Tum Mairy Ho
اب تم کہیں بھی نہیں ہو
اب تم کہیں بھی نہیں ہو
نہ اِس دِل کے کچے گھروندے کی چھت پر
نہ آنکھوں کے ٹھہرے ہوئے آئینوں میں
نہ کروٹ بدلتے ہوئے موسموں میں
نہ پاگل ہوا کے کِسی دائرے میں
مگر اب یہاں ہے
فقط ایک سایہ
جو دیوار ِ جاں پر
کٹی انگلیوں سے
کوئی نام لکھ کر
مجھے پُوچھتا ہے
اِسے جانتی ہو !!🙂🖤
کبھی کبھی تیسرا شخص کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہی تیسرا شخص ہوتے ہیں۔۔ اور خود کو زبردستی من چاہی جگہ پر فٹ کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔۔ ہم مان لیتے ہیں کہ یہ جگہ صرف ہماری ہے اور ہم نے ہی اس جگہ ہمیشہ رہنا ہے۔۔ خوش فہمیوں کی پٹی خود ہی اپنی آنکھوں پر باندھ لیتے ہیں۔۔ اور وقت اس وقت ہم ہر ہنستا ہے اور چلتا رہتا ہے ۔۔ وقت کا یہ سفر مختصر بھی ہو سکتا ہے اور طویل بھی لیکن وقت رکتا ہے اور حقیقت کا زور دار تھپڑ لگاتا ہے۔۔ یہ ایسا تھپڑ ہوتا ہے جو جسم پہ نہیں بلکہ دل پر لگتا ہے اور دل کے ساتھ دماغ بھی متاثر ہوتاہے۔۔ جب خوش فہمیوں کی پٹی اترتی ہے تو سوائے پچھتاوے کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔۔ ہم پیچھے نہیں پلٹ سکتے اس لیے اپنا مرجھایا ہوا وجود لیے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں موت آنے تک اور کچھ لوگ یہ برداشت نہیں کر پاتے اور خود کو ختم (خودکشی) کر کے موت سے خود جا ملتے ہیں۔۔🖤🙂
وہ بدلا ہے کب کا، یقیں کیوں نہیں آتا
غمِ دل تجھے اب، سکوں کیوں نہیں آتا
زباں کہتی ہے ہم تو بھولے ہیں ان کو
مگر دل کو اپنے، یقیں کیوں نہیں آتا!
میں جس روز ٹوٹا، اسی روز مر گیا
تو دنیا کو اب یہ، یقیں کیوں نہیں آتا!
بہت رو لیے تم، سنبھل جاؤ انیمؔ!
خود اپنے ہی دل پر، ترس کیوں نہیں آتا🖤🙂
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan