YA ALLAH YA RAB

YA ALLAH YA RAB

Share

Photos from YA ALLAH YA RAB's post 16/02/2026

مرحبا اے رمضان۔۔

16/02/2026

ہم بچپن سے آسمان پر جہاز دیکھتے آئے ہیں…
مگر کیا کبھی رک کر سوچا کہ اُن کے پیچھے بننے والی سفید لکیر آخر ہوتی کیا ہے؟ 🤔✈️
نہ ہم نے کبھی استاد سے پوچھا، نہ استاد نے خود بتانے کی زحمت کی… اور ہم اسے بس “دھواں” سمجھتے رہے۔
اور جو سفید لکیر ہمیں نظر آتی ہے — وہ دھواں نہیں ہوتی ❌
جب جہاز تقریباً 30 سے 40 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا ہے تو وہاں شدید سردی ہوتی ہے۔ انجن سے نکلنے والے پانی کے بخارات جم کر باریک برف کے ذرات میں بدل جاتے ہیں، اور یوں آسمان پر سفید لکیر بن جاتی ہے۔ ☁️
اسی کو کنٹریلز (Contrails) کہا جاتا ہے۔
☁️ فضا خشک ہو تو یہ لکیر جلد غائب ہو جاتی ہے۔
☁️ نمی زیادہ ہو تو کچھ دیر باقی رہتی ہے یا پھیل جاتی ہے۔
سادہ سی بات ہے — یہ قدرت کا ایک خوبصورت سائنسی مظہر ہے، کوئی پراسرار کہانی نہیں 🙂✨
کیا آپ کو پہلے یہ معلوم تھا؟ 👇😊

12/01/2026

انسان کے جسم میں کچھ ایسی ہڈیاں بھی ہیں جو اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ اگر انگلی پر رکھو تو ریت کے ذرے جیسی محسوس ہوں…
مگر اللہ کی قدرت میں ان کا کام پہاڑوں سے بھی زیادہ بھاری ہے۔
کان کے اندر موجود یہ ننھی سی ہڈیاں وہ کرشمہ انجام دیتی ہیں جسے آج تک دنیا کی کوئی مشین اُس نفاست، اُس درستگی اور اُس حکمت کے ساتھ انجام نہیں دے سکی۔
اگر ان میں سے صرف ایک ہڈی بھی اپنی جگہ سے ہل جائے یا خراب ہو جائے تو آواز کا سفر وہیں رک جاتا ہے…
انسان سماعت کی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کا توازن بھی بگڑنے لگتا ہے۔
سوچیے…
اتنی چھوٹی، اتنی باریک، اتنی نازک کہ ننگی آنکھ سے بمشکل نظر آئے—
مگر وہی ہڈی آپ کو سننے کی صلاحیت بھی دیتی ہے اور آپ کے جسم کا توازن بھی قائم رکھتی ہے۔
یہ محض ایک عضو نہیں…
یہ اللہ کی صنعت ہے۔
یہ اللہ کی تدبیر ہے۔
یہ اللہ کی وہ عظیم نعمت ہے کہ اگر اس پر غور کیا جائے تو انسان بے اختیار سجدے میں گر جائے۔
“پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ
گے؟”۔۔۔

12/01/2026

وہ شخص جو ڈیڑھ سو سال جینے کی تیاری کر چکا تھا…
صرف تیس منٹ میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔"

مائیکل جیکسن: فطرت سے جنگ کی کہانی

مائیکل جیکسن ایک ایسا انسان تھا جو نظامِ فطرت کو شکست دینا چاہتا تھا۔ اسے چار چیزوں سے شدید نفرت تھی: اپنے سیاہ رنگ سے، گمنامی سے، اپنے ماضی سے، اور عام انسانوں کی طرح محدود عمر سے۔ وہ گوروں کی طرح دکھائی دینا چاہتا تھا، دنیا کا سب سے مشہور انسان بننا چاہتا تھا، اپنے ماضی کو مٹا دینا چاہتا تھا، اور ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنے کا خواب دیکھتا تھا۔

اس کی آنے والی پوری زندگی انہی خواہشوں کی تکمیل میں گزری۔ 1982ء میں اس نے اپنا مشہور البم Thriller لانچ کیا، جو دنیا کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا البم بن گیا۔ ایک ہی ماہ میں کروڑوں کاپیاں فروخت ہوئیں اور مائیکل جیکسن دنیا کا مشہور ترین گلوکار بن گیا۔ یوں اس نے گمنامی کو شکست دے دی۔

اس کے بعد اس نے اپنی رنگت کو شکست دینے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ اور یورپ کے درجنوں چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی مدد سے اس نے مسلسل سرجریز کروائیں۔ 1987ء تک اس کی جلد، چہرہ، حرکات اور انداز مکمل طور پر بدل چکے تھے۔ سیاہ فام مائیکل کی جگہ ایک گورا، نازک اور نسوانی نقوش والا مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ چکا تھا۔

پھر ماضی کی باری آئی۔ اس نے اپنے خاندان سے تعلق توڑ لیا، پتے بدلے، پرانے دوست چھوڑ دیے اور مصنوعی زندگی اختیار کر لی۔ اس نے خود کو مزید مشہور کرنے کے لیے لیزا میری پریسلے سے شادی کی، یورپ میں اپنے مجسمے نصب کروائے اور مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے اولاد حاصل کی۔ یوں وہ بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی بھاگ نکلا، مگر تنہائی اور مصنوعی پن میں مزید دھنس گیا۔

اب آخری خواہش باقی تھی: طویل عمر۔ مائیکل جیکسن نے ڈیڑھ سو سال زندہ رہنے کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ وہ آکسیجن ٹینٹ میں سوتا، ماسک اور دستانے استعمال کرتا، مخصوص خوراک لیتا اور بارہ ڈاکٹر مستقل ملازم رکھتا تھا۔ اس نے یہاں تک کہ اپنے لیے اضافی اعضاء کے ڈونرز بھی تیار کر رکھے تھے تاکہ ضرورت پڑنے پر اعضا تبدیل کروائے جا سکیں۔

مگر پھر 25 جون کی رات آئی۔ اچانک سانس لینے میں دشواری ہوئی۔ بہترین ڈاکٹرز جمع ہوئے، کوششیں کی گئیں، مگر وہ شخص جو ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر چکا تھا، صرف پچاس برس کی عمر میں چند منٹوں میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کی موت کی خبر نے گوگل کا سسٹم تک جام کر دیا۔

پوسٹ مارٹم نے ایک اور حقیقت آشکار کی۔ حد سے زیادہ احتیاط نے اس کے جسم کو کمزور ڈھانچے میں بدل دیا تھا۔ پلاسٹک سرجریز، درد کش ادویات اور انجیکشنز نے اسے بچایا نہیں۔ یوں مائیکل جیکسن کی زندگی ایک اعلان بن گئی کہ انسان دنیا فتح کر سکتا ہے، مگر تقدیر، موت اور اس کے لکھنے والے کو شکست نہیں دے سکتا۔

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ چاہے کوئی راک اسٹار ہو یا فرعون،
وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔

09/01/2026

مدینة النبى ﷺ کے آخری عثمانی پہریدار عمر فخر الدین پاشا رحمہ اللہ تعالیٰ کی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک نایاب تصویر

1916ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران مدینہ منورہ کا محاصرہ شروع ہوا ، سیدنا عمر فخر الدین پاشا اپنے دیگر سپاہیوں( رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین) کے ساتھ تین سال تک ڈٹے رہے ، ہر تکلیف برداشت کی ، معاملات یہاں تک پہنچے کہ ٹڈیاں کھا کر گزارا کرتے رہے لیکن مدینة النبى ﷺ کی حفاظت میں کوئی کوتاہی نہ برتی ۔ 1918ء میں ترکی جنگ عظیم ہار گیا ، معاہدے کے مطابق مدینہ منورہ باغیوں کے حوالے کرنا تھا لیکن لیفٹینینٹ جنرل فخرالدین پاشا رحمہ اللہ تعالیٰ نے عثمانی سلطان کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ، اس پر استنبول سے ان کیلئے پھانسی کا حکم بھی جاری ہوا جس پر بعد میں عمل نہ ہوا الحمدلله ، فرمایا کرتے تھے : یا رسول الله ﷺ ! میں آپ سے بےوفائی نہیں کرونگا ۔ حالات مزید سخت ہوتے گئے ، استنبول کا دباؤ بڑھتا گیا اور بالآخر فوج کے چند افسران نے انہیں زبردستی گرفتار کر کے باغیوں کے حوالے کر دیا ۔ یوں حجازِ مقدس میں جنوری 1919ء کے ایک دن عثمانی پرچم سرنگوں ہو گیا ۔ جنرل فخر الدین پاشا رحمہ اللہ تعالیٰ اس کے بعد ایک مدت دشمن کی قید میں رہے ، جلا وطنی کی زندگی بھی گزاری ، اس عرصے میں انہوں نے اپنا لباس کبھی نہیں اتارا ، فرمایا کرتے تھے : میں آج بھی اپنے آقا ﷺ کے مقدس شہر کا سپاہی ہوں!
سلام ہو تجھ پر اے عمر فخر الدین پاشا

09/01/2026

مؤذنِ رسول ﷺ حضرت بلال حبشیؓ کی ابدی آرام گاہ!
یہ تصویر اس عظیم صحابی حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کی ہے۔ وہی جنہیں رسولِ اکرم ﷺ نے اسلام کا پہلا مؤذن مقرر فرمایا۔ ان کی وہ آواز، جو پہلی بار مکہ کی فضاؤں میں گونجی، آج بھی تاریخ کے اوراق میں ایمان کی صدائے بازگشت ہے۔
حضرت بلالؓ کا تعلق حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) سے تھا۔ مکہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو توحید کے جرم میں سخت ترین مظالم کا سامنا کرنا پڑا، مگر آپؓ کے لبوں پر صرف ایک ہی صدا رہی:
“احد… احد!”
یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔
سن 13 ہجری / بمطابق 634ء میں رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد حضرت بلالؓ مدینہ منورہ چھوڑ کر جہاد کے لیے شام چلے گئے، کیونکہ حضور ﷺ کے بعد مدینہ کی گلیوں میں اذان دینا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہو گیا تھا۔ بعد ازاں وہ دمشق میں مقیم ہو گئے۔
آپ رضی اللہ عنہ کا وصال تقریباً 20 ہجری / بمطابق 641ء میں ہوا، اور آپ کو دمشق کے مشہور تاریخی قبرستان باب الصغیر میں سپردِ خاک کیا گیا۔ جہاں آج بھی آپ کی قبر اہلِ ایمان کے لیے عقیدت اور سبق کا مرکز ہے۔
تحریر:محمد سہیل

Want your business to be the top-listed Media Company in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Peshawar
AJ