Professionals
Hello Friends
31/10/2018
26/09/2018
کڑوا سچ
غزوہ احد سن 3 ہجری کو پیش آیا۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ایک سال قبل یعنی 2 ہجری کو غزوہ بدر کی شکل میں دنیا کی تاریخ کا ایک معجزہ رونما ہوا جس میں بے سروسامانی کے عالم میں 313 مسلمانوں کے لشکر نے قریش مکہ کے اپنے سے 3 گنا بڑے لشکر کو پچھاڑ ڈالا۔ مسلمانوں کے پاس صرف 70 اونٹ، 2 گھوڑے اور چند ایک تلواریں ہی تھیں لیکن اللہ تعالی کی مدد شامل حال تھی، چنانچہ قریش کے آہنی زرہ میں ملبوس دشمنوں کو بھی موم کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔
قریش کے مختلف گروہوں کے 70 کے قریب سربراہ اس معرکے میں قتل ہوئے اور وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگے۔ لشکر کا سپہ سالار ابوجہل اسی غزوہ میں مارا گیا تھا۔
پھر ابوسفیان نے اس کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا اور پورے ایک سال تک جنگ کی تیاری کی۔ 3300 افراد کا لشکر تیار کیا، اسے ہر طرح کے اسلحہ و سامان سے لیس کیا اور مدینے کی طرف چڑھائی کردی۔
نبی ﷺ کو اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے اپنے احباب کو مشورہ کیلئے بلایا۔ آپ ﷺ کی رائے تھی کہ مدینہ میں محصور ہو کر قریش کی فوج کا مقابلہ کیا جائے لیکن غزوہ بدر کے بعد بہت سے نوجوان مسلمانوں میں جوش و ولولہ پیدا ہوچکا تھا، چنانچہ انہوں نے اصرار کیا کہ مدینہ سے باہر نکل کر میدان میں مقابلہ کیا جائے۔ اکثریت کی رائے یہی تھی چنانچہ نبی ﷺ نے اس رائے کو فوقیت دی۔
مسلمانوں کے پاس کفار جتنا بڑا لشکر تو نہ تھا، تاہم 1000 کے قریب مسلمان لشکر میں شامل ہوگئے۔ جب میدان جنگ کی طرف روانگی ہوئی تو سب سے پہلے مسلمانوں کے لشکر میں سے عبداللہ نامی شخص جو مدینے کے ایک قبیلے کا سربراہ تھا، اسنے اپنے 300 فوجیوں کے ساتھ واپسی کا سفر شروع کردیا۔ اس کا کہنا تھا کہ جنگ کیلئے مدینے کے اندر رہ کر مقابلہ کرنے کی اس کی رائے کو فوقیت نہیں دی گئی اس لئے وہ شریک نہیں ہوگا۔
پیچھے رہ گئے 700 افراد۔ احد کی پہاڑی کے پاس پڑاؤ ڈالا اور نبی ﷺ نے سب دستوں کو ہدایات جاری فرمائیں۔ ان میں سے 50 نیزہ برداروں کو پہاڑ کی چوٹی پر مورچہ بند ہونے کا حکم دیا اور ان سے کہا کہ اپنا مورچہ مت چھوڑنا، چاھے میدان میں لڑنے والے مسلمان فوجیوں کی لاشوں کو چیل کوے ہی کیوں نہ کھانا شروع ہوجائیں۔
جنگ کا آغاز ہوا۔ مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا اور ایک ایک کرکے کفار کی لاشیں گرتی گئیں اور تقریباً وہی منظر نظر آنے لگا جو غزوہ بدر میں تھا۔ چنانچہ کفار کے فوجی جان بچا کر وہاں سے بھاگنا شروع ہوگئے۔ انہیں بھاگتا دیکھ کر چوٹی پر مورچہ بند مسلمان سمجھے کہ شاید ہمیں فتح حاصل ہوگئی چنانچہ وہ مورچہ چھوڑ کر میدان کی طرف چلے گئے تاکہ مال غنیمت حاصل کیا جاسکے۔ ایسا کرتے وقت وہ نبی ﷺ کا فرمان بھول گئے اور یہیں سے خرابی کا آغاز ہوا۔
خالد بن ولید اس وقت قریش کی فوج کا حصہ تھے اور انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ جب انہوں نے مورچہ خالی ہوتے دیکھا تو اپنے ساتھ چند فوجی لے کر وہاں سے حملہ کردیا۔ مسلمان اس اچانک حملے کیلئے تیار نہ تھے، افراتفری میں بہت سے صحابہ شہید ہوگئے اور نبی ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوگیا اور وہ شاید کچھ دیر کیلئے بے ہوش بھی ہوگئے۔ اس دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے گرد تلوار لے کر حفاظت کیلئے کھڑے رہے۔ نبی ﷺ کی بے ہوشی سے افواہ پھیل گئی کہ معاذ اللہ، نبی ﷺ شہید ہوگئے جس سے مسلمان فوجیوں کے حوصلے مزید پست ہوگئے اور وہ وہاں سے واپس بھاگنا شروع ہوگئے۔
اس دوران نبی ﷺ نے وہاں موجود اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ پہاڑ کے اوپر چڑھنا شروع کردو، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ کفار کی فوج نے ان کا پیچھا کرنے کی کوشش کی لیکن بھاری زرہ پہننے کی وجہ سے ان کیلئے چڑھائی چڑھنا ممکن نہ تھا، دوسری طرف ابوسفیان کو لگا کہ اگر اوپر سے مسلمانوں نے پتھراؤ شروع کردیا تو اس کی فوج کا نقصان ہوگا، چنانچہ اس نے فتح کا اعلان کرتے ہوئے وہاں سے واپسی کا راستہ اختیار کرلیا۔
مسلمان اس جنگ کی وجہ سے بہت دلبرداشتہ ہوئے لیکن اللہ تعالی نے بعد میں وحی کے ذریعے انہیں دلاسہ دیا اور بشارت دی کہ فتح حق والوں کو ہی ملے گی۔
خیر، مقصد یہ واقعہ سنانے کا یہ تھا کہ 50 صحابہ نے دانستہ طور پر نبی ﷺ کے فرمان کی حکم عدولی نہیں کی تھی، ان سے بس اندازے کی غلطی ہوئی لیکن چونکہ انہوں نے نبی ﷺ کے فرمان پر عمل نہیں کیا، اللہ تعالی نے ان سے اپنی مدد واپس لے لی۔
آج اگر آپ کشمیر سے لے کر شام تک مسلمانوں کی حالت زار پر ٹسوے بہا رہے ہیں اور ہر چند سیکنڈز بعد مجھے ان باکس میں شام کے بچوں کے متعلق پوسٹ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں تو یہ جان لیں ہم اس وقت دانستہ اور ارادتاً نبی ﷺ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا مرتکب ہورہے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر سے لے کر فلسطین تک، مسلمانوں کو ہر جگہ جوتیاں پڑ رہی ہیں۔
ڈیڑھ کروڑ یہودیوں نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا ہے اور دن رات ہمیں مزید زلیل و خوار کررہے ہیں۔
اگر آپ کو شام و فلسطین و برما و کشمیر کے حالات سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو پہلے اپنے اعمال درست کریں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جو جنگ چھیڑ رکھی ہے، اسے ختم کریں، گناہوں کی معافی مانگیں، دین کے احکامات کو نافذ کرنا شروع کریں، آپ کیلئے فتوحات کا سلسلہ پھر سے شروع ہوجائے گا، آپ کا ہر میدان، میدان بدر ہوگا اور ہر لڑائی غزوہ بدر۔
اپنے اعمال پر توجہ دیں، خود کو ٹھیک کریں، پھر اللہ کی مدد شامل حال ہوگی۔ اللہ نے صحابہ کو ایک معمولی غفلت کی وجہ سے فتح سے دور کردیا، ہماری تو کوئی اوقات ہی نہیں۔ اس لئے یہ سوشل میڈیا پر رونے دھونے کی منافقت چھوڑیں اور اپنی زندگی بدلنے پر دھیان دیں!!! بقلم خود باباکوڈا
صُوفی ازّم ۔ایک سوال۔۔۔رضوان خالد چوھدری
مُجھ سے سوال کیا گیا کہ کیا واقعی صُوفی ازّم اسلام سے مُتوازی ایک الگ دین ہے۔
میں نہیں جانتا کہ سوال کرنے والے کے نزدیک صُوفی ازّم کی کیا تعریف ہے البتّہ میرے نزدیک صُوفی ازّم دُنیا کے دیگر عُلوم کی طرح علم کی ایک ایسی شاخ ہے جِس میں ادراک کی بُنیاد مادے اور حواسِ خمسہ کی بجائے کائنات کے خُودکار فطری نظام کو چلانے والی نظر نہ آنے قُوّت ہے۔
جِس صُوفی ازّم کا مُجھے علم ہے وہ نہ تو اسلامی علم ہے نہ غیر اسلامی۔
علم کا کوئی مذہب ہو بھی کیسے سکتا ہے ۔
کوئی بھی علم یا تو انسانوں کو نفع دے گا یا نُقصان۔
نفع یا نُقصان کے پیمانے پر ہی کسی علم کی حیثیّت کو پرکھا جاتا ہے۔
ایک مثال شاید میری بات کو واضع کر دے۔
دیکھیے! فزکس کا علم ہی ایٹم اور ہائیڈروجن بم بننے کا باعث بھی بنتا ہے اور یہی علم میڈیکل سائسز کی مدد کرکے اب تک اربوں انسانوں کی زندگی بچانے کے کام بھی آیا۔
انسانیت کے لیے فائدہ مند ہونے کے پیمانے پر فزکس کو پرکھنے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ فزکس دین کے ایک مقصد تک پہنچنے میں لوگوں کا مددگار ہو سکتا ہے،
کیونکہ بہرحال دین کا ایک بُنیادی مقصد انسانوں کا اجتماعی فائدہ ہے۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بارود کی دریافت سے ایٹم بم تک فزکس کا علم ہی آج تک کروڑوں لوگوں کے قتل کا باعث بنا ہے۔
فزکس کو اسلام کا مُتوازی یا مُتضاد علم نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ایک نُکتہ تو واضع ہو چُکا کہ کسی بھی علم کا مثبت یا منفی استعمال انسانی اختیار ہے,
اور علوم کی بجائے ان عُلوم کے ماہرین میں سے بعض قابلِ ستائش اور بعض قابل مُذمّت ہونگے اور ستائش یا مُذمّت کے لیے پیمانہ انسانوں کا فائدہ یا نُقصان ہو گا۔
یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ کائنات میں اور اس سے پرے ایسے حقائق موجُود ہیں جن کا ادراک حواسِ خمسہ یا مادی عُلوم کے پیمانوں پر مُمکن نہیں۔
صُوفی ازّم ایسے ہی حقائق کے ادراک کا علم ہے۔
سائنسی عُلوم اپنی بُنیاد حواسِ خمسہ کے مُشاہدے اور مادے کو قرار دیتے ہیں۔ صُوفی ازّم کی بُنیاد میں بھی مُشاہدہ ہے لیکن صُوفی ازّم کے مُشاہدے کا ذریعہ حواسِ خمسہ کی بجائے کائنات کی رُوح یا انرجی ہے۔
میرے نزدیک حقیقت تو وہی ہوگی جسکا ادراک مُجھے ہو پائے لیکن میرا اپنے محدُود ادراک کو مُکمل حقیقت قرار دیتے ہُوئے دُوسروں کے اپنی فہم اور صلاحیّت سے بالا ادراک کو غیر حقیقی قرار دینا کم فہمی اور تنگ نظری کہلائے گا۔
اپنے یقین سے مُتضاد یقین کے مُدّعی کے فہم پر شک کرنا ایک فطری مُعاملہ ہے لیکن اُسکی مذمّت میری کم فہمی کا مُنہہ بولتا ثبُوت ہوگی ,
کیونکہ عین مُمکن ہے مُتضاد یقین رکھنے والے کے ہاں مُشاہدے کا پیمانہ ہی اتنا الگ ہو جو اُسے مُتضاد حقیقت دکھا کر مُجھ سے الگ یقین دیتا ہو۔
مادیّت پرست عُلماء کا صُوفی ازّم سے مُتعلق عمُومی رویّہ اُنکی ایسی ہی کم فہمی اور تنگ نظری کو ہی ظاہر کرتا ہے۔
صُوفیا اور عُلماء کے ہاں مُشاہدے کا پیمانہ ہی مُتضاد ہے۔
دیگر عُلوم نے تو گُزشتہ چند ہزار سالوں میں اپنی اپنی حدُود و قیّود وضع کر لیے لیکن صُوفی ازّم ایک انفرادی علم ہوںے کے باعث اپنی حدُود و قیّود وضع نہ کر پایا. تبھی اسکی طرف جانے والے لوگوں کی اکثریّت دین کے مقصد سے مُتضاد منزل یعنی رہبانیت کی دلدل میں دھنس جاتی ہے.
لیکن یہ بالکُل ایسا ہی مُعاملہ ہے جیسے ماہرینِ فزکس کو زیادہ فائدہ بایو میڈیکل اینجینیرئنگ کی بجائے ایٹمی اسلحے کی صنعت میں نظر آتا ہے۔
اگر صُوفی قُرآن و سُنّت کا وسیع علم رکھتا ہو
اور شریعت کی حدُودوقیّود کوملحُوظِ خاطر رکھتے ہُوئے آنکھ اور کان کے بغیر کائنات کی توانائی یعنی اپنی رُوح کے سہارے دیکھنے اور سُننے کی جُستجُو کرے, تو کُچھ بعید نہیں وہ رہبانیت کے پڑاؤ پر رُکنا ہی نہ چاہے۔
ایسا صُوفی دین کے مقصد سے دور نہیں جا سکتا.
کیونکہ حواسِ خمسہ کی قید سے نکلتے ہی اسے دین کے مقصد کی اتنی وسیع شکل نظر آئے گی جو اس کی تنگ نظری کو وُسعتِ قلبی سے بدل دے۔
وُسعتِ قلبی اُسے انفرادی فائدہ دینے کے ساتھ ساتھ مُعاشرے کے لیے بھی فائدہ مند بنادے گی۔
یعنی حقیقی صُوفی بالکُل ویسے ہی دین کی مُعاشرتی رُوح کوپالینے والا ہوگا,
جسے پاکر کوئی سائنسدان کسی مُہلک بیماری کی دوا بنانے کی جُستجُو کرتا ہے۔ رضوان خالد
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Okara
56300