Reporter Quetta
16/04/2026
کچلاک بائی پاس کے قریب سیکورٹی چیک پوسٹ پر نامعلوم مسلح افراد کا حملہ،
سیکورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ،
حملے میں دو حملہ آور ہلاک اور سیکورٹی فورسز کے دو اہلکار زخمی ہوئے،
سیکورٹی فورسز کی بروقت کاروائی سے دونوں حملہ آوروں ہلاک ہوئے، پولیس
15/04/2026
بلوچستان میں سرکاری افسران کی لائیو لوکیشن کی ساتھ ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ کیوں؟
بلوچستان حکومت نے فیلڈ افسران کی حاضری اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے لائیو لوکیشن پر مبنی ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِصدارت ہونے والے ایک اعلٰی سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، معیار اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں مختلف محکموں کے سیکریٹریوں نے اپنے اپنے شعبوں میں جاری منصوبوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بعض منصوبوں کی رفتار سُست ہے جبکہ کئی منصوبے مختلف انتظامی اور تکنیکی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزیراعلٰی نے ضلعی افسران سے کہا کہ وہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں رہنے کے بجائے فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور منصوبوں کی نگرانی کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘عوامی مسائل کے بروقت حل اور ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے مؤثر فیلڈ مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے۔‘
سرفراز بگٹی نے تمام انتظامی سربراہان کو ہدایت کی کہ ایسے افسران جو 10 دن سے زائد عرصے تک فیلڈ سے غیرحاضر پائے جائیں اُن کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلٰی کا کہنا تھا کہ مجوزہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے تحت افسران کی حاضری لائیو لوکیشن کے ذریعے چیک کی جائے گی۔
’اس سے نہ صرف ان کی موجودگی کی تصدیق ممکن ہوگی بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کو بھی حقیقی وقت میں دیکھا جا سکے گا۔‘
سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ صوبے میں جاری تمام ترقیاتی منصوبے جُون سے قبل ہر صورت مکمل کیے جائیں اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلٰی نے کہا کہ اس نظام سے حکومتی کارکردگی میں بہتری آئے گی، نگرانی کا عمل شفاف ہوگا اور عوامی وسائل کے استعمال میں جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ان شکایات کے بعد کیا گیا کہ صوبے کے دُوردراز علاقوں میں تعینات کئی سرکاری افسران فیلڈ میں ڈیوٹی دینے کے بجائے اپنا زیادہ تر عرصہ کوئٹہ میں گزارتے ہیں۔
ان ہی شکایات کے ازالے اور افسران کی نگرانی کے لیے اب حکومت نے صوبے میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام کے تحت سرکاری افسران کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ہفتے کے مقررہ دنوں میں اپنی لائیو لوکیشن بھیجیں تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کی جگہ پر یا پھر فیلڈ میں موجود ہیں بھی یا نہیں۔
بلوچستان میں سرکاری ملازمین کے حوالے سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ اُن کی بڑی تعداد ڈیوٹیوں پر حاضر ہوئے بغیر تنخواہیں وصول کر رہی ہے۔
جنوری 2024 میں اُس وقت کے نگراں صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر قادر بخش نے انکشاف کیا تھا کہ بلوچستان کے دو ہزار سے زائد اساتذہ گذشتہ کئی برسوں سے بیرونِ ملک بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔
15/04/2026
بلوچستان میں خواتین کی صحت کے لیے بڑی پیش رفت: سینیٹری پروڈکٹس پر ٹیکس 50 فیصد کم یا ختم کرنے کا فیصلہ
کوئٹہ — خواتین کی صحت اور فلاح و بہبود کے شعبے میں ایک اہم اور مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صوبائی حکومت اور اراکین اسمبلی نے بنیادی حفظانِ صحت کی مصنوعات (سینیٹری پروڈکٹس) پر عائد ٹیکس میں 50 فیصد کمی یا مکمل خاتمے کے لیے قانون سازی پر اتفاق رائے کر لیا ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی کی زیر صدارت منعقدہ اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ اختر بی بی اور رحمت صالح بلوچ، سیکرٹری عبداللہ خان، ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ بلوچستان اسمبلی میں مشترکہ قرارداد پیش کی جائے گی تاکہ کم آمدنی والی خواتین کو سینیٹری پروڈکٹس کی خریداری پر معاشی بوجھ کم کیا جا سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف خواتین کی صحت کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ ان کی معاشی حالت کو بھی ریلیف ملے گا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ اقدام خواتین کے بنیادی حقوق اور ان کی صحت کی حفاظت کی جانب ایک اہم قدم ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں اور غریب طبقے کی خواتین کے لیے جو اکثر اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار رہتی ہیں۔
یہ فیصلہ بلوچستان میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی ایک نئی کڑی ثابت ہوگا۔
14/04/2026
پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں شدید بحران: اجباری برطرفیوں، تنخواہوں کی تاخیر اور سہولیات کی کٹوتی کا نیا رپورٹ سامنے آگیا
اسلام آباد — راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) نے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں جاری شدید بحران کی نشاندہی کی ہے۔ اقتصادی بدحالی کی وجہ سے میڈیا ہاؤسز میں بڑے پیمانے پر اجباری برطرفیوں، تنخواہوں میں غیر قانونی کٹوتیوں اور ماہوں کی تاخیر کا سلسلہ جاری ہے، جس سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی مالی سلامتی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملک بھر کے میڈیا ہاؤسز میں یہ صورتحال پیش آ رہی ہے، جس نے صحافتی برادری میں بڑے پیمانے پر بے چینی پیدا کر دی ہے۔
1. جبری برطرفیوں اور ڈاؤن سائزنگ کا سلسلہ:
- سچ ٹی وی نے اپنے 50 فیصد ورک فورس کو برطرف کر دیا، لاہور بیورو بند کر دیا گیا اور اسلام آباد کے سٹاف کو بغیر کسی واجبات کے فارغ کر دیا گیا۔
- آج ٹی وی ملک بھر میں ڈاؤن سائزنگ کر رہا ہے، جس میں فیلڈ رپورٹرز، کیمرہ آپریٹرز اور ٹیکنیکل سٹاف شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
- نکتہ (Nukta) نے ڈیجیٹل میڈیا کے درجنوں ملازمین کو بغیر نوٹس کے فارغ کر دیا۔
- آب تک نیوز نے اسلام آباد میں 8 رپورٹرز اور ایڈیٹرز کو برطرف کر دیا اور بیورو آپریشنز کو شدید کم کر دیا۔
- نیوز ون نے متعدد شہروں کے بیوروز میں درجنوں برطرفیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
- اردو نیوز اور انڈیپنڈنٹ اردو نے کئی سینئر جرنلسٹک پوزیشنز ختم کر دیں۔
- جی ٹی وی سے بھی متعدد ملازمین کی برطرفی کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
2. تنخواہوں کی تاخیر اور ادائیگیوں میں رکاوٹیں:
- نیو نیوز اور جی ٹی وی میں 2 سے 3 ماہ کی تنخواہوں کی مسلسل تاخیر معمول بن چکا ہے۔
- سنو نیوز میں تنخواہوں کی ادائیگیاں غیر منظم اور نامنظم ہو گئی ہیں۔
- پرنٹ میڈیا (ڈیلی جنگ سمیت دیگر) کے سٹاف کی پرانی واجبات ابھی تک ادا نہیں کی گئیں۔
3. بنیادی سہولیات میں کٹوتیاں:
رپورٹ میں فیلڈ سٹاف کے پٹرول اور مینٹیننس الاؤنسز ختم یا شدید کم کرنے کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے ان کی پیشہ ورانہ نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔ خواتین ملازمین کے لیے پک اینڈ ڈراپ سروس بھی کئی بڑے میڈیا ہاؤسز نے ختم کر دی ہے، جو ان کی سیکیورٹی اور رسائی کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔
آر آئی یو جے کی یہ رپورٹ متاثرہ میڈیا پروفیشنلز سے براہ راست تصدیق کے بعد تیار کی گئی ہے۔ یہ موجودہ بحران کی آفیشل ریکارڈ کے طور پر سامنے آئی ہے اور مزید معلومات آنے کے ساتھ اپ ڈیٹ ہوتی رہے گی۔
یونین نے میڈیا مالکان سے اپیل کی ہے کہ وہ ملازمین کے حقوق کا خیال رکھیں، جبکہ حکومت سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس بحران میں فوری مداخلت کرتے ہوئے میڈیا ورکرز کی حفاظت اور مالی استحکام کو یقینی بنایا جائے۔
یہ صورتحال نہ صرف صحافیوں کی روزی روٹی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ آزاد اور غیر جانبدار صحافت کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Website
Address
Quetta