MMC ADINA
یو ضرورى خبر ده ٹولوں مسلمانانو روڼو دہ پارہ
ملگرو چہ کلہ ھم سوک بجلئ اونیوو نو پہ زمکہ کی یی بالکل مہ حخوئ پہ دی وخت کی مونگ سرہ 6 منٹو پوری ڈیر قیمتی وخت وی چہ گولڈن ٹائم ورتہ وائی چہ ھغہ مونگ د مریض پہ خخلو باندی ضائع کو
داسی ھیس قسمہ کنسیپٹ نشتہ چہ د انسان بدن لکہ د بیٹری چارج کیگی او بجلی پکی سٹور کیگی ، چہ کلہ ھم بدن تہ د بھر نہ کرنٹ راشی نو د انسان د زڑہ حرکت اودریگی او یا بے ترتیبہ شی او ساہ یی بندہ شی دی تہ کلینیکل ڈیتھ وائی پہ دی وخت کی د انسان زڑہ پہ مصنوعی طریقہ پہ حرکت کی راوستل پکار دی او چی داسی عمل (سی پی آر) پہ 6 منٹو کی دننہ اونشو نو زڑہ دماغو تہ وینہ نہ پاس کوی او دی دوران کی د انسان دماغی حلئیی مستقل طور مڑی شی چہ ورتہ بائیولوجیکل ڈیتھ وائی او انسان وفات شی،
د کرنٹ لگیدو سرہ سمدست ایمبولینس یا ذاتی گاڈی راتلو پوری مریض پہ زڑہ باندی پہ دواڑہ لاس سرہ دومرہ زور ورکئ چہ د ھغہ سینہ دوہ انچہ پوری لاندی زی ((کہ پوحتئ یی ماتی شی خیر دے ھو چہ جوند یی بچ شی )) او دا عمل بہ دومرہ تیز کوئ چہ 15 سیکنڈ کی دیرش حرکتونہ برابر شی دی نہ پس بہ مریض لہ پہ پوزہ لاس کیدئ او پہ خلہ کی بہ دوہ پوکی ورکئ او دا عمل بہ دوبارہ شروع کئی انشاء اللہ پہ ڑومبی سائکل یا پہ دویم کی بہ مریض روغ شی او کہ اونہ شو نو د ایمبولینس یا د ہسپتال رسیدو پورے بہ د عمل جاری ساتئ ،
او کہ چرتہ مریض ماشوم وو نو پہ دواڑہ لاس بہ زور نہ ورکوئ صرف پہ دوہ گوتو بہ زور ورکوئ،
Copied from wall of professor Dr intikhan alam
میری پچھلی پوسٹ پر، جس میں میں نے لوگوں کو ٹائیفیڈاٹ (Typhidot)اور ایچ پائلوری (H. pylori) کے خون کے ٹیسٹوں سے بچنے کی یا نہ کرنے کی تلقین کی تھی، بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آخر ان لیب معائنات سے اجتناب کیوں کیا جائے؟۔میں ان ٹیسٹوں کی لسٹ میں وڈال ٹیسٹ (Widal test)اور اے ایس او ٹائٹرز(ASO titres) کوبھی شامل کرنا چاہوں گا۔ابتدا ہی میں میں ایک بات آپ کو بتا دوں کہ ان تمام ٹیسٹوں میں جراثیم نہیں نظر آتے بلکہ انکے خلاف بنی اینٹی باڈیز (Anti-bodies)کا پتہ چلتا ہے۔اینٹی باڈیز کے بارے میں جاننے کیلئے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم میں ایک حفاظتی نظام(Immune system) بنایا ہے جو جراثیم کو ختم کرنے کیلئے خاص پروٹینز بناتا ہے جنہیں ہم اینٹی باڈیز کہتے ہیں اور جو متذکرہ بالا تمام ٹیسٹوں میں نظر آتی ہیں۔اب جو بات سمجھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ جب ایک دفعہ کسی بھی جراثیم کے خلاف یہ اینٹی باڈیز کسی بھی مریض کے جسم میں بن جائیں تو پھر کافی عرصے تک(بلکہ تمام عمر ) یہ اینٹی باڈیز اس شخص کے خون میں (چاہے وہ اس مرض سے صحتیاب بھی ہو گیا ہو) سالوں سال موجود رہتی ہیں اور اسی لئے مندرجہ بالا ٹیسٹ ہمیشہ مثبت آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ تمام ٹیسٹ انتہائی ناقابلِ اعتبار ہوتے ہیں جن کی بنا پر ان سے متعلقہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا، جب تک اس سے متعلق بیماری کی علامات نہ ہوں۔
وڈال اور ٹائیفیڈات ٹیسٹ تو اتنے ناقابلِ اعتبار ہیں کہ ان ٹیسٹوں پر حکومتی سطح پر پابندی لگ گئی ہے۔اور یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اگر کوئی بھی ڈاکٹر یہ ٹیسٹ تجویز کرے تو ایک غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکت کا مرتکب ہو رہا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the practice
Telephone
Website
Address
Adina
Panjpir
23200