Litigation Studio
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
حکومتی موقف کو بڑا دھچکا
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے آئین توڑنے والوں کا کام تمام کردیا،
ہم آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور آئین کی بالادستی قائم ہونے پر وکلاء کمیونٹی کا کل ملک بھر میں یوم تشکر منانے کا فیصلہ
ڈپٹی سپیکر کی 3 اپریل کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسمبلی کی تحلیل کو بھی غیر آئینی قرار دیا گیا اور فیصلہ میں کہا گیا کہ ایسی صورت میں وزیراعظم، صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش نہیں کرسکتا
قومی اسمبلی بحال کرتے ہوئے سپیکر کو ہدایت جاری کی کہ اسمبلی کا اجلاس 9 اپریل دن دس بجے بلایا جائے اور عدم اعتماد پر ووٹنگ کے عمل کو مکمل کیا جائے
صدر پاکستان کے نگران حکومت بنائے جانے کے احکامات اور 3 اپریل کے بعد اب تک کئے گئے تمام حکومتی اقدامات کو بھی کالعدم قرار دیا گیا
عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں نئے وزیراعظم کے انتخابات ہوں گے اور حکومتی مشینری کسی ممبر کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روک سکے گی
موجودہ حکم نامہ پر آرٹیکل 63 کا اطلاق نہ ہوگا
اب صورتحال کچھ یوں ہوگی کہ دن کو جو حکومتی بوٹ پالشیئے سپریم کورٹ کی تعریفیں کر رہے تھے اب اسی سپریم کورٹ پر تیر برسانا شروع کر دیں گے لیکن ان کے لئے خوشی کی خبر یہ ہیکہ اگر عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوتی تو حکومت انھی کی رہیگی کیونکہ ایک بار عدم اعتماد ناکام ہوجائے تو آئین کے مطابق دوبارہ کم از کم چھ ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے جو بظاہر نہیں لگتا کہ عدم اعتماد ناکام ہوگی
لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2021
بلدیاتی انتخابات کا طریقہ کار
بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے خواہشمند خواتین و حضرات کی راہنمائی کے لئے تحریر و طریقہ کار
1. ہر کونسل میں جنرل سیٹ کی تعداد 3، خاتون1 ،نوجوان 1، کسان 1 اور اقلیتی نشست بھی 1 ہوگی۔
اس طرح ایک کونسل میں کل ممبران کی تعداد 7 ہوگی ویلج میں جو بھی پہلے نمبر پر آئے گا وہ وہ ویلج ناظم اور تحصیل اسمبلی کا ممبر بھی ہوگا
2. ایک ووٹر (6) ووٹ ڈال سکے گا۔
3. امیدوار کے لئے انتخاب لڑنے کے لئے کوئی تعلیمی قابلیت کی شرط نہیں رکھی گئی ہے۔ البتہ نوجوان سیٹ کے انتخابات کے لئے 21 سال سے 30 سال تک اور باقی نشستوں کے لئے 21 سال سے اوپر عمر درکار ہے۔
4. امیدوار صرف اسی کونسل سے انتخابات لڑ سکتا ہے جہاں پر اس کا ووٹ بطور ووٹر انتخابی فہرست میں درج ہو۔
5. انتخابات کے لئے داخلہ متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں نامزدگی فارم جمع کرنا ہوگا۔
اور ویلج/ نیبرہوڈ کونسل کے انتخابات کی نامزدگی فارم جمع کرنے کی فیس 5,000جبکہ تحصیل چیئرمین کی نشست کی انتخابات کی نامزدگی فارم جمع کرنے کی فیس 50,000 روپے ہیں۔
اور یہ فیس ناقابل واپسی ہوگی۔
6. تحصیل چیئرمین کے نشست کے لئے انتخابات براہ راست ووٹ کے ذریعے ہونگی۔ یعنی پورے تحصیل کونسل میں جتنے ووٹر رجسٹرڈ ہیں انہی سے MNA اور MPA کی طرز پر ووٹ لیا جائے گا۔
ضلع کونسل کا نظام اس دفعہ ختم کیا گیا ہے اس لئے ضلع ممبر یا ضلع ناظم نہیں ہے۔
7. یونین کونسل لیول پر اس بار انتخابات نہیں ہوگے اس بار صرف نیبر ہوڈ یا ویلج کونسل ہونگے اور اوپر لیول پر تحصیل ہوگا۔
البتہ ووٹر کی کوئی تعداد نہیں رکھی گئی ہے کیونکہ حلقہ بندی ووٹر نہیں بلکہ آبادی کے اعتبار سے کی جاتی ہے اور وہ ہر کونسل میں 5 سے 15 ہزار تک ہوگی۔
8. نیبر ہوڈ وہ کونسل ہوتا ہے جو شہری علاقوں میں ہو اور ویلج کونسل دیہی علاقوں میں ہوتا ہے۔ یونین کونسل اس سے پہلے ہوتا تھا اور وہ ان دونوں سے بڑا ہوتا ہے جیسے 2015 انتخابات میں وارڈ کا نام دیا گیا تھا۔ موجودہ نظام میں یونین کونسل کا تصور ہی ختم کیا گیا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the practice
Telephone
Website
Address
Jheka Gali
Murree
47150
Opening Hours
| Monday | 08:00 - 17:00 |
| Tuesday | 08:00 - 17:00 |
| Wednesday | 08:00 - 17:00 |
| Thursday | 08:00 - 17:00 |
| Friday | 08:00 - 17:00 |
| Saturday | 08:00 - 17:00 |