AR Voice
40 سال بعد کلاس فیلوز کی یادگار ملاقات... بچپن کی یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئیں۔
شہید اہلکار زیارت اکبر شیرانی کی نمازِ جنازہ کلی پاسرہ، سنجاوی میں ادا کر دی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
09/07/2026
اعلانِ نمازِ جنازہ: شہید اکبر شیرانی کا جنازہ آج شام 5 بجے کلی آواڑہ سنجاوی، مولوی پائل آقا قبرستان میں۔ اللہ مغفرت فرمائے۔..
زیارت میں شہید ہونے والے سنجاوی سے تعلق رکھنے والے تین پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں صوبائی وزیر نور محمد دمڑ، ضلعی انتظامیہ کے افسران، معززینِ علاقہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
"زیارت سے صورتحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ضلع کی مختلف ایمبولینسز طلب کیے جانے کی بات سامنے آ رہی ہے، تاہم مزید تفصیلات اور باضابطہ تصدیق کا انتظار ہے۔
اللہ رب العزت لاپتہ افراد کو اپنے حفظ و امان میں رکھے
08/07/2026
کبھی کبھی انسان ہنستے ہنستے وہ بات کہہ جاتا ہے، جس پر بعد میں پورا علاقہ رو دیتا ہے…
ہمارے علاقے کے نہایت خوش اخلاق، ہر دل عزیز اور انتہائی مذاقی انسان پولیس اہلکار اکبر شیرانی چند دن پہلے سنجاوی سے زیارت کے علاقے مانگی ڈیم منتقل ہوئے تھے۔ سب جانتے تھے کہ وہ علاقہ حساس ہے، وہاں پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں اور حالات ہمیشہ پریشان کن رہتے ہیں۔ شاید اسی احساس کے ساتھ انہوں نے فیس بک پر اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں پشتو میں لکھا تھا:
"سرا کون۔ی۔انو، زه هم مانګي ډیم ته ټرانسفر سوم."
دوستوں نے بھی ہنسی مذاق میں تبصرے کیے۔ کسی نے لکھا: "اب تو شہید ہو جاؤ گے۔" کسی نے کہا: "تم اس قابل ہو۔
" اور اکبر نے بھی مذاحیہ جواب دیا:
"دشمن سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔"
کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہی الفاظ چند دن بعد دل کو چیر کر رکھ دیں گے۔ جو بات اُس وقت صرف مذاق تھی، آج اسے پڑھ کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
آج وہ سمیت کئی اہلکار دہشت گردوں کے حملے کے بعد لاپتہ ہیں، جبکہ کئی جوان شہادت کا عظیم رتبہ پا چکے ہیں۔ پورا علاقہ بے چین ہے، ہر گھر دعا کر رہا ہے، ہر دل یہ امید لگائے بیٹھا ہے کہ اکبر شیرانی سمیت تمام لاپتہ افراد خیریت سے واپس آ جائیں۔
اس واقعے نے ایک اور تلخ حقیقت بھی ہمارے سامنے رکھ دی ہے۔ ہم شاید اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ خطرے کی بات بھی مذاق میں کر دیتے ہیں۔ ہم ہنس دیتے ہیں، آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن پھر اچانک ایک دن وہی مذاق حقیقت بن کر سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔
یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، یہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہے۔ ہمیں صرف سانحات کے بعد افسوس نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے علاقوں کے امن، اپنے لوگوں کی حفاظت اور اپنے محافظوں کی سلامتی کے لیے بھی پرامن، باوقار اور ذمہ دار آواز اٹھانی چاہیے۔ کیونکہ خاموشی کبھی کبھی بہت مہنگی پڑ جاتی ہے۔
یا اللہ! اکبر شیرانی سمیت تمام لاپتہ افراد کو اپنی حفظ و امان میں رکھ، انہیں دشمن کے شر سے محفوظ فرما، جلد اپنے اہلِ خانہ سے ملا دے، شہداء کی مغفرت فرما، ان کے درجات بلند فرما، اور ہمارے علاقے سمیت پورے وطن میں ہمیشہ امن و سکون قائم فرما۔ آمین۔۔۔
قدرت کے شاہکاروں کو کس کی نظر لگ گئی؟
ہنہ اوڑک اور زیارت کی پرکشش وادیوں میں موجودہ کشیدگی اور افسوسناک واقعات کی تازہ ترین اپڈیٹ۔
شیرانی کے علاقے دانا سر بس حادثہ: 40 جانوں کا ضیاع اور ایک ہولناک انکشاف!
کیا مسافر بسوں میں اسمگل شدہ ڈیزل کی ترسیل اور ڈرائیور کی غفلت اس حادثے کی وجہ بنی؟
02/07/2026
خون دینے کے بعد جوس اور آرام... کیا واقعی ضروری ہیں؟
آج لیب سے ایک کال آئی۔
دوسری طرف سے آواز آئی:
"عبدالرحمن لالا! کیسے ہو؟ آپ کے بلڈ کی ضرورت ہے، کیا آپ نے حال ہی میں کسی کو خون دیا ہے؟"
میں آواز سے انہیں پہچان نہ سکا، لیکن میرے نزدیک خون دیتے وقت پہچان سے زیادہ انسانیت اہم ہوتی ہے۔ میں نے کہا: "میں اس وقت کام میں مصروف ہوں، اگر آپ ہسپتال تک آ سکتے ہیں تو میں خون دینے کے لیے تیار ہوں۔"
کچھ دیر بعد لیب کا محترم خود پہنچ گیا۔ میں نے اپنے مریض کا کام مکمل کیا، ہاتھ دھوئے اور پوچھا:
"خون کس کے لیے چاہیے؟"
جواب ملا:
"ایک غریب آدمی ہے، یہاں اس کا کوئی جاننے والا بھی نہیں۔"
یہ سن کر دل کو خوشی ہوئی کہ الحمدللہ، خون کسی ایسے انسان کے کام آئے گا جسے واقعی اس کی ضرورت ہے۔
جب خون لینے والی سوئی دیکھی تو بولا
"شاید بہت سے لوگ خون کی کمی سے نہیں، اس سوئی سے ڈرتے ہیں!"
میری رگیں بھی کچھ نازک ہیں، اس لیے معمولی سی تکلیف ضرور ہوئی، لیکن چند ہی منٹوں میں خون کا بیگ بھر گیا۔
خون دینے کے بعد انہوں نے کہا جوس پیناہے۔" پشتو میں کہتے ہیں،
" په دې ست مې په خپل کور کې هم نه دی چښلی.""
میں نے مسکرا کر جواب دیا:
"رہنے دیں، ،نہیں پینا ہے۔
وہ فوراً ہنس کر بولے.. میرا ایک دانت بھر دیں۔
یوں خون بھی دے دیا، اور آرام کرنے کے بجائے ان کے دانت کی فلنگ بھی کر دی، پھر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
تقریباً ایک گھنٹے کے کام کے بعد ایک کپ سبز چائے پی، اور بعد میں ایک دوست کے ساتھ جوس بھی پی لیا۔ یعنی جوس پیا بھی بس اپنے شوق پر۔
دوست نے کہا کہ پیسے میں دیتاہوں، میں نے ہنستے ہوئے کہا نہیں کیوں بلڈ والے نے پیسے نہیں دئیے آپ تو بالکل نہیں دیں گے۔
اس واقعے کے بعد خیال آیا کہ ہمارے ہاں خون دینے کے بعد جوس پلانا اور آرام کروانا تقریباً ایک روایت بن چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جوس کوئی دوا نہیں، بلکہ اس کا مقصد جسم کو پانی اور فوری توانائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص صحت مند ہو، مناسب کھانا کھایا ہو اور اسے چکر یا کمزوری محسوس نہ ہو، تو صرف پانی پینا اور معمول کی غذا لینا بھی کافی ہوتا ہے۔
اسی طرح خون دینے کے بعد پورا دن بستر پر لیٹے رہنا بھی ضروری نہیں۔ چند منٹ آرام کرنے کے بعد، اگر طبیعت بالکل نارمل ہو، تو روزمرہ کے معمولات انجام دیے جا سکتے ہیں۔ البتہ اسی دن بھاری وزن اٹھانے، سخت ورزش یا غیر معمولی جسمانی مشقت سے پرہیز کرنا بہتر ہوتا ہے، اور پانی زیادہ پینا چاہیے۔
خون کا عطیہ صرف چند منٹ لیتا ہے، لیکن انہی چند منٹوں میں کسی انسان کی زندگی بچ سکتی ہے۔
اگر آپ صحت مند ہیں اور خون عطیہ کرنے کے اہل ہیں، تو بلا جھجھک خون عطیہ کریں۔ جوس بعد میں بھی پیا جا سکتا ہے، لیکن کسی مریض کو خون وقت پر ملنا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
مئی کا مہینہ، گرمیوں کی آمد، اور ناران کی جنت نظیر وادی میں واقع سیف الملوک جھیل پر برفباری کا دلکش منظر۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Website
Address
Quetta