Apna

Apna

Share

03/05/2026

مئی3: آزادیِ صحافت کا عالمی دن اور سچ کی آواز
​ہر سال 3 مئی کا دن دنیا بھر میں آزادیِ صحافت کے عالمی دن (World Press Freedom Day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ان تمام قلم کاروں، رپورٹرز اور صحافیوں کے نام ایک خراجِ تحسین ہے جو حالات کی سنگینی اور خطرات کے باوجود سچ کا علم بلند رکھتے ہیں۔​صحافت کسی بھی معاشرے کا وہ آئینہ ہوتی ہے جس میں اس کے خدوخال صاف نظر آتے ہیں۔ اسے ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، اور جب یہ ستون مضبوط ہوتا ہے، تو جمہوریت کی عمارت بھی مستحکم رہتی ہے۔​صحافت: حق گوئی کی امانت​صحافت صرف خبر پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مقدس امانت ہے۔ ایک صحافی کا قلم جب چلتا ہے، تو وہ مظلوم کی آواز بنتا ہے اور طاقتور کے سامنے سوال بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ 3 مئی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:​سچائی کی تلاش: صحافت کا اصل مقصد حقائق کو عوام تک پہنچانا ہے، چاہے وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں۔​احتساب کا عمل: ایک آزاد میڈیا حکمرانوں اور اداروں کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے۔​آگاہی کا ذریعہ: معاشرے میں شعور بیدار کرنا اور لوگوں کو ان کے حقوق سے باخبر رکھنا صحافت ہی کی بدولت ممکن ہے۔​آزادیِ اظہار اور درپیش چیلنجز​آج کے دور میں، جہاں معلومات کا سیلاب ہے، صحافت کو کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ 3 مئی کا دن ہمیں ان تلخ حقیقتوں کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے:​جانی و مالی خطرات: دنیا کے کئی حصوں میں صحافیوں کو سچ بولنے کی پاداش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔​سنسرشپ اور پابندیاں: کئی جگہوں پر قلم کی زبان کو تالے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے، جو کسی بھی آزاد معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
1. ​جعلی خبریں (Fake News): ڈیجیٹل دور میں سچی اور جھوٹی خبر میں فرق کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنا ایک ذمہ دار صحافی کا اولین فریضہ ہے۔
​ہمارا فرض اور ذمہ داری
​صحافت کی آزادی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اخلاقی حدود کو پامال کیا جائے۔ ایک خوبصورت اور مثبت صحافت وہی ہے جو:• ​غیر جانبداری کو اپنا شعار بنائے۔
• ​تعصب اور نفرت انگیزی سے پاک ہو۔
• ​قومی مفاد اور انسانیت کی فلاح کو مقدم رکھے۔
• ​"قلم کی حرمت اسی میں ہے کہ وہ کبھی کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتی ہے!

02/05/2026

***​​غریبی اور امیری: ایک ہی موسم** **
**قیامت خیز طوفان،//
​ خوبصورت مگر تلخ جملہ "غریبی لڑتی رہی تیز طوفانوں سے، امیروں نے کہا واہ کیا موسم ہے" ہماری سماجی زندگی کی اس بھیانک حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جہاں ایک کی زندگی کا تماشا دوسرے کے لیے تفریح کا سامان بن جاتا ہے۔​​کائنات کا نظام سب کے لیے ایک جیسا ہے؛ بارش، دھوپ اور طوفان سب پر برابری سے آتے ہیں۔ لیکن ان حالات کو جھیلنے کی سکت ہر ایک میں مختلف ہوتی ہے۔​غریب کے لیے: تیز بارش کا مطلب چھت کا ٹپکنا، کچے مکان کا گرنا اور بھوکے پیٹ گیلی زمین پر رات گزارنا ہے۔ اس کے لیے طوفان ایک آزمائش اور بقا کی جنگ ہے۔​امیر کے لیے: یہی بارش ایئر کنڈیشنڈ کمروں کی کھڑکیوں سے خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ وہ اسے "رومانوی موسم" قرار دے کر گرم کافی اور پکوڑوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کے لیے طوفان محض ایک منظر ہے۔​یہ فرق صرف موسم تک محدود نہیں، بلکہ انسانی احساسات تک پھیلا ہوا ہے۔ جب معاشرے کا ایک طبقہ اپنی زندگی بچانے کے لیے جدوجہد (Struggle) کر رہا ہوتا ہے، تو دوسرا طبقہ اس جدوجہد سے بے خبر /**اپنی آسائشوں میں مگن رہتا ہے۔​"کسی کے پاؤں کی بیڑیاں دیکھ کر کوئی اسے رقص سمجھ لے، تو یہ بصارت کی نہیں، بصیرت کی کمی ہے۔"​یہ جملہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں اپنی خوشیوں کے جشن میں دوسروں کے دکھوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ سچی انسانیت وہی ہے جو اپنی محفوظ چھت کے نیچے بیٹھ کر ان لوگوں کا درد محسوس کرے جن کے پاس چھت نہیں ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جسے ہم "خوشگوار موسم" کہہ کر سراہتے ہیں، وہ کسی غریب کے سر سے چادر چھیننے والا "قیامت خیز طوفان" بھی ہو سکتا ہے۔

22/04/2026

-خود شناسی: ایک مشکل سفر*
* ​*دوسروں کی برائی: ایک سستی تسکین *
کہا جاتا ہے کہ دنیا کا مشکل ترین کام اپنے عیب دیکھنا اور آسان ترین کام دوسروں کی خامیاں گننا ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کے کردار پر جرح کرتے وقت جج بن جاتا ہے، لیکن جب اپنی باری آئے تو بہترین وکیل بن کر اپنی ہر غلطی کا دفاع کرتا ہے۔دوسروں کی برائی کرنا، ان پر تنقید کرنا اور ان کے عیبوں کو اچھالنا ایک ایسا مشغلہ ہے جس میں کوئی محنت نہیں لگتی۔ یہ بزدل لوگوں کا شیوہ ہے جو اپنی محرومیوں کو دوسروں کی تنقیص کے پیچھے چھپاتے ہیں۔ جب ہم دوسروں کی برائی کرتے ہیں، تو لاشعوری طور پر خود کو ان سے بہتر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ عمل معاشرے میں صرف نفرت اور فاصلے پیدا کرتا ہے۔​اپنے اندر جھانکنے کا حوصلہاپنے گریبان میں جھانکنا کوئی معمولی کام نہیں؛ اس کے لیے "بڑا جگر" اور فولادی اعصاب چاہیے۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا، اپنی انا کو توڑنا اور اپنے اندر چھپے "خوف" اور "حسد" کا سامنا کرنا ایک روحانی اذیت سے کم نہیں۔ لیکن سچی ترقی اسی وقت شروع ہوتی ہے جب انسان دوسروں کے عیبوں سے نظر ہٹا کر اپنی اصلاح کی فکر کرتا ہے۔ جو شخص اپنے اندر جھانکنے کا فن سیکھ لیتا ہے، اسے پھر دوسروں کی برائی کرنے کی فرصت نہیں ملتی۔ دوسروں کی برائی کرنا ایک اندھیرا ہے، جبکہ خود شناسی ایک روشنی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ بدلے، تو ہمیں تنقید کا رخ دوسروں سے موڑ کر اپنی ذات کی طرف کرنا ہوگا۔ یاد رکھیں، دوسروں کو بدلنا "کمال" ہو سکتا ہے، لیکن خود کو بدل لینا "بندگی" اور "انسانیت" کی معراج ہے۔

16/04/2026

خاموشی: ایک خاموش مشاہدہ
*تحریر منور علی رانا **
​زندگی کے سفر میں اکثر ایسا لمحہ آتا ہے جب انسان لفظوں کی نفی کر دیتا ہے۔ جب ہم بولتے ہیں، تو ہم دنیا کو اپنے بارے میں بتاتے ہیں، لیکن جب ہم خاموش ہوتے ہیں، تو دنیا ہمیں اپنے بارے میں بتاتی ہے۔​تماشا کرنے سے بہتر ہے خاموش رہ کر لوگوں کی اوقات دیکھ لوں۔​یہ کوئی ہار مان لینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ تجربے کی ایک ایسی معراج ہے جہاں انسان سمجھ جاتا ہے کہ ہر شخص کو جواب دینا، اپنے ہی ظرف کو چھوٹا کرنے کے مترادف ہے۔ لوگ، جو کل تک آپ کے سائے میں چلتے تھے، وقت کی دھوپ پڑتے ہی اپنا رخ بدل لیتے ہیں۔ ان کے لہجوں میں چھپی ہوئی مسکراہٹیں، ان کی آنکھوں میں بسا ہوا مفاد، اور ان کی گفتگو میں موجود کھوکھلا پن—یہ سب تب ہی سمجھ آتا ہے جب آپ خود کو تماشائی بنا لیتے ہیں۔​خاموشی، کمزوری نہیں، بلکہ ایک ایسی کھڑکی ہے جس سے آپ بغیر کسی شور و غوغا کے، لوگوں کے اصلی چہروں کو نقاب اتارتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ جس دن آپ بولنا بند کر کے دیکھنا شروع کر دیں گے، اس دن آپ کو معلوم ہوگا کہ کتنے لوگ آپ کے "ہمدرد" تھے اور کتنے محض آپ کی موجودگی کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔***​یاد رکھیے، الفاظ میں اگر کہیں تو:"خاموشی ہی بہتر ہے اس ہجوم میں، کیونکہ لوگ اب سنتے نہیں، صرف سناتے ہیں۔"​تلاش کر کے کسی کو برا کہنے سے کہیں بہتر ہے کہ اسے خود پر چھوڑ دیا جائے، کیونکہ وقت ایک ایسا آئینہ ہے جو ہر کسی کی اوقات کو اس کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ بس، ذرا سی خاموشی اختیار کر لیجیے، تماشا خود بخود لگ جائے گا۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Multan
60000