Ali Raza
09/06/2023
عَربوں کو اونٹ کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان کی طبیعت میں سختی کا عنصر بہت پایا جاتا ہے، تُرکوں کو گھوڑے کا گوشت کھانے کی عادت ہے اِسلئیے اُن میں طاقت، جراءت اور اکڑ پن کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے، انگریزوں کو خنزیر کا گوشت کھانے کی عادت ہے اِسلئیے اُن میں فحاشی وغیرہ کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے، حَبشی اَفریقی بندر کھاتے ہیں اِسلئیے اُن میں ناچ گانے کی طرف میلان زیادہ پایا جاتا ہے
اِبنِ القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : جِس کو جِس حیوان کے ساتھ اُنس ہوتا ہے اُس کی طبیعت میں اُس حیوان کی عادتیں غیر شعُوری طور پر شامل ہوجاتی ہیں اور جب وہ اس حیوان کا گوشت کھانے لگ جائے تو اس حیوان کے ساتھ مشابہت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے
ہمارے زمانے میں فارمی مُرغی کھانے کا رِواج بن چکا ہے چُنانچہ ہم بھی مُرغیوں کی طرح صُبح و شام چُوں چُوں تو بُہت کرتے ہیں لیکن ایک ایک کرکے ہمیں ﺫِبح کردیا جاتا ہے، فارمی مُرغی کا گوشت کھانے کی وجہ سے ہم میں سُستی کاہلی کی، ایک جگہ ٹِک کر بیٹھنے کی، سر جُھکا کر چلنے کی اور پستی میں رہنے کی عادتیں پیدا ہوچکی ہیں !
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan