Musafir

Musafir

Share

18/05/2026

😇
゚viralシ

17/05/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی دو قبریں ہیں؟
....

یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، علامہ محمد اقبال (رحمۃ اللہ علیہ) سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور اُن کی آخری آرام گاہ لاہور میں ہے۔ اُن کا مزار بادشاہی مسجد اور قلعہ لاہور کے درمیان حضوری باغ میں واقع ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ نے وہاں حاضری بھی دی ہو۔ لیکن کیا آپ کو یہ بھی پتا ہے کہ علامہ صاحب کی ایک قبر ترکی میں بھی واقع ہے؟

اگر نہیں پتا تو پھر سنیے! حضرت علامہ محمد اقبال رحمت اللہ علیہ کا جسد تو لاہور ہی میں دفن ہے، لیکن ترکی کے شہر قونیہ میں بھی اُن کی ایک علامتی قبر موجود ہے۔ حضرت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے نواح میں ایک علامتی قبر پر علامہ صاحب کی تختی لگی ہے.
قونیہ آج بھی ترکی کا سب سے زیادہ مذہبی شہر ہے بلکہ اسے ملک میں "اسلام کا قلعہ” کہا جاتا ہے۔

حضرت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ 13 ویں صدی کے ایک عظیم صوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ آپ کا پورا نام جلال الدین محمد رومی تھا۔ آپ موجودہ افغانستان کے علاقے بلخ میں پیدا ہوئے لیکن منگولوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے اُن کے والد نے مغرب کی طرف ہجرت کی جہاں مولانا نے بالآخر قونیہ شہر کو اپنا ٹھکانا بنایا۔ آج اسی شہر میں مولانا رومی کا مزار مرکزِ نگاہ ہے۔ مولانا کا شعری مجموعہ "مثنوی" اِس وقت مقدس آسمانی کتابوں کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر سے لوگ ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں، نواح میں اُن کے شاگردوں کی قبریں بھی موجود ہیں۔ انہی قبروں میں سے ایک کے کتبے پر علامہ صاحب کا نام بھی لکھا ہے۔

تختی پر لکھا ہے، "یہ مقام پاکستان کے قومی شاعر اور دانشور محمد اقبال کو دیا گیا ہے۔"

یہ علامتی قبر دراصل ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ اور مولانا جلال الدین رومی کے رُوحانی تعلق کو بیان کرتی ہے۔ یہ تعلق کتنا گہرا تھا؟ اس کا اندازہ اقبال کی شاعری میں بار بار ہوتا ہے۔

"بالِ جبریل" کی نظم ہے 'پیر و مُرید' جس میں مولانا کو "پیرِ رومی" کہا گیا ہے اور اقبال نے خود کو "مریدِ ہندی" قرار دیا ہے۔

شاید یہ علم ہی ہے جو زمان و مکان کی پابندیاں توڑ دیتا ہے، ورنہ کہاں تیرہویں صدی کے اوائل میں پیدا ہونے والے رومی اور کہاں 19 ویں صدی کے آخر میں پیدا ہونے والے اقبال، دونوں میں 670 سال کا فاصلہ تھا لیکن علم کی دنیا میں یہ صدیوں کا فاصلہ بھی کوئی معنی نہیں رکھتا اور ان حدود کو یہاں تک توڑ دیتا ہے کہ آج ہمیں اقبال رومی کے مزار کے سائے تلے بھی نظر آتے ہیں۔

مصر کی ایک مشہور علمی شخصیت تھے عبدالوہاب عزام، انہوں نے ایک بار کہا تھا "اگر جلال الدین رومی اِس زمانے میں جی اٹھیں تو وہ محمد اقبال ہی ہوں گے۔ ساتویں صدی کے جلال اور چودھویں صدی کے اقبال کو ایک ہی سمجھنا چاہیے۔"

"بالِ جبریل" کی ایک نظم میں علامہ اقبال مولانا رومی کے حوالے سے کہتے ہیں:

ہم خوگرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار
اک بحرِ پر آشوب و پر اسرار ہے رومی
تُو بھی ہے اسی قافلۂ شوق میں اقبال
جس قافلۂ شوق کا سالار ہے رومی
اس عصر کو بھی اس نے دیا ہے کوئی پیغام؟
کہتے ہیں چراغِ رہِ احرار ہے رومی

پاکستان سے بہت سارے سیاح اور عقیدت مند ترکی کے شہر قونیہ جاتے ہیں اور مولانا رومی کے مزار کے بعد علامہ اقبال کی اس علامتی قبر پر بھی حاضری دیتے ہیں۔ اللہ تعالی اپنے ان مقبولان کے درجات مزید بلند فرمائے اور ہمیں ان کی تعلیمات سے استفادہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
゚viralシ

17/05/2026

هماری پولیس / عدالتی نظام کا ماسٹر مائنڈ فرنگی کردار



تھامس بیبنگٹن میکالے (1800ء 1859ء) ایک برطانوی سیاست دان مؤرخ اور شاعر تھے، جو برصغیر میں برطانوی تعلیمی نظام کے معمار کے طور پر مشہور ء میں ان کی تعلیمی پالیسی نے فارسی کی 1835 ہیں۔ جگہ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا، جس کا مقصد ایسے ہندوستانی پیدا کرنا تھا جو انگریزوں کے وفادار ہوں

بر عظیم پاک و ہند آج بھی اسکے بنائے گئے نظام کا قیدی ھے

لارڈ میکالے کی وہ شیطانی وارداتیں جنہوں نے دنیا کو آج تک غلام بنا رکھا ہے

واردات نمبر :1 مخالفانہ عدالتی نظام

(Adversarial System)

لارڈ میکالے نے ہندوستانیوں کا وہ قاضی چھین لیا جو سچ کی تلاش میں خود نکلتا تھا۔ قاضی اور پنچایت پر مشتمل اسلامی نظامِ عدل کو غیر مہذب قرار دے کر وہ نظام دیا جہاں جج کا کام سچ ڈھونڈنا نہیں، بلکہ صرف ایک خاموش تماشائی بن کر وکیلوں کی کہانیاں سننا ہے۔ لارڈ میکالے نے ریاست کو بری الذمہ کر کے ثبوت اکٹھا مظلوم عوام پر Burden of Proof کرنے کا سارا بوجھ ڈال دیا۔ کیوں کہ ایک بے بس مظلوم کبھی بھی برطانوی سامراج کے وفادار چوہدریوں اور وڈیروں کے خلاف ثبوت نہیں لا سکے گا۔

واردات نمبر 2 قانون شہادت

(Law of Evidence)

تھامس لارڈ میکالے نے سچائی کے گرد قانونی کا ایسا جال بنا کہ (Legal Technicalities باریکیوں سچ اس کے آگے خود ہی دم توڑ جائے۔ اگر جج کی آنکھوں کے سامنے بھی کسی کا قتل ہوجائے ، لیکن پھر بھی جج قاتل یا مجرم کو سزا نہیں سنا سکتا جب تک انگریز کے کے سخت Evidence Act بنائے ہوئے قانون شہادت تقاضے پورے نہ ہوں۔ جج کے ضمیر کو گڑوی رکھ کر اسے کاغذ کا غلام بنا دیا۔

واردات نمبر 3

تعزیرات ہند

Indian Panel Code /Pakistan Panel Code

تعزیرات ہند جسے آج ہم تعزیرات پاکستان )Pakistan Penal Code( کہتے ہوئے ہماری اشرافیہ جسے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں، میکالے کا سب سے Benefit of خطرناک ہتھیار یہی ہے۔ اُس نے اس میں کا ایسا خطرناک سوراخ رکھا کہ پاکستانی پولیس Doubt جو کہ میکالے نے ہی ہندوستانی عوام کو کچلنے کے لیے بنائی تھی تفتیش میں ذرا سی بھی جان بوجھ کر غلطی کر دے، تو جج اسی شک کی بنیاد پر قاتل وڈیروں جاگیر داروں با اثر شخصیات کو باعزت بری یعنی رہا کر سکتا ھے۔۔

واردات نمبر 4 انصاف میں تاخیر

(Justice Delayed)

بینینگٹن لارڈ میکالے کی خواہش تھی کہ مقبوضہ عوام کے لیے انصاف کو اتنا مہنگا اور ناقابل رسائی بنا دیا جائے کہ عام بندہ تھک کر گھر بیٹھ جائے۔ میکالے نے مقدمہ بازی کے طریقہ کار یعنی لیجٹ میشن پراسیس کو اتنا کورٹ civil مقدمے کو CIVIL مشکل بنا دیا، جہاں ایک کورٹ پہنچنے میں تقریباً 25 سال لگتے supreme سے ہیں۔ میکالے جانتا تھا کہ جب تک فیصلہ آئے گا، مظلوم کی نسلیں مٹ چکی ہوں گی اور قاتل کے بیٹے اور پوتے اسمبلی میں بیٹھ کر اسی کے قانون کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔ وہ جانتا تھا انصاف میں تاخیر ہی اصل میں ظلم ہے، لیکن ہندوستانیوں کو غلام رکھنے کے لیے یہ ظلم اس نے ضروری سمجھا۔

واردات نمبر 5

تعلیمی پالیسی کا تاریخی نوٹ

(Minute on Education)

تھامس میکالے نے لوکل ہندوستانی زبان چھین کر

انہیں انگریزی قانون کا محتاج کیا۔ اُس نے اپنی کمال حیوانی عقل سے وہ طبقہ تیار کیا جو رنگ اور خون کے Hobby Thinking اعتبار سے تو پاکستانی ہے، مگر Personality اور ideology میں انگریز ہے۔ آج ججوں کے کالے کرتوت اور Judicial System ہمارا بیوروکریسی اسی میکالے والی سوچ کی وارث ہے۔

آج مڈل کلاس / لوئر مڈل کلاس طبقے کی شکست اور جاگیر داروں لٹیروں مافیاز کا پروٹوکول لائف اسٹینڈرڈ هی دراصل لارڈ میکالے کی جیت ہے۔ ہماری اشرافیہ آزاد نہیں ہوئے، یہ آج بھی تھامس میکالے کے استعماری ورثے )Colonial Legacy کے قیدی ہیں۔ جب تک انگریز کی روح اسکا چھوڑا ہوا نظام ہماری عدالتوں میں زندہ ہے، تب تک عوام کو صرف تاریخ ہے تاریخ ملے گی، انصاف نہیں !۔۔۔۔۔

تصویر میں دکھائی گئی دونوں عورتوں کا تعلق ایک ہی ملک ایک ہی صوبے سے ھے لیکن ایک جاگیر داروں وڈیروں کے بچوں منشیات سپلائی کرنے والے مافیا کی ملازم هے دوسری بیچاری مظلوم مڈل / لوئر مڈل کلاس نہتی عورت ھے ایک کو شاہانہ پروٹوکول دوسری کو بالوں سے گھسیٹ کے لیجایا جارہا ھے

جاگیرداری نظام #
سرمایہ_داری_نظام #
طبقاتی_ناانصافی #
استحصال #





゚viralシ

Want your business to be the top-listed Media Company in Rajanpur?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Rajanpur
33500