناموں سے کیا گیا ہے :
راجگان میوات از خانزادہ امان نوشہروی صفحہ نمبر 26 پہ راجہ راوک کا تذکرہ ملتا ہے

تاریخِ بھٹی راجپوت اور راجپوت گوتیں از اعجاز سمبڑیالوی صفحہ نمبر 33

تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10 پہ بھی راجہ مذکور کے نام کے تلفظ راوک درج ہیں

کتاب تاریخِ میو چھتری از حکیم عبدالشکور صفحات نمبر 192 اور 207 پہ راجہ راوک کا نام درج ہے

نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحہ نمبر 464 پہ راجہ راوک کا ذکر ملتا ہے

تاریخِ راجپوت بھٹی از راجہ محمد انور جنجوعہ صفحہ نمبر 5 پہ راجہ راوک کا نام راوک ہی درج ہے

امین التواریخ دھیرکے بھٹیاں از مولانا نور محمد و فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 کے مطابق راجہ راوک کا نام درج ہے

راجہ راوک یادو بنسی کا تذکرہ کئی کتابوں میں درج ہے اور راجپوت گوتوں کے شجرہ نسب میں بھی راجہ راوک کا نام بھی کئی قبائل کے مورثِ اعلیٰ کے طور پہ درج ہے - کئی راجپوت قبائل راجہ بھوج یادو بنسی کے جانشین اور وارث ہیں ، ان قبائل میں بھٹی ، سمہ ، جاڑیجہ ، جادون ، چوڑاسمہ ، پال اور چھوکر قابلِ ذکر ہیں

قوم قبیلہ ہمیشہ پہچان کے لیے ہوتا ہے لہٰذا اپنے خاندان کے متعلق اور اپنے اجداد کے متعلق علم جاننا ضروری ہے لیکن اپنے نسب پہ اترانا مناسب نہیں اور اپنا نسب بدلنا بھی گناہ ہے

راجہ راوک کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
راوک بن بھوج بن سینی بن سور بن دیورَتھ بن بھجمن بن اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ

تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

23/01/2026

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 55
عنوان : راجہ بھوج یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

راجہ بھوج یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ

بھوج سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی عظیم بزرگ کے ہیں

راجہ بھوجہ کا اصل نام بھوج تھا جبکہ تواریخ کی مختلف کتب میں آپ کا نام بھوج ، بھج ، بھوجہ وغیرہ درج ہے

راجہ بھوج اپنے والد سینی یادو بنسی کے بعد شورپورہ کے تخت پہ حاکم مقرر ہوئے - راجہ مذکور نے اس شہر کو خوب رونق بخشی یہی وجہ ہے کہ اس دور میں شورپورہ کو ایک خوبصورت شہر مانا جاتا تھا

راجہ سینی کے بیٹوں میں صرف بھوج کا تذکرہ تاریخ کے اوراق میں ملتا ہے

تاریخ میں راجہ بھوج ایک گمنام یا معمولی حیثیت و اقتدار کے حکمران ثابت ہوئے

قدیم راجپوت کھشتریوں کے متعلق مختلف مصنفین و محققین کی تحقیق درج ذیل ہیں :

مولوی نجم الغنی رامپوری کی کتاب "تاریخِ راجگانِ ہند" کے صفحہ نمبر 85 پہ درج ہے :
"چندر بنسی لوگ ہندوستان میں بڑے زبردست تھے"

کتاب "تاریخِ پاکستان قدیم دور" از یحییٰ امجد صفحہ نمبر 427 پہ درج ہے :
"پانچ بڑے (آریہ) قبائل کے نام یہ تھے یادو ، پورو ، انو ، تروسو اور دروھو"

کتاب "مکمل تاریخِ سُودان" از سلامت رائے دوساج صفحہ نمبر 20 پہ درج ہے :
"قدیم الایام سے کھشتری راج کے مالک چلے آئے - سورج بنس اور چندر بنس دو بنس چلے"

راجہ بھوج کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کتب میں مختلف ناموں سے کیا گیا ہے :
راجگان میوات از خانزادہ امان نوشہروی صفحہ نمبر 26 پہ راجہ بھجن کا تذکرہ ملتا ہے

تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10 پہ بھی راجہ مذکور کے نام کے تلفظ بھوج درج ہیں

کتاب تاریخِ میو چھتری از حکیم عبدالشکور صفحات نمبر 192 اور 207 پہ راجہ بھوج کا نام درج ہے

نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحہ نمبر 464 پہ راجہ بھوج کا ذکر ملتا ہے

تاریخِ راجپوت بھٹی از راجہ محمد انور جنجوعہ صفحہ نمبر 5 پہ راجہ بھوج کا نام بھوج ہی درج ہے

امین التواریخ دھیرکے بھٹیاں از مولوی نور محمد و فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 کے مطابق راجہ بھوج کا نام درج ہے

راجہ بھوج یادو بنسی کا تذکرہ کئی کتابوں میں درج ہے اور راجپوت گوتوں کے شجرہ نسب میں بھی راجہ بھوج کا نام بھی کئی قبائل کے مورثِ اعلیٰ کے طور پہ درج ہے - کئی راجپوت قبائل راجہ بھوج یادو بنسی کے جانشین اور وارث ہیں ، ان قبائل میں بھٹی ، سمہ ، جاڑیجہ ، جادون ، چوڑاسمہ ، پال اور چھوکر قابلِ ذکر ہیں

قوم قبیلہ ہمیشہ پہچان کے لیے ہوتا ہے لہٰذا اپنے خاندان کے متعلق اور اپنے اجداد کے متعلق علم جاننا ضروری ہے لیکن اپنے نسب پہ اترانا مناسب نہیں اور اپنا نسب بدلنا بھی گناہ ہے

راجہ بھوج کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
بھوج بن سینی بن سور بن دیورَتھ بن بھجمن بن اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ

تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

Want your museum to be the top-listed Museum in Rawalpindi West Ridge?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Rawalpindi West Ridge
RAWALPINDI