Baloch Students Action Committee

Baloch Students Action Committee

Share

20/06/2026

Baloch Literacy Campaign
Baloch Literacy Campaign is deeply concerned about the poor conditions of the Government Primary School Kor Tamboo, Kohlu, Balochistan. The building was constructed in 1985, and since then, the school has faced harsh weather and disasters without any renovations. For 41 years, the authorities have neglected the school's need for structural repairs. Currently, the school is on the verge of collapse. Deep cracks threaten the stability of the walls and roof, creating a dangerous environment for students.
In addition to structural issues, the school lacks basic facilities such as clean water, textbooks, and enough classrooms to ensure a proper and effective learning environment.

Baloch Students Action Committee, under the banner of Baloch Literacy Campaign, highlights the alarming condition of the school, which results in many students missing out on primary education. The organization urges the authorities to address the school's issues and rebuild its infrastructure to provide access to basic education for every child.

Baloch Students Action Committee

15/06/2026

اساتذوں کی جبری ریٹائرمنٹ کرکے انتقامی کاروائی کرنا غیر جمہوری اور افسوسناک عمل ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

بلوچستان میں تعلیمی زبوں حالی کی صورتِ حال عرصہِ دراز سے چلی آ رہی ہے، ہر آنے والی حکومت تعلیمی تبدیلی کے دعوے تو کرتی ہے، لیکن عملی اقدامات سے کوسوں دور نظر آتی ہے۔ جہاں ایک جانب حکومتیں بشمولِ موجودہ حکومت، ہمیشہ تعلیمی بہتری، کوالٹی ایجوکیشن اور شرحِ خواندگی کو بڑھانے کی باتیں کرتی ہیں، وہیں دوسری جانب بلوچستان میں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں اساتذہ اور معیاری تعلیم تو دور، اسکول تک موجود نہیں ہیں۔ اس طرح کی صورتِ حال بلوچستان میں جاری تعلیمی پسماندگی کی نشاندہی کرتی ہے، جو کہ لمحہِ فکریہ ہے۔

بلوچستان میں سرکاری ملازمین پچھلے ایک سال سے اپنے آئینی حقوق کے لیے احتجاجاً سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں، جن میں اکثریت پروفیسرز اور اساتذہ کی ہے۔ حکومت جہاں ایک جانب تعلیمی بہتری کے کئی دعوے کر چکی ہے، وہیں دوسری جانب اِن اساتذہ کی جائز مطالبات سننے کے لئے تیار نہیں، اور اب پچھلے کچھ دنوں سے اساتذہ اور دوسرے سرکاری ملازمین کو جبراً ریٹائر کیا جا رہا ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔ یہ جبری ریٹائرمنٹ کا عمل اُن اساتذہ اور ملازمین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے دستبردار کرنے کا حربہ ہے جو کہ تشویش ناک ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقدامات بلوچستان کو تعلیم کے حصول سے دور رکھنے اور یہاں کی شرحِ خواندگی کو کم کرنے کی ایک سازش ہے، کیونکہ بلوچستان میں پہلے سے ہی اساتذہ کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے کئی اسکولز بند پڑے ہیں اور وہ حقیقی اسکولوں کے بجائے “گھوسٹ اسکولز” کہلاتے ہیں۔

اساتذہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اہم جُز سمجھے جاتے ہیں، اور اساتذہ ہی تعلیمی انقلاب لانے کی بنیادی اکائی ہیں۔ اُن کی اس طرح تذلیل ناقابلِ قبول ہے۔ ہمارا اساتذہ کے ساتھ رشتہ فکری اور روحانی ہے، جو اپنی محنت اور خلوص سے طلبہ کو ایک مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں۔ ہمارا بھی یہی ماننا ہے کہ معاشرے کی ترقی، سماجی فلاح و بہبود اور شعوری سفر اساتذہ کے کردار کے بغیر ناممکن ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم بطور طلبہ تنظیم اساتذہ کی جبری ریٹائرمنٹ کے عمل کو نہ صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس تعلیم دشمن پالیسی پر نظرِثانی کر کے اس فیصلے کو جلد از جلد واپس لے۔

مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization in Quetta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address


University Of Balochistan
Quetta