Allama Ali Raza Saabqi
نھج البلاغہ پر تحریر شدہ مقدمہ استفادء عام کے لیے
یہ مقدمہ محترمہ قدسیہ قدسی کے ھندکو زبان میں کلام امیر کے ترجمہ پر تحریر کیا گیا جو جنوری 2024 میں پشاور سے شائع ہوا
نہج البلاغہ مختلف مزاج و طبیعت و صفات کے حامل انسان کے سفرِ شعور کا وہ جادہ ہے جس کا مسافر ہوئے اسے ایک ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور یہ راستہ اس کی چھوڑی ہوئی برپا علم کی کچھ نشانیاں ہیں جس نے کہا کہ میں زمین کے راستوں سے آسمان کے راستوں کو زیادہ جانتا ہوں تاریخ انسانی کے متلاشیانِ جواہرِ علم نے کلام کے امام سے کبھی اقتصادیات و سیاست کشید کی تو کبھی فلسفہ و عرفان کبھی علم الفضاء تو کبھی علم الاحیاء حتی کہ معاجم و مداخلِ علوم نہج البلاغہ اور اس کی کئی فہارس علمیہ تک مرتب کی گئیں ادبی نہج سے دیکھا جائے تو عربی ادب کے سلاطین و فحول اپنی فصاحت و بلاغت کا راز کھولتے ہوئے حفظِ نہج البلاغہ کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ یہ اس کا کلام ہے جو بشری پیکر میں اللہ کا امانت رکھا ہوا راز ہے جو لہجہء کن کا حجاب ہے جہاں
حقیقیت پسند کو یہ گمان ہوتا ہے کہ نہج البلاغہ اخ القرآن ہے وہیں ظاہر پرست یہ اشتباہ پیدا کرنے میں نامراد نظر آتا ہے کہ یہ شریف رضی کا کلام ہے حالانکہ رسول حق نے شریف رضی کے لیے نہیں کہا کہ شریف رضی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن اس کے ساتھ
جیسے نزول قرآن نے بجائے خود کئی علوم کو جنم دیا ہے ایسے ہی نہج البلاغہ کے منصہء شہود پر آنے سے اس سے جڑے کئی علوم وجود میں آئے اور اس کا دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا
بعض مترجمین نے منظوم تراجم کیے تو بعض نے مختصر شرح کے ساتھ تراجم کیے بعض نے مکمل تراجم کیے تو بعض نے جزوی البتہ اس کے تراجم کتنی زبانوں میں ہوئے اس کا احاطہ کرنا کاری دارد، ہاں جن زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے ان کو صرف شمار کیا جائے تو ان میں قابل ذکر فارسی، انگریزی، فرانسیسی، اسبانی، رومانی، روسی، اردو، ترکی، المانی، ایطالی، ازبک، ڈچ، کردی، بلغاری، گجراتی، سندھی، بنگالی، وُلُفیہ (سینیگال کی زبان)، صربوکراویتیہ ھرسنک (بوسنیا کی زبان)، قلطیہ (یورپین ھندی)، کیلکیہ (شمالی ایران کے اھل جیلان کی زبان)، بشناق (جنوبی یوگوسلاویہ کی زبان) ہیں ماضی قریب میں اس کا ترجمہ چینی زبان میں پروفیسر محمود تشانغ نے پکنگ یونیورسٹی Peking University Beijing میں پیش کیا اور جاپانی زبان میں اس کا ترجمہ ایران کے مؤسسہ نہج البلاغہ میں جاپان کے سفیر کو پیش کیا گیا ان تراجم کے مترجمین اور ان کی دیگر تفصیلات کو شامل کیا جائے تو ایک الگ تحقیقی مقالہ درکار ہو گا
موجودہ ترجمہ ھندکو زبان میں اس سلسہء تراجم میں ایک قابل تحسین اضافہ ہے زبان تہذیب کا باب ہوتی ہے اور ایک مہذب تہذیب ارتقاء کے لیے نئے آفاق کی متلاشی رہتی ہے محترمہ قدسیہ قدسی ھندکو زبان میں ترجمہ کے اس ایک ہی کام سے ان دونوں جہتوں کا یعنی ھندکو زبان کو معانی کے نئے آفاق فراہم کرنے اور سلسلہء تراجمِ نہج البلاغہ میں ایک اور زبان میں ترجمہ کا اضافہ کرنے کے دونوں کاموں کا بیک وقت احاطہ کرنے پر مبار باد کی مستحق ہیں آپ کا ہر علمی و ادبی کام اپنی جگہ ایک علمی شیرازہ کشائی محسوس ہوتا ہے جیسا کہ پختون خواہ کی پہلی سفر نامہ نگار خاتون ہونا اور پختون خواہ کی پہلی فارسی رباعی گو شاعرہ ہونا، یقینا کسی صنف میں کیے گئے پہلے کام ادبی شیرازہ کشائی کا سبب بنتے ہیں افسانہ نگاری سفر نامہ نویسی و شاعری کی اہمیت اپنی جگہ قدسیہ قدسی کا نہج البلاغہ کے ترجمہ کا یہ کام تاریخ علم و عرفان میں ہمیشہ باقی رہے گا دعاء ہے کہ باب علم ان کی توفیقات علمیہ میں اضافہ فرمائے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan