Authentic Deen

Authentic Deen

Share

12/03/2026

نبی کریم محمد ﷺ نے فرمایا ؛

“جب کوئی بھول کر کھا پی لے تو اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔”

راوی
یہ حدیث صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ امام محمد بن اسماعیل البخاری نے اسے اپنی کتاب صحیح بخاری میں نقل کیا ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ حدیث صحیح اور مضبوط سند کے ساتھ ثابت ہے۔

توضیح
اس حدیث میں روزے کے ایک اہم مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے۔ اگر روزہ دار کو بھول ہو جائے اور وہ کھا پی لے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جیسے ہی اسے یاد آئے اسے فوراً رک جانا چاہیے اور باقی دن روزہ جاری رکھنا چاہیے۔

اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ بھول انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ جب انسان واقعی بھول جائے تو شریعت اس پر گناہ یا مواخذہ نہیں کرتی۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا، یعنی یہ اس کی طرف سے معافی اور آسانی ہے۔

فقہی فائدے
اگر کوئی شخص واقعی بھول کر کھا پی لے تو روزہ صحیح رہتا ہے۔
یاد آتے ہی فوراً رک جانا لازم ہے۔
اگر یاد آنے کے بعد بھی جان بوجھ کر کھاتا رہے تو پھر روزہ ٹوٹ جائے گا۔
یہ حکم فرض روزے اور نفلی روزے دونوں کے بارے میں ہے۔

اہل علم کی وضاحت
محدثین اور فقہاء جیسے امام نووی اور ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بھول کر کھانا پینا شریعت میں معاف ہے، اور اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

خلاصہ
اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو اس کا روزہ برقرار رہتا ہے۔ اسے چاہیے کہ یاد آتے ہی رک جائے اور اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ شریعت نے اسے معاف قرار دیا ہے۔

09/03/2026

یہ حدیث بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعض اوقات کے بارے میں رہنمائی فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج نکلنے کے بعد جب تک وہ کچھ بلند نہ ہو جائے اس وقت تک کوئی نفل نماز نہ پڑھی جائے۔ اسی طرح عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد سورج ڈوبنے تک بھی کوئی نفل نماز نہ پڑھی جائے۔

اس ہدایت کی اصل وجہ یہ ہے کہ طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت بعض قدیم اقوام سورج کی عبادت کیا کرتی تھیں۔ اسلام نے عبادت کے طریقوں کو ان باطل رسموں سے الگ اور پاک رکھنے کے لیے ان خاص اوقات میں نفل نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ اس طرح مسلمانوں کی عبادت ہر قسم کی مشرکانہ مشابہت سے محفوظ رہتی ہے۔

علمائے حدیث اور فقہاء نے وضاحت کی ہے کہ اس ممانعت کا تعلق عام نفل نمازوں سے ہے۔ فرض نمازیں اگر کسی وجہ سے رہ جائیں تو ان کی قضا ان اوقات میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح بعض نمازیں جو خاص سبب کی وجہ سے پڑھی جاتی ہیں جیسے مسجد میں داخل ہونے کی نماز یا جنازہ کی نماز، ان کے بارے میں اہل علم کے درمیان کچھ تفصیل بیان کی گئی ہے۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے عبادت کے اوقات کو باقاعدہ منظم کیا ہے۔ سورج نکلنے کے بعد جب وہ اچھی طرح بلند ہو جائے تو اس کے بعد نفل نماز پڑھی جا سکتی ہے، اور اسی طرح مغرب سے پہلے عصر کے بعد کے وقت میں نفل نماز سے رکنے کا حکم ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ مسلمان عبادت کو ان اوقات سے الگ رکھیں جن میں غیر مسلم اقوام سورج کو سجدہ کیا کرتی تھیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ نماز کے مقررہ آداب اور اوقات کی پابندی کریں اور عبادت کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق چلیں، کیونکہ یہی طریقہ عبادت کو خالص اور مقبول بناتا ہے۔

06/03/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"یَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا"
ترجمہ: "آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، اور خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔"

حوالہ
کتاب: صحیح بخاری
کتاب العلم
حدیث نمبر: 69
راوی: حضرت انس بن مالکؓ
مختصر تشریح
اس حدیث میں حضرت محمد ﷺ نے دین کی دعوت اور لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا بنیادی اصول بیان فرمایا ہے:
آسانی پیدا کرنا: دین اسلام فطرت کے مطابق آسان دین ہے، اس لئے لوگوں کو دین کی بات اس انداز میں بتائی جائے جو ان کے لئے قابلِ عمل ہو۔
سختی سے بچنا: غیر ضروری سختی، ڈانٹ یا مشکل بنا دینے سے لوگ دین سے دور ہو سکتے ہیں۔
خوشخبری دینا: اللہ کی رحمت، مغفرت اور جنت کی امید دلانا لوگوں کو نیکی کی طرف راغب کرتا ہے۔
نفرت نہ دلانا: ایسا سخت یا تلخ انداز اختیار نہ کیا جائے جس سے لوگ دین سے بددل ہو جائیں۔

06/03/2026

‎حوالہ (Reference):
‎یہ آیت Surah Al-Jumu'ah آیت 9 ہے۔
‎(قرآن مجید: 62:9)

‎آیت:
‎يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

‎تشریح؛

‎اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو حکم دیتے ہیں کہ جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر یعنی نمازِ جمعہ اور خطبہ کی طرف متوجہ ہو جائیں اور خرید و فروخت اور دنیاوی کام چھوڑ دیں۔
‎اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان دنیاوی مصروفیات پر دین کو ترجیح دیں اور جمعہ کے اجتماع میں شریک ہو کر اللہ کی یاد، نصیحت اور ہدایت حاصل کریں۔
‎آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے، کیونکہ اس میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Culinary Team

Attire

Address


Akora Khattak District Nowshera Tehsil Jehangira
Peshawar
44100