Guard of Rights

Guard of Rights

Share

22/05/2024

⚖️ حیض والے مرد 😊

منیر نیازی صاحب کہتے ہیں کہ میں ابا جی کے ساتھ بیٹھا ھوا تھا۔

اچانک انہوں نے مجھ سے پوچھا: بیٹا "حیض کے بارے میں کیا جانتے ہو؟"

میں نے اپنے دل میں الحمد للہ پڑھ کر اللہ پاک کا شکر ادا کیا کہ ہم بھی اب اپنے آپ کو ان آزاد خیال لوگوں میں شمار کر سکتے ہیں جو اپنے گھر میں ہر قسم کے موضوع پر کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی مجھے وہ سارے بیتے سال یاد آ گئے جو میں نے ابا جی کے رعب اور دہشت کے ساتھ اس گھر کے گھٹن زدہ ماحول میں گزار دیئے تھے۔

میں نے مسکراتے ہوئے کہا : "ابا جی، حیض ایک ایسے سرکل کا نام ہے جس سے ھر جوان عورت مہینے میں ایک بار گزرتی ہے.."

ابا جی نے پھر پوچھا : "تو پھر عورت اس حالت میں کیا کرتی ہے؟" 🤔

میں نے کہا: "ابا جی..، عورت اس حالت میں نہ نماز پڑھ سکتی ھے نہ قران مجید پڑھ سکتی ھے اور نہ ہی روزہ رکھ سکتی ہے۔۔۔"

ابا جی نے اس بار قدرے سخت اور اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا: "پُتر اس کا مطلب یہ ہے کہ تجھ میں اور اُس حیض والی عورت میں کوئی فرق نہیں ہے

کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔

تم بھی نہ تو نماز پڑھتے ھو نہ قرآن پڑھتے ہو اور .. ... ! 😰😠
یہ سن کر میں شرم سے ڈوب ڈوب گیا ۔۔۔ اور میرے اندر سکت باقی نا رہی کہ سر اٹھا سکوں یا وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں جا سکوں ۔ 😔

ہاں اس کے بعد سے میں نے باقاعدہ نماز پڑھا شروع کر دی ۔ اور روزانہ قرآن مجید کی تلاوت بھی بآواز بلند کیا کرتا۔ تاکہ "حیض_والے_مرد " کے جیسے شرمناک الزام سے ابا جی کی نگاہوں میں خود کو بری ثابت کر سکوں۔ 🙄

""""""""""""""""""""""""""""""""""
اب آپ خود اپنے بارے میں بھی فیصلہ کر لیجئے کہ آپ اپنے آپ کو کہاں دیکھتے ہیں ؟؟؟

؟ _ یا _ حقیقی مسلمان مرد ؟

29/03/2024

🍃🌻 *آج آٹھارواں روزہ بھی گذر گیا....*
*ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے رمضان ہاتھ سے نکل جائے گا.... ان لمحات کی قدر کیجئے.*

اس میں کوئی برائی نہیں ہے کہ اپنے اور اپنے گھروالوں کے لیے شاپنگ کی جائے۔انسان کا اس کے کمائے ہوئے رزق پر پورا حق ہے۔ لیکن بس تھوڑی سی دیر کے لیے اتنا خیال کر لیں کہ اکثر وقت جو ہوتے ہیں، وہ ایک ساتھ پوری قوم اور انسانوں کے لیے آزمائش کے ہوتے ہیں، اور جو لوگ ان آزمائشوں میں سر خرور ہوجاتے ہیں تو رب کے یہاں ان کے لیے بہت بڑے بڑے انعام مقرر ہو جاتے ہیں۔ یہ جو مہنگائی کا وقت ہے، اس میں اچھے اچھے سفید پوش لوگ بہت برے حالات دیکھ رہے ہیں۔
میں ایک طرف شاپنگ مالز، بازار،وغیر ہ میں اندھا دھن رش دیکھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں غربت نہیں ہے، کہیں کوئی غریب نہیں ہے۔ سب جھوٹ ہے،
*پاکستان بہت ہی زیادہ خوشحال ملک ہے۔لیکن پھر ذرا سا سفید پوش لوگوں کو دیکھیں، تو ایسی ایسی کہانیاں سننے کے لیے ملتی ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں* ،
مجھے نہیں معلوم کہ خبر سچی ہے یا جھوٹی، لیکن ایک باپ نے اپنی اولاد کو پانی سے افطار کرتے دیکھا تو زہر کھا لیا۔
کئی کئی میل پیدل چل کر بزرگ خواتین اس پوائنٹ پر جاتی ہیں جہاں راشن تقسیم ہوتاہے۔
گرمی اور دھوپ میں کھڑی ہیں تاکہ آٹا لے سکیں۔

🔅 *ہم سب کی مدد نہیں کر سکتے۔ لیکن تھوڑا سا اگر اپنی نظر کا دائرہ بڑھا لیں*
تو کم سے کم وہ چند لوگ جن تک ہم پہنچ سکتے ہیں، ان کی ایسی امداد کی جا سکتی ہے کہ ان کی عزت نفس بھی قائم رہے۔ اگر

*اس سال، عید کی بہت ساری شاپنگ میں تھوڑی سی کمی رہ جائے۔ اگر دستر خوان پر ایک ڈش کم ہو جائے، تو ہم رب کا سارا فضل سمیٹ سکتے ہیں۔میں اس پر اصرار نہیں کروں گا، بلکہ میں عاجزانہ نصیحت کروں گا کہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب رزق والوں کی آزمائش ہوتی ہے*

کہ انہوں نے بھوکے پیٹوں کو کس نظر سے دیکھا اور کس ہاتھ سے اس ان کی مدد کی۔ اور سب سے بہترین ہاتھ" دینے" والا ہاتھ ہے۔اور سب سے بہترین دل ، دے کر بھول جانے والا دل ہے۔
کم یا بہت کم پیسوں کو معمولی نہ سمجھیں،
اور اگلے دن کا ویٹ بھی نہ کریں، آج ابھی اس انسان یا گھرانے کو احترام کے ساتھ "رزق" پکڑا دیں اور ان سے کہیں کہ میں نے دئیے میں سے دیا ہے، اپنے پلے سے نہیں دیا۔
(ممتاز مفتی کی بات)
تمہارے رب کا دیا رزق ہے، اس میں تمہارا حصہ تمہارا ہوا، اور رب کا فضل ہم دونوں کا ہوا۔ *یہ بھی یاد رکھیں*
کہ جو مال خرچ کیا جاتا ہے اس کا حساب ہو گا۔ واحد مال جس کا حساب نہیں بلکہ انعام ہو گا وہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جانے والا مال ہے۔
*اور یہی وہ واحد مال ہے جو دے کر" محفوظ" کیا جا تاہے*۔
واسلام

22/03/2024

تاریخ کا ایسا واقعہ جو دل چیرتا ہے۔
حضرت ابوذر غفاری نے حضرت بلال سے کہا "اے کالی ماں کے بیٹے تو بھی مجھے ٹوکتا ہے"
یہ بات بلال کا سینہ چیر گئی اور یہ بات سن کر حضرت بلال رونے لگے ..
اور کہا "میں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤں گا"
اور پھر رحمۃ للعالمین نے جب یہ سنا تو آپکے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا اور فرمایا
"اے ابوذر تو نے بلال کو ماں کے رنگ کا طعنہ دے کر اسکی تحقیر کی ہے تیرے اندر ابھی تک جاہلیت موجود ہے"
آپ (ص) کی زبان مبارک سے یہ سن کر ابوذر کی ہچکی بندھ گئی اور عرض کیا "یارسول اللہ میرے لیے بخشش کی دعا کیجیے" اور پھر روتے ہوئے بلال کے گھر کی جانب دوڑ لگادی
بلال کے پاس پہنچ کر اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیا اور روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے
"اللہ کی قسم میں اپنا چہرہ اس وقت تک زمین سے نہیں اٹھاؤں گا جب تک بلال کا پاؤں اس چہرے پر نہیں پڑتا
اے بلال آپ عزت والے ہیں اور ابوذر ذلیل ہے"
اور پھر بلال نے پاس آکر ابوذر کا چہرہ چوم لیا اور کہا میں ایسے چہرے پر پاؤں نہیں رکھ سکتا جو رب کریم کے سامنے جھکتا ہو اور پھر دونوں بغل گیر ہو کر دیر تک روتے رہے ۔
کبھی غور کیا آج ہماری کیا کیفیت ہے؟
ھم کتنی دفعہ دوسروں کی تذلیل کرتے ہیں ؟
کبھی فرقہ و سیاسی گروہ کی بنیاد پر ، کبھی رنگ ونسل کی بنیاد پر ، کبھی برادری اور قومیت کی بنیاد پر کبھی علاقائی بنیاد پر کبھی مالی حالت کی بنیاد پر کبھی علم کی بنیاد پر اور کبھی عمل کی بنیاد پر کہ جیسے ہم نے ہی تقویٰ کا سرٹیفکیٹ لے رکھا ہے
اور پھر زندگی میں کم ہی وقت ملتا ہے کہ ہم اس پر معذرت کریں اور اعتراف کریں کہ ہم نے زیادتی کی تھی

اللہ پاک ہم سب کو اپنے اندر کی "میں" ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین،

Want your business to be the top-listed Media Company in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Professor House, 13 Street, Ghoosabad Colony Near New Central Jail
Multan
60550

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00