ASAD Explorer
08/03/2026
سن دو ہزار بائیس کی بات ہے۔ گرمیوں کا وہ موسم جب استور کی وادیاں سبزے سے بھر جاتی ہیں اور پہاڑوں کی خاموشی دل کو اپنی طرف کھینچنے لگتی ہے۔ دل میں ایک عجیب سی بے قراری تھی۔ جیسے کوئی اندر سے پکار رہا ہو کہ آؤ، فطرت کے اس حصے کو دیکھو جہاں ابھی بھی سکون زندہ ہے۔
لمبا سفر طے کرتے ہوئے ہم استور کے راستوں میں داخل ہوئے۔ دریا کبھی ساتھ ساتھ چلتا تھا، کبھی دور ہو جاتا تھا۔ پہاڑ اتنے بلند کہ انسان خود کو بہت چھوٹا محسوس کرے۔ دل بے اختیار کہہ اٹھتا تھا، اے اللہ، تیری زمین کتنی وسیع ہے اور تیری قدرت کتنی عظیم۔
پھر وہ مقام آیا جس کا نام بہت سنا تھا۔ چلم چوکی۔ ایک خاموش سا مقام مگر بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں فوج کی چوکی ہے اور یہی وہ دروازہ ہے جہاں سے آگے منی مرگ اور ڈومیل کی دنیا شروع ہوتی ہے۔ گاڑی رکی۔ سپاہی آئے۔ انہوں نے مسکرا کر سلام کیا اور اجازت نامہ مانگا۔ وہ لمحہ عجیب تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے آپ کسی راز کی سرحد پر کھڑے ہوں۔
اجازت نامے کی اپنی ایک کہانی ہے۔ اس علاقے کے قریب سرحد ہے اس لئے ہر مسافر کو پہلے اجازت لینا پڑتی ہے۔ اکثر لوگ استور میں یہ کاغذ بنواتے ہیں۔ جب وہ کاغذ چلم چوکی پر دکھایا جاتا ہے تو سپاہی رجسٹر میں نام لکھتے ہیں اور پھر راستہ کھول دیتے ہیں۔ اس لمحے دل میں ایک خوشی سی دوڑ جاتی ہے۔ جیسے کسی بند دروازے کے پیچھے ایک نئی دنیا آپ کا انتظار کر رہی ہو۔
چلم چوکی سے آگے بڑھتے ہی منظر بدل گیا۔ سڑک کے دونوں طرف سبز میدان پھیلنے لگے۔ ہوا ٹھنڈی اور خوشبودار تھی۔ سن دو ہزار بائیس میں وہ موسم واقعی اپنی جوانی پر تھا۔ جنگلی پھولوں کی خوشبو اور گھاس کی نرمی انسان کو بار بار رکنے پر مجبور کر دیتی تھی۔
پھر ایک موڑ آیا۔ اور اس موڑ کے بعد وہ منظر سامنے آیا جسے دیکھ کر ہم سب کچھ لمحوں کے لئے خاموش ہو گئے۔
پہاڑوں کے درمیان ایک جھیل چمک رہی تھی۔
یہی رینبو جھیل تھی۔
اس کا پانی اتنا صاف کہ نیچے تک سب کچھ دکھائی دے۔ سورج کی روشنی پڑتی تو رنگ بدلنے لگتے۔ کبھی نیلا، کبھی سبز اور کبھی فیروزی سا۔ شاید اسی لئے لوگوں نے اسے رینبو جھیل کہنا شروع کر دیا۔ اردگرد مکمل خاموشی تھی۔ نہ شور، نہ ہجوم۔ صرف ہوا کی ہلکی سی آواز اور پانی کی خاموش چمک۔
ہم جھیل کے کنارے بیٹھ گئے۔ وقت جیسے رک گیا تھا۔ انسان ایسے لمحوں میں کچھ نہیں کہتا۔ بس دل کے اندر ایک خاموش دعا اٹھتی ہے۔ اے اللہ، تیرا شکر ہ
08/03/2026
یہ تصویر دلکش پہاڑی مقام مری سے لی گئی ہے، جہاں رات کے وقت وادیوں میں پھیلی روشنیاں آسمان کے ستاروں کا گمان دلاتی ہیں۔ سامنے سرسبز چیڑھ کے درخت اپنی مہک اور خاموشی کے ساتھ کھڑے ہیں، جیسے صدیوں سے ان پہاڑوں کی پہرے داری کر رہے ہوں نیچے سڑک کی ہلکی سی جھلک اور دور تک بکھری روشنیوں کی قطار ایک جیتی جاگتی تصویر پیش کرتی ہے۔
مری کی تاریخ برطانوی دور سے جڑی ہے، جب اسے گرمیوں کا دارالحکومت بنایا گیا۔ تب سے لے کر آج تک یہ مقام سیاحوں کے دلوں کی دھڑکن بنا ہوا ہے۔ دن کے وقت بادلوں کی آغوش اور رات کے وقت جگمگاتی بستیاں، یہاں آنے والوں کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہیں۔
یہ منظر صرف ایک تصویر نہیں، بلکہ سکون، خاموشی اور فطرت کی خوبصورتی کا ایک حسین امتزاج ہے—جہاں انسان چند لمحوں کے لیے دنیا کی ہنگامہ خیزی بھول کر قدرت کے قریب آ جاتا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Okara