Easy Marriage Bureau Multan
22/05/2026
کیا آپ کسی ایسی چیز کے لیے 48 ڈگری گرمی میں 10 کلومیٹر پیدل چل سکتے ہیں جس پر آپ واقعی یقین رکھتے ہوں؟
اس وقت ہزاروں لوگ یہی کر رہے ہیں۔
میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔
مکہ مکرمہ میں جمعہ کی صبح ہے۔
درجہ حرارت 45 تک پہنچ رہا ہے، مگر محسوس ہونے والا درجہ حرارت 48 ڈگری تک ہوگا۔
15 ذوالحجہ تک حرم جانے والی تمام بس اور شٹل سروسز بند کر دی گئی ہیں۔
ٹیکسی والے ایک ایسے راستے کے 200 ریال سے زیادہ مانگ رہے ہیں جو عام دنوں میں 20 یا 25 ریال میں 10 منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔
تو حجاج کیا کر رہے ہیں؟
پیدل چل رہے ہیں، ہزاروں لوگ، تپتی ہوئی گرمی میں۔
عصا کے سہارے چلتے عمر رسیدہ افراد۔
مکمل پردے میں خواتین۔
نوجوان جن کی پانی کی بوتلیں آدھے راستے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گی۔
سب ایک ہی سمت میں جا رہے ہیں۔
نہ کوئی شکایت کررہا ہے۔
نہ کوئی واپس مڑ رہا ہے۔
ہر طرف پولیس موجود ہے، ہر گلی، ہر نکڑ پر نسک کارڈ چیک کیے جارہے ہیں۔
انتظامیہ مسلسل ہدایات دے رہی ہے:
پانی پئیں۔ سائے میں رہیں۔
شدید گرمی کے اوقات سے بچیں۔
مگر بہت کم لوگ سن رہے ہیں۔
کیونکہ حرم کی کشش گرمی کی شدت سے زیادہ طاقتور ہے۔
یہ منظر بتاتا ہے کہ جب انسان کسی چیز سے سچی محبت کرتا ہے، اور اس کے مقصد میں کلیرٹی ہوتی ہے، تو اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔
وہ خوشی سے قربانی دیتا ہے۔
وہ تکلیف سے سودے بازی نہیں کرتا۔
وہ 48 ڈگری میں 10 کلومیٹر چلنے کا “کاسٹ بینیفٹ اینالیسس” نہیں کرتا۔
وہ صرف چلتا ہے، یہ سوچے بغیر کہ اس کا کیا حال ہونے والا ہے۔
اب اس کا موازنہ اپنی باقی پچاس ہفتوں کی زندگی سے کیجیے۔
ہم فجر کے لیے 30 منٹ پہلے نہیں اٹھتے کیونکہ ہم “تھکے ہوئے” ہوتے ہیں۔
ہم تین دن کسی زندگی بدل دینے والی ورکشاپ میں نہیں دیتے کیونکہ ہم “بہت مصروف” ہوتے ہیں۔
ہم ایک کتاب نہیں پڑھ پاتے کیونکہ ہمارے پاس “وقت نہیں” ہوتا۔
ہم اپنے قریبی لوگوں سے ایک ضروری اور مشکل گفتگو نہیں کرتے کیونکہ “ابھی صحیح وقت نہیں ہے۔”
مکہ کی گرمی نہیں بدلی۔
لیکن حرم کی محبت نے انسانی رویے کو بدل دیا۔
ہمارے امیر (گروپ لیڈر) نے ایک بہت دانشمندانہ فیصلہ کیا۔
انہوں نے تمام بزرگ افراد سے کہا کہ قریب کی مسجد میں جمعہ پڑھیں یا قصر نماز ادا کریں، حرم نہ جائیں۔
اپنی صحت اور توانائی اصل حج کے دنوں کے لیے بچا کر رکھیں۔
یہی ترجیحات کی درستگی ہے۔
یہ بات سمجھنا کہ اصل امتحان ابھی آگے ہے، اور آپ اس سے پہلے خود کو نہ تھکائیں اور اپنی صحت خراب کرنے کا رسک نہ لیں۔
ہمارے گروپ میں ایک بڑی عمر کے ڈاکٹر صاحب ہیں جو حج قران کررہے ہیں، مستقل احرام کی حالت میں ہیں اور کئی روز سے روزانہ حرم آنا جانا کررہے ہیں، طواف بھی کررہے تھے۔
اب پچھلے دو روز سے ان کی کمر میں شدید تکلیف ہوگئی ہے، کرسی کے بغیر نماز نہیں پڑھ پارہے، چلنے پھرنے میں تکلیف ہورہی ہے، اور آنے والے ایام حج کے لیے پریشان اور فکر مند ہیں۔
اب روزانہ تین چار بار ان کی کمر کی مالش جاری ہے، درد کم کرنے والی دوائیں بھی لے رہے ہیں، ہیٹنگ پیڈ بھی خرید لائے ہیں اور سب ان کے لیے دعا بھی کررہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب سے بات کرتے ہوئے کل میں یہی کہہ رہا تھا کہ اکثر لوگ زندگی میں یہ بات کبھی نہیں سیکھتے۔
وہ اپنی ساری توانائی اور وسائل اُن چیزوں پر خرچ کر دیتے ہیں جو صرف فوری نظر آتی ہیں، پھر جب اصل اہم مرحلہ آتا ہے تو ان کے پاس کچھ باقی نہیں ہوتا۔
وہ فوری کاموں میں خود کو جلا دیتے ہیں، اور اہم ذمہ داریوں کا مرحلہ آنے سے پہلے ہی تھک جاتے ہیں یا گر جاتے ہیں۔
اس وقت حرم کی طرف چلتے یہ حجاج ایک ایسی حقیقت سمجھتے ہیں جو بہت سے پروفیشنلز اور بزنس اونرز نہیں سمجھتے:
“جب منزل واضح ہو جائے، تو تکلیف غیر اہم ہو جاتی ہے۔"
ہمارا مسئلہ کبھی گرمی نہیں تھا۔کبھی رش نہیں تھا۔ کبھی خرچہ نہیں تھا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی عام زندگی میں کوئی چیز آپ کو اُس شدت سے اپنی طرف نہیں کھینچتی، جس شدت سے کعبہ ان لوگوں کو کھینچ رہا ہے۔
سوچیے…
آپ کس چیز کے لیے 48 ڈگری گرمی میں 10 کلومیٹر پیدل چل سکتے ہیں؟
اگر فوراً کوئی جواب ذہن میں نہیں آیا… تو یہی ہمارا اصل مسئلہ ہے۔
یمین الدین احمد
22 مئی 2026ء
بمطابق 5 ذوالحجہ 1447ھ
مکہ مکرمہ سے انسانی رویّوں، مقصد اور زندگی کے سبق شیئر کرتے ہوئے
copied
کون سا کاروبار 🏪💰 پاکستان میں اس ٹائم ⏰ خوشحال چل رہا ہے 📈
جو دوسرے لوگوں کے لیے بھی 🤝 منافع بخش ہو؟ 💵✨
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
جو مولوی صاحب دوسروں کو 11 ہزار کا تعویذ دے کر کہتے تھے: “بیوی قدموں میں رہے گی!” 😭
آج خود مولوی صاحب کی بیوی تعویذ، عملیات اور دم درود سمیت کسی عاشق کے ساتھ فرار ہوگئی! 😂
اب مولوی صاحب مسجد سے زیادہ تھانے کے چکر لگا رہے ہیں! 🤣
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the practice
Telephone
Address
Raheem Chowk Masoom Shah Road Near Chowk Kumharan
Multan
60000