Time does not remain Same

Time does not remain Same

Share

19/10/2025

*کسی کو بے بس کرنا اور اس کی بے بسی کا تماشہ دیکھنا ایک اعلیٰ درجے کا گھٹیا ترین کام ہے۔۔*

07/10/2025

*نکبہ: فلسطینیوں کی اجتماعی تباہی اور ’’چابی‘‘ کی داستان*

15 مئی فلسطینی تاریخ کا وہ دن ہے جو ان کے دلوں پر کبھی نہ بھرنے والے زخم کی طرح نقش ہے۔ اسے نکبہ (عربی میں عظیم تباہی یا قیامتِ کبریٰ) کہا جاتا ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے اعلان اور اس کے فوراً بعد ہونے والی جنگ نے ایک پوری قوم کو اپنی سرزمین سے بے دخل کر دیا۔

اسرائیل بننے کے وقت تقریباً ساڑھے سات لاکھ فلسطینی اپنے گھروں، کھیتوں اور بستیوں سے نکالے گئے۔ یہ اس وقت کی فلسطینی آبادی کا قریب 80 فیصد تھے۔ اندازہ ہے کہ چار سو کے قریب بستیاں ہمیشہ کے لیے صفحۂ ہستی سے مٹا دی گئیں۔ ان گھروں پر قبضہ کر لیا گیا، کھیتوں کو اجاڑ دیا گیا، اور ان کے مکین پناہ گزین کیمپوں اور اجنبی زمینوں پر جا بسے۔

چابی: یاد اور امید کا استعارہ

جب لوگ اپنے گاؤں اور گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے تو بہت سے خاندان اپنے ساتھ ایک نشانی لے گئے — اپنے گھروں کی چابیاں۔ یہ چابیاں اس یقین کی علامت تھیں کہ جلاوطنی عارضی ہے اور ایک دن وہ واپس آئیں گے۔
آج تین نسلیں گزر جانے کے باوجود یہ چابیاں فلسطینی ہاتھوں میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے اکثر زنگ آلود ہو چکی ہیں، لیکن ان کا مطلب زندہ ہے۔ یہ چابیاں ہر 15 مئی کو نکبہ کی یاد میں بلند کی جاتی ہیں تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ فلسطینی اپنے وطن کو بھولے نہیں۔

اجڑے ہوئے گاؤں اور بکھری زندگیاں

فلسطینی شاعر محمود درویش کے گاؤں البروہ کی طرح سینکڑوں بستیاں مٹا دی گئیں۔ آج ان میں سے اکثر جگہوں پر اسرائیلی بستیاں آباد ہیں یا زمین بنجر چھوڑ دی گئی ہے، مگر فلسطینی اب بھی اپنی شناخت انہی کھنڈرات سے جوڑتے ہیں۔
ان کے لیے یہ صرف جغرافیہ نہیں بلکہ یادداشت اور وراثت ہے۔ وہ جہاں بھی رہتے ہیں، خود کو انہی اجڑے گاؤں کا باسی کہتے ہیں جنہیں انہوں نے کبھی دیکھا بھی نہیں۔

قرارداد 194 اور حقِ واپسی

11 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ نے قرارداد 194 منظور کی جس میں صاف کہا گیا کہ جو پناہ گزین اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں، انہیں اجازت دی جائے اور جو نہ جانا چاہیں انہیں معاوضہ دیا جائے۔ مگر اسرائیل نے ہمیشہ اس قرارداد کو مسترد کیا۔ اسرائیلی موقف یہ ہے کہ اگر پانچ یا چھ ملین فلسطینی واپس آ گئے تو یہودی ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
یوں فلسطینیوں کے ’’حقِ واپسی‘‘ کو 75 برس گزر جانے کے باوجود تسلیم نہیں کیا گیا۔

نکبہ کی دائمی حیثیت

نکبہ فلسطینیوں کے لیے محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔ یہ واقعہ ہر فلسطینی کے خاندان کی کہانی میں زندہ ہے — کسی نے اپنا گھر کھویا، کسی نے کھیت، اور کسی نے پورا گاؤں۔
یہی وجہ ہے کہ نکبہ ان کے لیے صرف ماضی نہیں بلکہ حال بھی ہے۔ ہر پناہ گزین کیمپ، ہر احتجاج، اور ہر نسل کے ہاتھوں میں تھمی ہوئی وہ پرانی چابیاں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ایک دن واپسی ضرور ہوگی۔

Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization in Raiwind?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Raiwind
55150