AHF
ایک شخص نے کچھ دوستوں کو دعوت پہ بلایا. جب سب مہمان دستر خوان پر بیٹھ چکے تو اس نے نوکر کو الگ لے جا کر حکم دیا کہ سب کے جوتے بازار میں چپکے سے لے جا کر بیچ دے اور اس رقم سے کھانا خرید لائے.
چنانچہ اس نے ایسا ھی کیا. لوگوں کے سامنے جب کھانا آیا تو انہوں نے اس کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے وہ شخص ھنستا جاتا تھا اور کہتا تھا کہ حضور بھلا میں کس لائق ھوں. یہ سب آپ کی ھی جوتیوں کا صدقہ ھے.
جب کھانا ختم ھوا اور مہمان جانے لگے تو انہیں اپنے جوتے غائب ملے.
اُس ستم ظریف نے ھاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ بھائی. میں تو پہلے ھی کہہ رھا تھا کہ یہ سب آپ کی جوتیوں کا صدقہ ھے.
کچھ ایسا ھماری ھی جوتیوں کا صدقہ ھمارے حکمران ھمارے منہ پے مارتے ھیں.
ھمارے ھی ٹیکس کے پیسوں سے سڑکیں ھسپتال بناتے ھیں اور پهر اس کا احسان ھم پے چڑھانے ایسے آ جاتے ھیں جیسے یہ ان کے باپ کے پیسے تھے۔..
ہار جیت کھیل کا حصہ ہے
ہمیں یہ شکست بھی بھول کر اگلی شکست کا انتظار کرنا چاہیئے!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the public figure
Website
Address
Peshawar