HaalHawal.Com

HaalHawal.Com

Share

10/09/2024

اسٹڈی سرکل
(شاہ محمد مری)

محکوموں کی طرفدار انجمن یا پارٹی محض اُن کی طرفدار ہی نہیں بلکہ اُن کا ہر اول دستہ بھی ہوتی ہے۔ یہ محکوموں مظلوموں کو اکٹھا کرتی ہے۔ انہیں قیادت مہیا کرتی ہے اور انہیں استحصالی نظام کے خاتمے اور منصفانہ نظام کے قیام کے لیے تیار کرتی ہے۔

اور یہ سارا کام انہیں سیاسی تعلیم دےے بغیر ممکن نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ انجمن محکوموں مظلوموں کی استاد بھی ہے، آرگنائزر بھی ہے اور راہنما بھی ہے۔ اسی لیے اس کے ارکان کے لیے لازمی ہے کہ وہ سائنسی علم اور شعور حاصل کریں، سماج کی ترقی و تبدیلی کے قوانین جانیں اور اس علم کا سماج کے ٹھوس حالات پہ اطلاق کریں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی تعلیم کسی بھی انقلابی سیاسی گروپ یا پارٹی کے سیاسی کام کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ یہ پارٹی یا گروپ سیاسی سائنٹفک تعلیم کا اعلیٰ ترین ادارہ ہوتا ہے۔ اسی لیے لازم ہے کہ سیاسی تعلیم پارٹی لائف کی ہر سطح پر ایک لازمی جزوِ ہو۔ ایک ایک پارٹی ممبر کے دل میں بٹھایا جائے کہ وہ خواہ کتنا ہی عالم فاضل کیوں نہ ہو، کبھی بھی ایجوکیشن کی ضرورت سے بڑا نہیں ہوتا۔

مارکسزم ایک زندہ سائنس ہے۔ اس کا مقصد سماج کو تبدیل کرنا ہے، محض اس پہ غور کرنا نہیں۔ لہٰذا انقلابی تعلیم لوگوں کو نہ صرف انقلابی اصولوں اور تھیوری کی طرف راغب کرتا ہے بلکہ وہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ ایک بدلتی ہوئی دنیا پہ سائنسی تجزیہ کا کس طرح اطلاق کرنا ہے۔ پارٹی ممبر پارٹی لٹریچر کو محض رٹا لگانے اور جگہ جگہ سناتے پھرنے کے لیے نہیں پڑھتے۔ نہ ہی وہ اسے مطالعے کی عادت کی وجہ سے پڑھتے ہیں۔ وہ تو مارکسزم کا جوہر، اس کا مغز، اُس کا موقف ،اس کا نقطہِ نظر اور طریقِ کار پڑھتے ہیں۔ مارکسزم پڑھنے کا ایک بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قاری کی حکمران طبقات کے خلاف نفرت بڑھے، کم نہ ہو۔ چنانچہ مارکسسٹ ایجوکیشن نہ صرف نئے ممبروں کے لیے ضروری ہے بلکہ پرانے اور سینئر ممبروں کے لیے بھی ہمہ وقت اہم ہوتی ہے۔

پارٹی ممبروں کا ایک فرض یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ مزدوروں اور کسانوں کو ان کے طبقاتی کردار سے آگاہ کریں۔ انہیں طبقاتی شعور دیں، انہیں منظم کریں اور اپنے علم سے انہیں لیس کریں تاکہ وہ عمل کے میدان میں اتریں۔ اور وہاں بہت کم نقصان پہ پرانے سماج کو ڈھا دیں اور اُس کی جگہ پہ اپنی تعلیمات کے مطابق نظام تعمیر کریں۔

یہ جو ہم آج کل کسی لان یا ہال میں 30، 40 افراد بیٹھ کر سیاسی معاملات پہ بات کرتے ہیں، اس کا مارشل لائی پاکستان میں تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح کے اجتماعات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اس کے بغیر آج کا سماج چلتا ہی نہیں۔ مثال کے طور پر پچھلے 30 سالوں سے سنگت اکیڈمی آف سائنسز ہر ماہ دو بڑی نشستیں منعقد کر رہی ہے۔ ان میں مقالے پڑھے جاتے ہیں، لیکچر ہوتے ہیں، سوال جواب اور ڈسکشن ہوتے ہیں۔ وہاں موقف اپنایا جاتا ہے، سیاسی ورکر اپنے حلقوں میں پھر اسی بات کو لے کر آگے بڑھتے ہیں۔ سب کا موقف وہی ہوتا ہے جو انہوں نے اس نشست میں بنایا تھا۔۔۔۔ یہ بہت زبردست کام ہے۔
مگر، بہرحال یہ سٹڈی سرکل میں شمار نہیں ہوتا تھا۔

سٹڈی سرکل میں زیادہ سے زیادہ 7 یا 9 افراد ہی ہوتے ہیں۔ ایسے چھوٹے گروپوں میں سیکھنے سکھانے کا کام کامیاب رہتا ہے۔ عقلی بنیادیں بڑے مجمعے میں نہیں، انہی چھوٹے سٹڈی سرکل گروپس سے ہی مضبوط ہوتی ہیں۔ وہاں سیرحاصل ڈسکشن تو کیا، ڈھنگ کا سوال جواب بھی نہیں ہو سکتا۔ اتنے بڑے مجمعے میں سوال پوچھنا ویسے ہی جھجک کی بات ہوتی ہے اور اگر جرات کر بھی لی تو وقت اس قدر کم ہوتا ہے کہ ایک آدھ شخص ہی سوال کر پائے گا۔

دوسرا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ مجمع میں سب لوگ شعوری اور سینیارٹی کے لحاظ سے یکساں سطح کے نہیں ہوتے۔ کوئی بہت پڑھا لکھا ہو گا جب کہ کچھ لوگ بس ابھی سٹارٹ کر رہے ہوں گے۔

سٹڈی سرکل میں کسی سینئر سے مشورہ کر کے یا پھر شرکا باہمی مشورے سے ایک موضوع طے کرتے ہیں، اس کے لیے متعلقہ مطالعہ مواد سلیکٹ کرتے ہیں۔ پھر وہ اس کتاب کے چار پانچ صفحے پڑھتے ہیں۔ اس پر اجتماعی بحث کرتے ہیں، تجزیہ کرتے ہیں اور نتائج نکالتے ہیں۔ اگلے ہفتے پھر بیٹھتے ہیں اور کتاب کے اگلے چار پانچ صفحے پڑھتے ہیں۔ کتابوں کے علاوہ سٹڈی سرکل میں پارٹی کے ترجمان اخبار کے مضامین (بالخصوص اس کا اداریہ) پڑھا جاتا ہے اور یا پھر پارٹی کی سیاسی رپورٹیں گروپ میں پڑھی جاتی ہیں۔ اور ان پہ بحث ہوتی ہے۔ سوال جواب ہوتے ہیں۔

سٹڈی سرکل کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ باقاعدگی سے منعقد ہوتا رہے۔ اور وہ بھی ہفتہ وار تاکہ ایک جمہوری شرکت کاری کے طریقے سے فلسفہ، معیشت، سماج، ورکنگ کلاس، قومی آزادی، نیچر اور کلچر کے بارے میں باہمی علم میں اضافہ ہو سکے۔ گہرائی اور جمہوری انداز میں ہر ممبر کی شرکت والے ڈسکشن کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ چیزیں بہت دیر تک یاد رہتی ہیں۔

مہینے کے آخر میں سٹڈی سرکل انچارج اپنے سٹڈی سرکل گروپ کی کارگزاری کی رپورٹ تیار کرتا ہے۔ یہ ایک طرح سے ایک سیاسی رپورٹ بن جائے گی جو کہ کونسپٹس بنانے، اہم سیاسی جدوجہدوں اور پارٹی حکومت عملی کے مطابق گروپ کی نشوونما کے بارے میں بتائے گی۔

سٹڈی سرکل میں نظریاتی تعلیم، سیاسی ڈویلپمنٹ اور لیڈرشپ ٹریننگ کا کام تو ہوتا ہی ہے مگر یہ تنظیم اور ڈسپلن کا بھی زبردست ذریعہ ہوتا ہے۔
سٹڈی سرکلز کامریڈشپ اور مشترک مقصد کے احساس کو فروغ دیتے ہیں۔

یہ گروپ انقلابی نظریات، تاریخ اور اصولوں کے بارے میں پڑھتے اور بحث کرتے ہیں۔ سٹڈی سرکل میں سامراج کے بارے میں پڑھا جاتا ہے۔ عالمی کپٹلزم پہ بات ہوتی ہے۔ ملک کے کچھ حصوں میں موجود فیوڈلزم پہ بحث ہوتی ہے۔ طبقاتی تقسیم، طبقاتی جدوجہد، اس کا ارتقا اور سماج پہ اس کے اثرات پہ سیکھا سکھایا جاتا ہے۔ ہمارے جیسے معاشروں میں قومی مسئلہ اور عورتوں کا مسئلہ احتیاط سے اور گہرائی سے مطالعہ کے لائق ہیں۔ ان میں بالادست قوم کی طرف سے محکوم کردہ قوم پہ جبر اور استحصال کی تفصیلات پڑھی جاتی ہیں اور ان سے نجات کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں۔ سٹڈی سرکلوں میں قومی حقِ خود اختیاری بشمول حقِ علیحدگی کے لیننی اصول کے بارے میں تفصیلی مباحث ہوتے ہیں۔ اسی طرح عورتوں کے سیاسی معاشی اور بالخصوص سماجی معاملات کو باریکی سے دیکھا جاتا ہے۔ گھریلو مارپیٹ سے لے کر اُن کی خرید و فروخت تک ساری تفصیل پڑھ کر اُن کے حل کی باتیں سوچنی ہوتی ہیں۔ اُس کو مین سٹریم میں لانے کی تدابیر پر بات کرنی ہو گی۔ اسی طرح پیٹر یا کی جو کہ فیوڈل نظام کا اٹوٹ حصہ ہے، اس کے خاتمے کی صورتوں کے بارے میں مطالعہ کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں لینن ازم کے سائنسی اصولوں اور پولیٹکل اکانومی کو پڑھتے ہوئے شعوری طور پر قومی سوال اور عورت سوال پہ ان اصولوں کے اپلیکیشن کی تدابیر سوچنی ہو گی۔ سٹڈی سرکل میں جدید سائنس کی latest دریافتوں اور ہم عصر سماج اور انقلابی تحریکوں کے بارے میں پڑھا جاتا ہے۔ عورتوں کی تحریک، ٹریڈ یونین کی تحریک اور پراگریسو ادبی عملی تحریک کے بارے میں جانکاری حاصل کی جاتی ہے۔ سٹڈی سرکل میں خود پارٹی کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔ پارٹی کا نظریہ کیا ہے؟ اس کی پالیسی کیا ہے؟ اس کے ادارے کون کون سے ہیں؟ اس کی کانگریسیں کیسے منعقد ہوتی ہیں؟ اس کے الیکشن کیسے ہوتے ہیں اور اُس کی تاریخ کیا رہی ہے؟
لہٰذا انقلابی پارٹیوں کی سرگرمی میں سٹڈی سرکل لازمی ہوتے ہیں۔

سٹڈی سرکل مستقبل کے لیے لیڈر شپ تیار کرتا ہے، ان میں موثر لیڈرشپ کے لیے ضروری علم اور مہارت بھر دیتا ہے۔ اکٹھے مطالعہ کرنے سے ممبرز کے درمیان کا مریڈشپ پیدا ہوتی ہے۔ ان میں مشترکہ مقصد کے لیے اتحاد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ایکٹوازم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تاکہ گراس روٹس تنظیم، پروپیگنڈا اور ایجی ٹیشن کے لیے ممبرز موبلائز ہوں۔

یوں مل جل کر پڑھنے سے شرکا ایک محبت بھرے ماحول میں آگے بڑھتے ہیں اور مشترکہ کامیابی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس مشترک مطالعے سے، اس تربیت سے فیصلے لینے کے لیے ممبرز کی اہلیت بڑھ جاتی ہے۔ وقت پہ بہترین ممکنہ فیصلے لینا اور موثر اقدامات اٹھانا ان کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔

سٹڈی سرکلوں کو ترجیح دے کر انقلابی پارٹیاں ایک مضبوط، باخبر اور متحد ممبرشپ بنا سکتی ہیں، وہ پارٹی کے مقاصد اور نظریات کو آگے لے جانے کے لیے ایک لشکر بنا سکتی ہیں۔ نظریاتی یکجہتی جس کے لیے انقلابی پارٹیاں مشہور ہیں، وہ انہی سٹڈی سرکلوں میں پروان چڑھتی ہے۔

سٹڈی سرکل اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس میں آرگومینٹ صاف اور واضح ہو جاتے ہیں۔ ایک سالڈ نتیجے پر پہنچا جاتا ہے۔ دوستوں کی کیمسٹری میچ کرنے لگ جاتی ہے۔ وہ آرگنائزڈ ہوتے جاتے ہیں۔

لیکن یہ تب ممکن ہے جب یہ کام تسلسل کے ساتھ ہو۔

(اداریہ، ماہتاک سنگت، ستمبر 2024ء)

05/08/2024

میرین ڈرائیو گوادر کے مناظر

05/08/2024

بلوچ یکجہتی کمیٹی تخریب کاروں کی پراکسی ہے، بیرونی فنڈنگ اور بیانیے پر جتھا جمع کرنا ان کا کام ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی تخریب کاروں کی پراکسی ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لیڈرشپ کرمنل مافیا کی پراکسی ہے، اس پراکسی کو ایجنسیز کو بدنام کرنے کا کام دیا گیا ہے، بیرونی فنڈنگ اور بیانیے پر جتھا جمع کرنا ان کا کام ہے۔

ترجمان فوج نے بلوچ یکجہتی کمیٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پتھراؤ کرو، آگ لگاؤ اور بے جا مطالبات پیش کرو اور جب ریاست جواب دے تو معصوم بن جاؤ۔ بلوچستان حکومت نے کہا پرامن احتجاج کریں لیکن سڑکیں بلاک نہ کریں، انہوں نے کہا کہ ہم نے تو سڑکیں بلاک کرنی ہیں، ان لوگوں نے زائرین پر پتھراؤ کیا، ایف سی پر حملہ کیا، سبی کے سپاہی کو پرتشدد ہجوم نے قتل کیا۔

ڈی جی آئی اسی پی آر نے کہا کہ سفارتخانوں کے سامنے احتجاج پر بہت پیسہ لگایا جا رہا ہے، لابنگ فرمز ہائیر کر کے انتشار کا بیانیہ بنایا جاتا ہے، ایک مخصوص سیاسی پروپیگنڈے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ کے لیے ایک جامع اسکالرشپ کا شروع کیا گیا ہے، جس میں ان کو پاکستان آرمی کی جانب سے تعلیم کے ساتھ تمام سہولیات اور اخراجات بھی فراہم کیے جار رہے ہیں، اب تک اس پروگرام کے تحت 8 ہزار سے زائد بلوچستان کے طلبہ مستفید ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بلوچستان میں ایف سی اور پاک فوج کی جانب سے مختلف علاقوں میں بچوں کو تعلیم کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے 92 اسکول چلائے جا رہے ہیں جن میں 19 ہزار طالب علم زیر تعلیم ہیں، یہ بھی بتاتا چلوں کہ افواج پاکستان کے تعاون سے بلوچستان کے 253 طالب علموں کو متحدہ عرب امارات کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم بھی دی گئی ہے۔

05/08/2024

تربت میں ضلعی چیئرمین میر ہوتمان اور سول سوسائٹی تربت کے زیر اہتمام 5 اگست یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے کار ریلی نکالی گئی۔

یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے ائیرپورٹ چوک سے تعلیمی چوک تربت تک کار ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکا نے کشمیر کے حق میں "کشمیر بنے گا پاکستان ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں" کے نعرے لگائے جبکہ کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی بھی کیا۔

ریلی کے شرکا نے ہاتھوں میں کشمیر کا پرچم اٹھا کر اپنے کشمیری بھائیوں سے محبت کا اظہار کیا۔

05/08/2024

بنگلہ دیش میں حکومت کا دھڑن تختہ، فوج قابض

ملک میں حالات کشیدہ، ہلاکتوں کی تعداد 300 تک پہنچ گئی۔ فوج نے وزیراعظم کو استعفیٰ دینے کا کہا۔

حسینہ واجد نے استعفے سے قبل تقریر ریکارڈ کرانے کی کوشش کی۔ حسینہ واجد کو سیکورٹی اور فوجی حکام نے تقریر ریکارڈ کرانے نہیں دیا۔ ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے حسینہ واجد کو انڈیا پہنچایا گیا: نیوز ایجنسی رائٹرز کا دعویٰ

شیخ حسینہ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔حسینہ واجد کو ہیلی کاپٹر میں انڈیا پہنچایا گیا ہے۔ کچھ دیر میں انڈیا سے طیارے کے ذریعے فن لینڈ منتقل کیا جائے گا: بھارتی میڈیا

بنگلہ دیش کے آرمی چیف وقار الزماں نے بنگلہ دیش کی قوم سے خطاب کرتے ہوۓ کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت بنے گی جبکہ بنگلہ دیش کے تمام فیصلے فوج خود کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے مطالبات پورے کیے جائیں گے، جو کچھ بھی ہوا غلط ہوا، عوام ہماری مدد کریں اور امن کا راستہ اپنائیں۔

04/08/2024

گوادر جھلس جل رہا ہے!
تحریر: سلیمان ہاشم

گوادر میں 28 جولائی سے تمام نیٹ ورکس بند ہیں۔ آج 4 اگست کی شام کو پی ٹی سی ایل لینڈ لائن نیٹ ورک بحال ہونے کی اطلاعات آئی ہیں لیکن موبائل نیٹ ورکس اب تک بند ہیں۔ لوگ اپنے عزیز اقارب اور پیاروں کی حال پرسی سے محروم ہیں۔ وہ لوگ جن کی دسترس میں وائی فائی ہے وہ محدود تعداد میں ہیں۔ گوادر کے کئی لوگ علاج معالجہ کے لیے کراچی اور کوئٹہ میں کئی دنوں سے پھنس چکے ہیں۔ ان کی جمع پونجی بھی ختم ہو گئی ہے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ اور گوادر کے ڈپٹی کمشنر نے دو دن پہلے کہا کہ ہم نے دھرنے والوں کے تمام مطالبات تسلیم کیے ہیں۔ ان کے جیلوں میں بند 70 افراد کو رہا کیا گیا ہے جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس بات کی تردید کر رہی ہے۔

مکران کوسٹل ہائی وے، اوتھل زیرو پوائنٹ کو بلاجواز بند کیا گیا ہے اور آمدہ اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے کئی مقام پر پھر روڈوں کو بلاک کرنے کے لیے کنٹینرز رکھے جا رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو بلوچ مچی 28 جولائی کو ہی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں اختتام پذیر ہوتا۔ اب بھی گوادر میرین ڈرائیو پر ماہ رنگ کی قیادت میں ہزاروں لوگوں کا دھرنا جاری ہے۔

گوادر شہر میں مکمل ہڑتال ہے۔ ایک جانب ڈی سی نے مذاکرات کی کامیابی کی نوید سنا دی اور چھوٹی گاڑیوں کو کوئٹہ کراچی آمدورفت کی اجازت دی تھی مگر مکران آنے جانے والی تمام گاڑیوں کو دوبارہ روک دیا گیا۔ اورماڑہ، پسنی، جیوانی، گوادر، تربت اور دیگر علاقوں میں خوراک اور راشن کے ساتھ زندگی بچانے والی ادوایات کی قلت ہو گئی ہے۔

عوام حکومتِ وقت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ دھرنے میں چند ہزار لوگ ہوں گے، پورے مکران کو کیوں بھوکا پیاسا رکھا جا رہا ہے؟ ان لوگوں کو فوری ریلیف دیا جائے۔ انہوں نے گوادر ڈی سی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے گوادر کے عوام کے تسلیم شدہ مطالبات کی پاسداری کریں اور موبائل و انٹرنیٹ سروس کو فوری بحال کرائیں۔

اس کے علاوہ عوام کا کہنا ہے کہ گوادر کے منتخب ایم این اے اور ایم پی اے بھی خاموشی کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان کو چاہیے کہ وہ گوادر کے عوام کی تکالیف سے متعلق انتظامیہ سے رابطہ رکھیں اور انھیں حل کروانے کی کوشش کریں۔ صرف بیانات سے کام نہیں چلے گا۔ ایم پی اے اور ایم این اے دونوں گورنمنٹ میں شامل ہونے کے باوجود اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔ لوگوں میں ان کے خلاف بھی غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔ اگر فوری طور پر عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ ماہی گیر کمپنیاں بند ہونے سے ماہی گیر سخت اذیت کے شکار ہیں۔

ایک اطلاع کے مطابق گوادر میں تمام ڈیموں سے پانی کی شہر میں رسائی میں مشکلات پیش آنے سے لوگ پیاسے رکھے جا رہے ہیں۔ جتنا جلد ہو سکے حکومت اور عوامی نمائندے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں سے مذاکرات کر کے عوام کو ریلیف دیں۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Quetta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Quetta
83700

Opening Hours

Monday 17:00 - 23:30
Tuesday 17:00 - 23:30
Wednesday 17:00 - 23:30
Thursday 17:00 - 23:30
Friday 17:00 - 23:30
Saturday 17:00 - 23:30