Fidayane Khatme Nabuwat
30/04/2026
تاریخ ساز دن: 29 اپریل 2026 بروز بدھ — لندن میں پہلی باضابطہ آفیشل مرزائیوں کے ساتھ گفتگو
تحریر: سہیل باوا ختم نبوت لندن
29 اپریل 2026 کا دن ایک غیر معمولی اور تاریخ ساز دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب رفقائے ختمِ نبوت لندن اور قادیانی جماعت لندن کے درمیان پہلی بار باضابطہ مکالمہ (ڈیبیٹ) طے پایا۔ اس اہم پیش رفت کے لیے تمام بنیادی معاملات باہمی مشاورت سے طے کیے گئے۔ ہماری طرف سے معروف اسکالر جناب عدنان رشید اور مناظر ختمِ نبوت ہمارے معزز مہمان محمد امتیاز بھائی نے بھرپور حکمت اور بصیرت کے ساتھ اس مکالمے کی تیاری میں ہماری مشاورت کے ساتھ کردار ادا کیا۔
ہم مقررہ لوکیشن پر پہنچے تو صورتحال توقع کے برعکس نکلی۔ دی گئی جگہ اصل مقام نہ تھی بلکہ ہمیں ایک دوسرے لندن کے علاقے سرے کے ایک فارم ہاؤس کی طرف منتقل کیا گیا، جہاں ہمیں کافی دیر تک باہر انتظار کروایا گیا۔ بعد ازاں صرف عدنان رشید صاحب اور امتیاز بھائی کو اندر جانے کی اجازت دی گئی، جبکہ باقی افراد کو مجھ سمیت باہر ہی رکھا گیا۔ اس دوران شرکاء اور انتظامی امور کے حوالے سے الجھانے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم الحمدللہ ہمارے ساتھیوں نے نہایت حکمت اور صبر سے ان مسائل کو حل کر لیا۔
مجھے بطور موڈریٹر شامل ہونے کی پیشکش کی گئی، مگر میں نے بہتر سمجھا کہ مفتی سیف الدین صاحب کو یہ ذمہ داری دی جائے، کیونکہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر کسی بھی جذباتی ردعمل سے پروگرام متاثر ہو سکتا تھا۔
تقریباً دو گھنٹے تک شرکاء کے انتخاب اور سوشل میڈیا پر براہ راست نشریات کے حوالے سے بحث جاری رہی، جس میں ہماری طرف سے لائیو اسٹریمنگ پر عائد پابندی کو بھی زیر بحث لایا گیا، اور بالآخر اس مسئلے کو بھی احسن انداز میں طے کر لیا گیا۔
پہلی نشست میں “دو محمد” کے عقیدے پر ہماری جانب سے مدلل جرح کی گئی۔ قادیانی نمائندہ بار بار اپنے اکابرین کی عبارات پیش کرتا رہا، جس پر ہماری جانب سے واضح کیا گیا کہ انہی حوالہ جات کے ذریعے وہ درحقیقت مرزا قادیانی کے متنازعہ عقیدے کا اقرار کر رہے ہیں۔
نمازِ عصر کے وقفے کے بعد ہمیں بھی اندر آنے کی اجازت دی گئی، جہاں پہلی بار مرزائیوں آفیشل ٹیم رضی اور دیگر لوگوں سے بالمشافہ ایک دوسرے کو دیکھا کافی ان کا موڈ خراب نظر آیا کہا گیا ان کو کیوں اندر لائے گئے انہیں لوگوں نے کہ ہم نے اجازت دی۔ اس موقع پر فضا کچھ کشیدہ بھی ہوئی، تاہم گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ دورانِ گفتگو میرا نام متعدد بار لیا گیا، جسے قارئین خود اس کی اہمیت کے تناظر میں سمجھ سکتے ہیں۔
نمازِ مغرب کے وقفے میں راقم نے امامت کا شرف حاصل کیا اور سورۃ الصف کی تلاوت کی۔ بعد ازاں ختمِ نبوت کے موضوع پر دوبارہ گفتگو کا آغاز ہوا، جہاں وہی پرانی اسلاف کی عبارتیں دہرائی گئی باتیں سامنے آئیں، جو پہلے بھی سنی جاتی رہی ہیں۔
یہ مکالمہ اپنی نوعیت کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ وہ جماعت جس کے بارے میں تین دہائیوں سے ہمیں پروپیگنڈہ کے ذریعے “شدت پسند” یا “دہشت گرد” قرار دیا جاتا رہا، آج وہی لوگ ہمارے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہ خود ایک بڑی تبدیلی اور حقیقت کا اعتراف ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق کو واضح کرنے اور باطل کو بے نقاب کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے🏆🏆🏆🌹
29AprilLondonDialogue2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Rasheed Abad
Multan