M USAMA Shayan
، ﺍﯾﮏ ﺁﺱ ، ﺍﯾﮏ ﺍﺣﺴﺎﺱ❤
❤ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭺ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﺗﻢ
، ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ، ﺍﯾﮏ ﻣﺠﺎﻝ
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﺗﻢ
، ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ، ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻡ
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﺗﻢ
، ﺍﯾﮏ ﺩﻋﺎ ، ﺍﯾﮏ ﻓﺮﯾﺎﺩ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﺗﻢ
، ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻨﻮﻥ ، ﻣﯿﺮﺍ ﺳﮑﻮﻥ ❤
❤ﺑﺲ ﺗﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﺗﻢ
09/06/2021
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانا کیا
پھر ہجر کی لمبی رات میاں سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی
جو دل میں ہے لب پر آنے دو شرمانا کیا گھبرانا کیا
اس روز جو اُن کو دیکھا ہے اب خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو اُن سے بات ہوئی وہ بات بھی تھی افسانہ کیا
اس حسن کے سُچے موتی کو ہم دیکھ سکیں پر چُھو نہ سکیں
جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں وہ دولت کیا وہ خزانہ کیا
اس کو بھی جلا دکھتے ہوۓ من ایک شعلہ لال بھبوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا یوں ماٹی میں مل جانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
ابن انشا
کیا لگے آنکھ ، کہ پِھر دل میں سمایا کوئی
رات بھر پِھرتا ہے اِس شہر میں سایا کوئی
فِکر یہ تھی کہ شب ہجر کٹے گی کیوں کر
لُطف یہ ہے کہ ہمَیں یاد نہ آیا کوئی
شوق یہ تھا کہ محبت میں جلیں گے چُپ چاپ
رنج یہ ہے کہ، تماشہ نہ دِکھایا کوئی
شہْر میں ہمدمِ دیرِینہ بُہت تھے ناصر
وقت پڑنے پہ مِرے کام نہ آیا کوئی
ناصرکاظمی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the establishment
Telephone
Website
Address
Multan
65900