Engineer Muhammad Irfan Khan
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان صاحب کو میں مشورہ دینا چاھتا ھوں کہ اگر وہ سمجھتا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں ہی ٹی آئی ممبران اسمبلی ان کا حکم مانتے ہیں تو اس وقت عمران خان کیلئے سیاسی شعور کا تقاضا یہ ہے کہ خیبرپختونخواہ میں جلد از جلد تمام پارلیمانی پارٹیوں پر مشتمل مشترکہ قومی حکومت بنادیں تاکہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے عوام سکھ کا سانس لے لیں۔ یہ قومی حکومت اگر کل تک بنتی ہے تو آج شام تک بنادیں ورنہ میرا سیاسی شعور یہ کہتا ہے کہ پی ٹی آئی کی یہ حکومت نہ صرف صوبے کو تباہی میں لے جائے گی اور کل کو الزامات وفاق پاکستان اور دفاعی اداروں پر لگائے گی لیکن تب تک پی ٹی آئی کا سیاسی جماعت کی حیثیت سے خاتمہ یقینی طور سے ھوگا اور لوگ یہ پختون لوگ پھر نہ صرف اپنے موجودہ پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو مجرم ٹھہرائیں گے ساتھ میں عمران خان صاحب باوجود اس کے جیل میں ھونگے کو مجرم ٹھہرائیں گے ۔ عمران خان صاحب کو قومی حکومت بنانے کا آرڈر دینا چاہیے اور ساتھ میں پشاور سے وزیراعلی لینا چاہیے ۔ سھیل آفریدی صاحب مجھے لگتا ہے کہ بہت کچھ غلط ھونے جن میں سینکڑوں اربوں روپوں کے ضائع ہونے کے باوجود پتلہ گلی سے نکل جائے گا۔ اس کو بدلنا چاہیے اور قومی حکومت جلد از جلد قائم کرنی چاہئے تاکہ باقی کے تین سالوں میں فنڈز کا صحیح استعمال ھوسکے۔ والسلام انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور
27/05/2026
پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواہ حکومت کو تصدیق یا تردید مدلل جوابات دینی چاہیے کہ وفاقی حکومت پاکستان نے 2010 سے اب تک ھمارے صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 8400 ارب دیئے ہیں جبکہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی کیلئے علیحدہ سے 700 ارب روپے پچھلے چار پانچ سالوں میں دیئے ہیں۔ یہ ھزاروں ارب روپے صرف وفاق پاکستان سے ملے ہیں جبکہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے اپنے وسائل بھی ہیں جن سے صوبہ چلتا ہے اور ہر سال بجٹ میں وہ پیسے بھی دکھائے جاتے ہیں۔اب یہ حساب کتاب ھزاروں اربوں روپوں کے ہیں جن سے صوبہ خیبرپختونخواہ کو کسی صورت انڈیا کے گجرات احمد آباد ، جرمنی کے مشرقی حصے ڈریسڈن ، لائپزگ ، مگدیبرگ ، نارتھ آئرلینڈ اور کینیڈا اور امریکہ کے البرٹا اور الاسکا کے جی ڈی پی سے کسی صورت کم نہیں ھونا چاھیے ۔ تھا لیکن بدقسمتی سے ھمارا صوبہ باوجود رچ نیچرل ریسورسز خوبصورتی موافق موسمی حالات کے پھر بھی پنجاب سے پیچھے ہے باوجود اس کے کہ مذہبی پارساؤں کی پارٹیاں ہیں قوم۔پرستوں والی پارٹیاں ہیں بلکہ پکے پتھر والے پانچ کلو والے سیر سے حکومتوں میں رہ چکے ہیں جن کے بارے میں کرپشن کا سوچنا بھی گناہ لگتا ہے عمران خان کی پی ٹی آئی جو کہ مذہبی اور قوم پرستی اور پاکستانیت کا مکس ہیں یہ سارے کے سارے پاکستان میں سب سے زیادہ اپنے کو صاف وشفاف سمجھتے ہیں پھر بھی صوبے میں کاروبار زندگی تباہی کی طرف جارہی ہے کوئی ترقی نہیں ہے حکومتی تعلیمی اداروں خصوصاً یونیورسٹیوں میں فنڈز نہ ھونے کی وجوہ سے تعلیمی اداروں کے اخراجات پورے نہیں ہورہے ہیں داخلے کم۔ہیں ۔ ھونا تو یہ چاھیے تھا کہ ھمارے تعلیمی اداروں خصوصاً یونیورسٹیوں کے دوسرے ترقیاتی ممالک کے ساتھ وزٹنگ کورسسز وغیرہ ھوتے لیکن یہ ادارے کم۔ترین سطح پر اپنے اخراجات پورے نہیں کرسکتے ۔ صرف اور صرف پارلیمانی انتخابات کے بعد ممبران اسمبلی کی ترقی میں اضافے ھوتے ہیں جو کوئی ایک خیبر سوزوکی گاڑی ایفورڈ نہیں کرسکتے تھے وہ بھی کروڑوں اور اربوں روپوں میں کھیلنے لگ جاتے ہیں یہ بے شرمی کب تک چلے گی ۔۔ انجنئیر محمد عرفان خان بڈھ بیر پشاور
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Address
Badaber
Peshawar