Dir Times
علماء ہمارے سر کے تاج ہے
لیکن وہ علماء جو اسلام پر مرتے ہو
کرسی اور وزارتوں پر نہیں.
ملک دیوالیہ ہونے والا تھا ہم نے جلدی سے
10 ارب میڈیا کو دے دیے۔میڈیا نے ملک کو بچا لیا.
06/08/2022
#گورنمنٹ مڈل سکول بانڈی بالا 1989 میں بنا ہے۔ اس سال جگہ کم ہونے کی وجہ سے سینکڑوں بچیاں سکول سے نکالی گئ ہیں۔یوں وہ تعلیم سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگئی ہیں۔دوسری طرف افسوس اس بات کی ہے کہ یہاں سے فارغ ہوکر اکثر بچے اور بچیاں ہائ سکول نہ ہونے کی وجہ سے سکول چھوڑ کر مختلف قسم کی فضولیات میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔۔ہم غریب لوگ ہیں ۔ہم MPA اور MNA صاحب سے پرزور اپیل ہے کہ اس سکول کو فوری طور پر ہائی میں اپگریڈ کریں۔
اگر ھمارے لڑکوں اور لڑکیوں کے مڈل سکولوں کو ابھی اس مہینے میں ہائی سکولوں کا درجہ نہ دیا گیا تو ھمارے بچوں کی تعلیمی سال ضائع ہو جاۓ گا۔
۔منجانب جمع قوم سیڑھی , دولاڑ, شوکند ڈبونو عابد خان۔%
ایوب خان کے سنہری دور میں پاکستان قرضے دینے والا ملک تھا
جنرل ایوب خان14 مٸی 1907 کو ہری پور ہزارہ کے ایک گاٶں ریحانہ میں پیدا ہوۓ۔ ابتداٸی تعلیم گھر سے پانچ میل کے فاصلے پر واقع ایک گاٶں سے حاصل کی ۔
1922 میں علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن وہاں تعلیم ادھوری چھوڑ کر راٸل برٹش ملٹری کالج میں داخلہ لیا ۔ بعد میں انڈ*ین آرمی بطور افسر جواٸن کی۔
دوسری جنگ عظیم میں بطور کپتان شرکت کی بعد میں آپکو میجر کے عہدے پر ترقی دے کر برما کے محاذ پر تعینات کیا گیا۔
1947 میں انڈ*ین آرمی کو استعفی دے کر پاکستان آرمی میں شمولیت اختيارکی۔ آپ اس وقت سینٸر افسران میں دسویں نمبر پرتھے۔
1948 میں مشرقی پاکستان آرمی کی سربراہی کی۔
1951 میں آپکو ڈپٹی کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا۔
1954 میں وزیر دفاع بناۓ گۓ اس وقت پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا اور محمد علی بوگرہ کا دور حکومت تھا۔
11 اکتوبر 1958 کو مارشل لا ٕ لگایا گیا تو آپ کو بطور مارشل ایڈمنسٹریٹر تعین کیا گیا۔
جنرل ایوب خان وہ پہلے آرمی افسر تھے جو حکومت کا حصہ بنے۔ اور انکار دور حکومت آج تک لوگوں کی زبانوں پر ہے ۔
اسکندر مرزا کو انکے عہدے سے ہٹا دیا گیا جسکی بڑی وجہ سویلین اور ملٹری تعلقات کی خرابی تھا۔
آپ بہت سادہ طبیعت انسان تھے۔ آپ جب جنرل کے عہدے پر تھے تو سا ٸیکل کو سواری کو طور پر استعمال کیا کرتے تھے اور جب صدر مملکت بنے تب ریل کار انکی سواری رہی۔
1961 میں پہلا آٸین بنایا جو کہ صدارتی طرز پہ تھا۔ اس دور میں پاکستان میں دن دگنی رات چگنی ترقی کی۔
1962 میں پاکستان میں پہلی آٸل ریفاٸینری انڈسٹری قاٸم کی گٸی ۔
اس کے علاوہ بھی بہت سے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوۓ ۔
او پاکستان نیویارک اور لندن کے مقابلے پر آنے لگا۔
1963 میں نادرن سوٸی گیس کمپنی کا افتتاح ہوا اور پاکستان میں دیگر ترقیاتی منصوبوں میں بھی تیزی آنے لگی۔ ناٸیلون اور دھاگہ بنانے والی فیکٹریاں تیزی سے اپنے ترقی کے دور کی طرف گامزن ہوٸیں ۔
26 نومبر 1964 کو پاکستان ٹیلی ویژن کا افتتاح کیا گیا۔
منگلا ڈیم کی تعمیر بھی انہی کے دور میں ہوٸی۔
1968 میں تربیلا ڈیم کا کام شروع ہوا اور یہ ڈیم پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم ہے۔ اس ڈیم سے ہم بجلی کی پیداوار کرتے ہیں۔
جنرل ایوب کے دوران میں پاکستان قرضہ دینے والے ممالک میں شامل تھا ۔ اس وقت پاکستان نے جرمنی کو 120 ملین ڈچ مارک بطور قرضہ دیا۔اس وقت پاکستان میں بے روزگاری کی شرح صرف تین فیصد تھی۔ جو ابھی تک پاکستان کی تاریخ کی کم ترین شرح ہے۔
1965 کی جنگ میں جب بھارت نے اچانک حملہ کیا تھا تو آپ نے بزریعہ ریڈیو اپنی قوم سے ایک ولولہ انگیز خطاب کیا جسکے بعد پوری قوم اپنے وطن کی حفاظت کے لیۓ سڑکوں پرنکل آٸی۔ جس سے جو بن پڑا مدد کی۔
جنرل ایوب خان نے 66 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے اسلام آباد 19 اپریل 1974 میں وفات پاٸی۔
اللہ پاک آپکے درجات بلند کرے آمین
اکثر ٹرکوں کے پیچھے ایوب خان کی تصویر کے ساتھ لکھا ہوتا ہے "تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد"
بچپن میں اسکا مطلب سمجھ نہیں آتا تھا مگر اب ہر پاکستانی کو سمجھ آگئی ہے ۔
اگر ایوب خان کے بارے جاننا ہو تو کسی بزرگ کے سامنے ایوب خان کا ذکر کر کے دیکھیں
آج بھی حکمران ایوب خان کے ترقی کے ماڈل کو فالو کر لیں تو پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
پاکستان کےسابق صدر و فیلڈ مارشل جناب ایوب خان مرحوم کی زندگی کے بارے ایک معلوماتی ویڈیو۔ ۔۔خود بھی دیکھیں اور آگے دوستوں کو بھی شئیر کریں۔ ۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Nehagdara
Peshawar