Shakil Sheikh
17/05/2026
پاکستان میں ووٹر کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی خبروں نے نوجوانوں، سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ حکومتی وزراء نے اس حوالے سے واضح تردید کی ہے کہ ایسی کوئی قانون سازی زیرِ غور نہیں، لیکن صرف اس تجویز کا سامنے آنا بھی کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔
دنیا بھر میں جمہوریت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ نوجوانوں کو سیاسی عمل میں زیادہ سے زیادہ شامل کیا جائے، کیونکہ یہی طبقہ کسی بھی ملک کا مستقبل اور سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی 18 سال کی عمر کو قانونی طور پر شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، ملازمت، کاروبار اور دیگر شہری حقوق کے لیے تسلیم کیا جاتا ہے، تو پھر ووٹ جیسے بنیادی آئینی حق کے لیے عمر بڑھانے کی منطق کمزور دکھائی دیتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے ووٹرز کی ایک بہت بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگر ووٹنگ کی عمر 25 سال کی جاتی ہے تو لاکھوں نوجوان اپنے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم ہو جائیں گے، جس سے نہ صرف جمہوری نمائندگی متاثر ہوگی بلکہ نوجوان نسل میں سیاسی بےزاری اور مایوسی بھی بڑھ سکتی ہے۔
جمہوریت کی خوبصورتی نوجوان آوازوں کو دبانے میں نہیں بلکہ انہیں اعتماد دینے میں ہے۔ آج دنیا کے کئی ممالک ووٹنگ کی عمر 18 سے کم کرنے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے نوجوان آبادی والے ملک میں اس کے برعکس سوچ جمہوری ارتقاء کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اختلافِ رائے ہر معاشرے میں موجود ہوتا ہے، مگر نوجوانوں کے سیاسی حق کو محدود کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ نوجوانوں میں سیاسی شعور، آئینی آگاہی اور مثبت جمہوری تربیت کو فروغ دیا جائے تاکہ وہ ملک کے مستقبل میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
11/05/2026
مراد سعید صاحب!
بانیٔ چیئرمین عمران خان نے علی امین گنڈاپور کے ذریعے آپ، حماد اظہر اور دیگر نوجوان قیادت کو واضح پیغام دیا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے باہر نکل کر حقیقی آزادی کی تحریک کی قیادت کی جائے۔ قوم کو امید تھی کہ وہ نوجوان قیادت، جو ہر جلسے میں انقلاب، قربانی اور مزاحمت کی بات کرتی تھی، اس مشکل وقت میں سب سے آگے کھڑی ہوگی۔ مگر افسوس کہ ورکرز نے انتظار کیا، نظریاتی کارکنوں نے امید لگائی، لیکن آپ خاموشی اختیار کرکے منظر سے غائب رہے۔
آپ کی تقاریر میں جوش تھا، انقلاب تھا، قربانی کے دعوے تھے۔ آپ بارہا کہتے رہے کہ عمران خان آپ کی “ریڈ لائن” ہیں۔ مگر آج سوال یہ ہے کہ جب عمران خان جیل میں تنہا قید ہیں، ان کی جان اور صحت خطرے میں ہے، پارٹی شدید دباؤ میں ہے، تو وہ نوجوان قیادت کہاں ہے جس پر قوم نے اعتماد کیا تھا؟
آپ کی جذباتی تقاریر پر یقین کرکے ہزاروں غریب اور بے گناہ ورکرز سڑکوں پر نکلے۔ کئی شہید ہوگئے، ہزاروں آج بھی جیلوں میں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں، مائیں اپنے بیٹوں کی راہ دیکھ رہی ہیں، خاندان بکھر چکے ہیں۔ مگر جن لوگوں نے انقلاب کے خواب دکھائے، وہ آج خاموش کیوں ہیں؟
آپ کی حالیہ ویڈیو میں آپ نے اپنی روپوشی، مشکلات اور قربانیوں کی داستان سنائی۔ یقیناً حالات آسان نہیں تھے، لیکن ورکرز یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر پارٹی اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہو، بانیٔ چیئرمین قید میں ہوں، ان کی ایک آنکھ متاثر ہو چکی ہو، اور کارکن ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہوں، تو پھر وہ لوگ کہاں ہونے چاہئیں جو خود کو انقلاب کا سپاہی کہتے تھے؟
ورکرز صرف یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر مشکل ترین وقت میں بھی قیادت سامنے نہیں آئے گی تو پھر ان نعروں، وعدوں اور جذباتی تقریروں کا مقصد کیا تھا؟
انقلاب صرف سوشل میڈیا بیانات، جذباتی تقاریر اور ویڈیوز سے نہیں آتا، بلکہ مشکل وقت میں میدان میں کھڑے ہونے سے آتا ہے۔
قوم آج بھی آپ سے امید رکھتی ہے، مگر سوال یہی ہے کہ آپ کب نکلیں گے؟
خدانخواستہ اگر عمران خان کو مزید نقصان پہنچا تو کیا پھر بھی وقت مناسب نہیں ہوگا؟
یہ وقت تاریخ میں اپنا کردار لکھنے کا ہے، صفائیاں دینے کا نہیں۔
قوم آج بھی عمل دیکھنا چاہتی ہے، صرف الفاظ نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے ایک دلچسپ تجزیہ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Address
Peshawar
SULIMANKHELBHADBIR