Tahqeeq-ul-Masail
09/04/2026
فتح الباری
آگے شیئر کریں
وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا
❖ ترجمہ:
“اور تم یاد رکھو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت (یعنی سنت) پڑھی جاتی ہیں، بے شک اللہ بڑا باریک بین، خوب باخبر ہے۔”
سوال یہ ہے کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے گھروں میں قرآن کی آیتوں کے علاوہ دوسرے کیا چیز پڑھی جاتی تھی اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام ان کو قرآن کے علاوہ کیا سناتے تھے؟ اس سوال کا صرف یہی ایک جواب ہو سکتا ہے کہ وہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے حدیث اور آپ کی سنت تھی یعنی آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے عام دینی نصائح اور دینی افادات اور ارشادات اور چونکہ اس آیت میں حکمت کے ذکر کا یعنی اس کو یاد کرنے اور یاد رکھنے کا حکم ہے اس لیے اسی آیت سے حدیث اور سنت کے یاد کرنے اور یاد رکھنے کا وجوب بھی معلوم ہو گیا اور یہ بات بھی تقریباً بدیہی اور مسلم ہے کہ علم و ذکر و حفظ مقصود بالذات نہیں بلکہ عمل کے لیے مقصود ہے اس لیے اسی آیت سے حدیث اور سنت پر عمل کا واجب اور مامور بہ ہونا بھی معلوم ہو گیا اور جب سنت ہی کا دوسرا نام حکمت ہے تو اس سے پہلی آیتوں سے جن میں کتاب کی طرح حکمت کو بھی منزل من اللہ فرمایا گیا ہے ثابت ہوا کہ سنت بھی منزل من اللہ اور وحی خداوندی ہے
معارف الحديث جلد اول صفحه ۳۳..
صدقہ الفطر
بارہ کے یو اھم ویڈیو
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar