Atta Ullah Ati

Atta Ullah Ati

Share

11/02/2026

میرے والد صاحب مرحوم کے بارے تازہ دو اشعار

Photos from Atta Ullah Ati's post 07/02/2026

بسنت فیسٹیول لاہور لبرٹی چوک

Photos from Atta Ullah Ati's post 20/01/2026

Razia Sultana — ایک عورت جس نے 800 سال پہلے تاریخ کو للکارا

راضیہ سلطانہ 1205 میں پیدا ہوئیں — یعنی آج سے تقریباً 821 سال پہلے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب عورت کا نام صرف گھر کی چار دیواری تک محدود تھا۔
حکمرانی؟
طاقت؟
فیصلہ سازی؟
یہ سب “مردوں کا حق” سمجھا جاتا تھا۔

راضیہ اسی دنیا میں پیدا ہوئیں،
مگر وہ اس دنیا کے لیے بنی ہی نہیں تھیں۔

وہ سلطان التمش کی بیٹی تھیں، جو دہلی سلطنت کے حکمران تھے۔ بچپن سے ہی راضیہ عام شہزادیوں جیسی نہیں تھیں۔ وہ حکمرانی سیکھتی تھیں، دربار کے فیصلے سمجھتی تھیں، ریاست کو دیکھتی تھیں، اور انسانوں کو پڑھتی تھیں۔

ان کے والد نے وہ بات دیکھ لی جو پورے نظام نے نظر انداز کر دی۔

1230 کے آس پاس — یعنی تقریباً 795 سال پہلے — سلطان التمش کو یہ حقیقت ماننی پڑی کہ ان کے بیٹے حکمرانی کے قابل نہیں۔
ایک باپ نے تاریخ توڑنے کا فیصلہ کیا۔
اس نے کہا:
“میری بیٹی راضیہ، میرے بعد حکمران ہو گی”

یہ اعلان 1236 میں ہوا — 790 سال پہلے — اور دہلی کے امیروں پر جیسے بجلی گر گئی۔
ایک عورت؟
سلطان؟

جب سلطان التمش کا انتقال ہوا، تو درباریوں نے ان کی وصیت ماننے سے انکار کر دیا۔ راضیہ کے سوتیلے بھائی کو تخت پر بٹھا دیا گیا۔
مگر چند ہی مہینوں میں ریاست برباد ہونے لگی۔

عوام نے شور مچایا۔
لوگوں نے راضیہ کو یاد کیا۔

اور پھر 1236 میں — 790 سال پہلے — راضیہ سلطانہ تخت پر بیٹھیں۔

31 سال کی عمر میں، 790 سال پہلے، وہ دہلی سلطنت کی پہلی اور آخری خاتون حکمران بنیں۔

وہ پردے کے پیچھے نہیں بیٹھیں۔
وہ دربار میں آئیں۔
وہ گھوڑے پر سوار ہوئیں۔
وہ مردوں کے لباس میں سامنے آئیں۔
انہوں نے خود کو “سلطانہ” نہیں بلکہ “سلطان” کہلوایا۔

یہ سب آج سے تقریباً 800 سال پہلے ہوا۔

انہوں نے کہا:
حکمرانی جنس نہیں، صلاحیت مانگتی ہے۔

انہوں نے عہدے حسبِ قابلیت دیے، حسبِ خاندان نہیں۔
یہ بات عوام کو پسند آئی،
مگر طاقتور امیروں کو نہیں۔

1237 سے 1239 — یعنی 789 سے 787 سال پہلے — سازشیں شروع ہو گئیں۔
بغاوتیں ہوئیں۔
اور راضیہ سلطانہ خود لشکر لے کر میدان میں اتریں۔

سوچیں…
ایک عورت، 800 سال پہلے، جنگ کی قیادت کر رہی تھی۔

1239 (787 سال پہلے) میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
مگر وہ ٹوٹیں نہیں۔
وہ قید سے نکلی۔
انہوں نے دوبارہ تخت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

لیکن تاریخ ہمیشہ بہادروں کے ساتھ انصاف نہیں کرتی۔

1240 میں — 786 سال پہلے — راضیہ سلطانہ شہید کر دی گئیں۔
عمر صرف 35 سال۔

انہوں نے صرف 4 سال حکومت کی —
مگر 800 سال گزرنے کے بعد بھی وہ زندہ ہیں۔

اصل سوال (اور یہی پوسٹ وائرل ہونے کی وجہ ہے):

اگر 800 سال پہلے ایک عورت سلطنت چلا سکتی تھی،
تو آج ہم عورتوں پر شک کیوں کرتے ہیں؟

اگر 1236 میں یہ ممکن تھا،
تو 2026 میں ناممکن کیوں لگتا ہے؟

شاید مسئلہ عورتوں میں نہیں…
مسئلہ ہمارے ذہنوں میں ہے۔

📌 اگر یہ تحریر آپ کے دل کو ہلائے —
📌 اگر آپ کو لگا کہ تاریخ ہمیں کچھ سکھا رہی ہے —
📌 اگر آپ مانتے ہیں کہ صلاحیت کی کوئی جنس نہیں —

تو اسے شیئر کریں۔
کیونکہ کچھ باتیں صرف پڑھی نہیں جاتیں،
آگے پہنچائی جاتی ہیں۔

کاپی ریحان اللہ والا

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Multan