Apna
29/05/2026
محکمہ جیل خانہ جات کی پونے دو سو سالہ تاریخ کے واحد گریڈ 22 کے افسر آئی جی میاں فاروق نذیر کے اعزاز میں عشائیہ: منفی پروپیگنڈے کی حقیقت سامنے آگئی *آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر کے اعزاز میں تقریب: سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا اور قیاس آرائیاں بے بنیاد نکلیں
ملتان (رپورٹ: منور علی رانا، ایڈیٹر انویسٹیگیشن)
سوشل میڈیا پر آئی جی جیل خانہ جات پنجاب، میاں فاروق نذیر صاحب کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے حوالے سے پھیلائے جانے والے بعض غلط تاثرات اور بے بنیاد قیاس آرائیوں کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق یہ تقریب کوئی سرکاری یا محکمانہ "فیئرول فنکشن" نہیں تھی، بلکہ ملتان کی بزنس کمیونٹی اور ان کے قریبی احباب کی جانب سے ان کی شاندار خدمات اور آئندہ ریٹائرمنٹ کے اعتراف میں دیا گیا ایک پُروقار اعزازی عشائیہ تھا۔اس پُرعزم تقریب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساؤتھ پنجاب، کمشنر ملتان اور ضلع بھر کی اعلیٰ انتظامیہ سمیت دیگر تمام اہم افسران نے شرکت کی۔ روایتی اور سماجی آداب کے تحت معزز شخصیات اور دوست احباب کی ایسی تقریب میں شرکت ایک معمول کا امر ہے، جسے چند عناصر کی جانب سے بلاجواز منفی رنگ دینے کی کوشش کی گئی جو کہ حقائق کے سراسر منافی ہے۔بے مثال جیل ریفارمز کا اعتراف *
اپنے طویل اور شاندار کیریئر کے دوران انہوں نے پنجاب بھر کی جیلوں میں تاریخی اور بے مثال اصلاحات (Jail Reforms) متعارف کروائیں۔ قیدیوں کی فلاح و بہبود، جیلوں کی سیکیورٹی کے جدید نظام، اور مینوئل میں انقلابی تبدیلیاں ان کا وہ تاریخی کارنامہ ہیں جنہیں حکومتِ پنجاب اور پورا محکمہ جیل خانہ جات نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ دل سے سراہتا ہے
28/05/2026
حاصلِ زہد اور تلاشِ جنت: ایک لمحہ فکریہ
واقعی جنت اتنی دور اور اتنی مہنگی ہے؟
جنت کی چابیاں تو سڑکوں پر پڑی ہیں، اور لوگ پریشان ہیں کہ حج مہنگا ہو گیا!"
آج کا انسان مادی دوڑ اور ظاہری عبادات کی شان و شوکت میں اس قدر گم ہو چکا ہے کہ وہ دین کی اصل روح اور انسانیت کے بنیادی فلسفے کو فراموش کر بیٹھا ہے۔ ہم نے نیکی، ثواب اور عبادات کو بھی روپے پیسے اور نمائش کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ جب حج یا عمرے کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو ہمارے معاشرے میں ایک کہرام مچ جاتا ہے، لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کہ اب مغفرت اور جنت کا حصول مہنگا ہو گیا ہے۔ لیکن کیا واقعی جنت اتنی دور اور اتنی مہنگی ہے؟سچ تو یہ ہے کہ حاجی بننے کے لیے، ظاہری اسفار کے لیے اور مادی آسائشوں کے ساتھ عبادت گاہوں تک پہنچنے کے لیے تو لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں، لیکن ایک اچھا انسان بننے کےمخلوقِ خدا سے محبت ہی خالقِ کائنات کو پانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اگر لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی ہمارے اندر کا انسان بیدار نہ ہوا، اگر ہمارے پڑوس میں بھوک ناچتی رہی اور ہم عبادات کے زعم میں مگن رہے، تو وہ زہد و تقویٰ بے معنی ہے۔*برخوردار! حاجی بننا ایک سعادت ضرور ہے، مگر ایک اچھا انسان بننا اس کائنات کا سب سے بڑا فرض ہے۔ جب تک ہم سڑکوں پر بکھری ان "چابیوں" یعنی حقوق العباد کو نہیں سمیٹیں گے، تب تک ہماری ظاہری عبادات کی روح ادھوری رہے گی۔ جنت دور نہیں، بس نظر بدلنے اور اپنے آس پاس موجود مجبور انسانوں کا درد محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ لیے
19/05/2026
دل کا بوجھ جب روح کا مرض بن جائے
دل کی چبھن سے ذہنی تناؤ تک کا سفر
انسان بنیادی طور پر ایک سماجی مخلوق ہے، جس کی روح کا سکون دوسروں سے جڑنے، اپنے جذبات کا اظہار کرنے اور دل کا حال سنانے میں پنہاں ہے۔ لیکن زندگی کے سفر میں کئی بار ایسے موڑ آتے ہیں جہاں ہم چاہ کر بھی اپنے دل کی بات کسی سے کہہ نہیں پاتے۔ کبھی رشتوں کا لحاظ، کبھی خوفِ ملامت، کبھی انا کی دیوار اور کبھی یہ احساس کہ "کوئی مجھے سمجھے گا نہیں" ہمیں خاموش رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے /جب ہم کسی بات کو دل میں دبا لیتے ہیں، تو وہ ختم نہیں ہوتی۔ وہ ہمارے اندر سانس لیتی ہے، پروان چڑھتی ہے اور دھیرے دھیرے ایک ایسی چبھن بن جاتی ہے جو ہر لمحہ بے چین رکھتی ہے۔
•
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan
60000