Muhammad Zulfiqar Ali CASE LAWS
23/05/2025
"اپیل کے غلط فورم پر دائر ہونے کی صورت میں عدالت کے عملے کی ذمہ داری اور تاخیر کی معافی کے اصول: ایک تجزیاتی مطالع "عدالتی عملے کی غفلت، دائرہ اختیار کی غلطی، اور تاخیر کی معافی کا قانونی جواز"
2024 SCMR 107
فیصلہ
اگر کسی اپیل کو غلط فورم پر پیش کیا جاتا ہے، تو اس کا ذمہ دار صرف اپیل کنندہ یا اس کا وکیل نہیں ہے، بلکہ عدالت کے عملے کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ابتدائی مرحلے میں ہی اپیل کا بغور جائزہ لیں اور کسی بھی قسم کی کمی یا دائرہ اختیار کے بارے میں اعتراضات فوری طور پر لکھ کر سامنے لائیں۔
اس کیس میں، درخواست گزار کی اپیل غلط فورم پر پیش کی گئی تھی اور عدالت کے عملے کی غفلت کی وجہ سے ابتدائی مرحلے میں اس کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ بعد میں، جب کیس کافی عرصے بعد سماعت کے لیے تیار ہوا تو عدالت نے اپیل کو واپس کر دیا۔ اس کے نتیجے میں درخواست گزار کو نقصان پہنچا۔
ہائی کورٹ کو یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ کیا عدالت کی غلطی کی وجہ سے درخواست گزار کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے اور کیا درخواست گزار نے تاخیر کی معافی کے لیے کافی وجہ پیش کی تھی۔ درخواست گزار نے معاملے کو پوری لگن کے ساتھ آگے بڑھایا تھا، لیکن اس کی درخواست برائے تاخیر کی معافی بغیر کسی معقول وجہ کے مسترد کر دی گئی.
فیصلہ 2024 SCMR 107 ایک اہم قانونی اصول کی نشاندہی کرتا ہے، جو پاکستان کے عدالتی نظام میں اپیل کے دائرہ اختیار (jurisdiction) اور عدالت کے عملے کی ذمہ داری سے متعلق ہے۔ درج ذیل میں اس فیصلے کے اہم پہلوؤں پر متعلقہ قوانین کی روشنی میں قانونی تجزیاتی جائزہ
1. اپیل کا غلط فورم پر دائر ہونا:
متعلقہ قانون:
Civil Procedure Code, 1908
Section 96 (Appeals from original decrees)
Order XLII, Rule 1 (Procedure in appeals from appellate decrees)
Limitation Act, 1908
Section 5 (Extension of prescribed period in certain cases)
قانونی تجزیہ:
جب اپیل کسی غلط فورم پر دائر کی جاتی ہے، تو اصولی طور پر اس کی ذمہ داری اپیل کنندہ پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم، اگر عدالت کا عملہ ابتدائی چھان بین میں اس غلطی کی نشاندہی نہیں کرتا، تو یہ عدالت کی ادارہ جاتی کوتاہی شمار ہوتی ہے۔
2. عدالت کے عملے کی ذمہ داری:
متعلقہ اصول:
High Court Rules and Orders
متعلقہ عملہ (Reader/Office Clerk) کی یہ قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دائر کی گئی درخواست یا اپیل کا ابتدائی جائزہ لے، اور اگر وہ غلط فورم پر ہے یا ناقص ہے، تو فوراً اعتراض لگا کر فائل واپس کرے۔
قانونی تجزیہ:
اگر عدالت کے عملے کی غفلت کی وجہ سے اپیل طویل عرصہ غلط فورم پر پڑی رہے، تو اس کی سزا صرف درخواست گزار کو نہیں دی جا سکتی۔ یہ اصول نظریہ انصاف (Doctrine of Equity) پر مبنی ہے۔
3. تاخیر کی معافی (Condonation of Delay)
متعلقہ قانون:
Limitation Act, 1908 - Section 5
قانونی تجزیہ:
اگر اپیل غلط فورم پر دائر ہوئی اور اس کا علم بعد میں ہوا، تو اپیل کنندہ کو تاخیر کی معافی کی درخواست کا حق حاصل ہے۔ عدالت کو دیکھنا چاہیے:
کیا اپیل کنندہ نے معاملہ نیک نیتی سے چلایا؟
کیا تاخیر کی وجہ معقول تھی؟
کیا عدالت یا اس کے عملے کی کوتاہی تاخیر کا سبب بنی؟
2024 SCMR 107
میں عدالت نے اپیل کنندہ کی نیک نیتی اور کوششوں کے باوجود تاخیر کی معافی کی درخواست مسترد کی، جو کہ انصاف کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
4. عدالتی اصولِ انصاف (Principles of Natural Justice):
متعلقہ اصول:
Audi alteram partem (دوسری جانب کو سننے کا حق)
No one should suffer due to the act of the court
قانونی تجزیہ:
یہ بنیادی اصول ہے کہ اگر کسی فرد کو عدالت کی غلطی یا عملے کی غفلت کے سبب نقصان پہنچا ہو، تو اس کی تلافی ہونی چاہیے۔ اپیل کنندہ کو اس بنا پر حق تلفی کا سامنا کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
Conclusion
2024 SCMR 107
کے فیصلہ میں درج ذیل اصول سامنے آتے ہیں
1. عدالت کا عملہ محض کاغذی کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ ان کی ذمہ داریاں قانونی اثر رکھتی ہیں۔
2. اپیل کی ابتدائی جانچ میں کوتاہی قابل گرفت ہے۔
3. تاخیر کی معافی صرف اپیل کنندہ کی نیت سے نہیں، بلکہ مجموعی حالات، بشمول عدالتی عملے کی کارکردگی، سے جڑی ہوتی ہے۔
4. اگر عدالت خود کوتاہی کرے، تو شہری کو اس کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
یہ قانونی حوالہ "2018 CLC 1786" اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اگر کوئی والد اپنے نابالغ (چھوٹے) بچے کا خرچ اٹھانے سے قاصر ہو، تو عدالت اس کے متبادل کے طور پر بیت المال کو ذمہ دار ٹھہرا سکتی ہے۔ عدالت کا مؤقف یہ ہے کہ بچے کا نان نفقہ اس کا بنیادی حق ہے، اور اگر والد اپنی مالی حالت کی وجہ سے اس حق کو پورا نہیں کر سکتا، تو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس ضرورت کو پورا کرے۔
یہ فیصلہ اس اصول پر مبنی ہے کہ ایک بچے کی کفالت ریاست یا متعلقہ فلاحی اداروں کے ذریعے بھی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے عدالت بیت المال یا کسی مقامی حکومتی فلاحی ادارے کو خرچ برداشت کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
یہ قانونی حوالہ "2018 CLC 1786" اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اگر کوئی والد اپنے نابالغ (چھوٹے) بچے کا خرچ اٹھانے سے قاصر ہو، تو عدالت اس کے متبادل کے طور پر بیت المال کو ذمہ دار ٹھہرا سکتی ہے۔ عدالت کا مؤقف یہ ہے کہ بچے کا نان نفقہ اس کا بنیادی حق ہے، اور اگر والد اپنی مالی حالت کی وجہ سے اس حق کو پورا نہیں کر سکتا، تو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس ضرورت کو پورا کرے۔
یہ فیصلہ اس اصول پر مبنی ہے کہ ایک بچے کی کفالت ریاست یا متعلقہ فلاحی اداروں کے ذریعے بھی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے عدالت بیت المال یا کسی مقامی حکومتی فلاحی ادارے کو خرچ برداشت کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
محمد عمر
ایڈووکیٹ پشاور
ڈائرکٹر شعبہ قانون
حاجی یونس ویلفیئر ٹرسٹ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar