A.Dansari Studio

A.Dansari Studio

Share

15/08/2025

میرے نویں جماعت کے پرچے شروع ہوگئے ہیں۔ آج پچیس مارچ دو ہزار پچیس کو پہلا پرچہ انگریزی کا تھا۔
تیاری تو نہیں کی تھی لیکن حاضری تو دینا تھی سو میں بھی سینٹر پہنچ گیا۔
کل رات میں سوچ رہا تھا کہ دسویں جماعت کے طلبہ تو میرے ہم عمر یا مجھ سے بڑے تھے لیکن نویں جماعت کے طلبہ تو ہو سکتا ہے چھوٹے چھوٹے ہوں۔
لیکن سینٹر پہنچتے ہی یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ میں ساڑھے آٹھ بجے گھر سے نکلا تھا تاکہ وہاں جا کر کھڑا نہ ہونا پڑے۔ تقریباً آٹھ بجکر کر چالیس منٹ پر سینٹر پہنچ گیا۔ نوٹس بورڈ کے سامنے گنتی کے پانچ سات لڑکے کھڑے تھے باقی سبھی ہال، کمروں اور گیلری میں بیٹھے تھے۔
نویں کے طلبہ بہت زیادہ ہیں تبھی ایک اور کمرہ کھولنا پڑا تھا اور گیلری میں بھی پہلے مشکل سے دس طلبہ ہوتے تھے اور آج دگنا تھے۔
میرے دائیں جانب اور آگے پیچھے سبھی لحیم شحیم لڑکے بیٹھے تھے جن کو دیکھ کر لگتا تھا یونیورسٹی میں پڑھنے والے ہیں لیکن پرچہ نویں جماعت کا دینے آئے ہوئے تھے۔
میں بہت حیران تھا۔ سوچتا تھا کہ میں نے بہت دیر کر دی ہے، پڑھنا مشکل ہے لیکن اب سوچ بدلنے لگی ہے۔ انسان جب تک باہر کی دنیا میں نہیں نکلتا وہ بغیر دیکھے اپنے دماغ میں پتا نہیں کیا کچھ چیزیں بنا لیتا ہے جو اکثر اوقات ہوائی محل ثابت ہوتی ہیں، حقیقت دیکھتے ہی جھٹ سے غائب۔۔۔
دو دن پہلے میری اپنی غلطی سے عینک کا فریم ٹوٹ گیا اور ایک شیشہ باہر نکل آیا۔ اس کو جیسے تیسے ایڈجسٹ کرکے کام چلاتا رہا لیکن اب پرچے دینے ٹوٹی ہوئی عینک کے ساتھ تو نہیں جا سکتا تھا۔ بازار جانے کا وقت نہیں مل رہا ورنہ فریم تبدیل کروا لیتا۔ پھر خیال آیا کہ ایک دن کے لیے لینز لگا لیتا ہوں جو لاہور جانے سے پہلے خریدے تھے۔ وہ ڈارک براؤن رنگ کے ہیں تو مجھے عجیب لگتے ہیں۔ اب مجبوری تھی تو ڈبیا نکال لی مگر جب ایک طرف کا ڈھکن کھولا تو وہ والا لینز چرا مرا سا سخت ہوا پڑا تھا۔ میرا تو اس کو دیکھ کر تراہ ہی نکل گیا۔ ایک نئی مصیبت۔۔۔
میں لاہور سے واپس آ کر لینز تبدیل کروانے گیا تھا لیکن انھوں نے کہا یہ اب بدلے نہیں جا سکتے سو آپ یہی استعمال کریں یا پھر ٹرانس پیرنٹ لے لیجیے وہ ان سے مہنگے ہیں۔ دکان دار نے تب ایک لینز کا ڈھکن کھولا تھا اور جھٹکے کی وجہ سے اس کا پانی نیچے گر گیا تھا۔ مجھے گھر آ کر خیال نہیں رہا کہ اس میں پانی ڈال دوں ورنہ یہ خراب ہو جائے گا۔
ٹرانس پیرنٹ لینز اس وجہ سے نہیں خریدے تھے کہ پچھلی بار کا تجربہ یاد تھا جب ایک لینز ٹوٹ گیا تھا اور ایک کھو گیا تھا۔
نظر تو مشکل سے آتے ہیں تو لینے کا فائدہ۔۔۔؟
مگر اب سوچتا ہوں یہ کلر فل بھی نہیں لینے چاہییں تھے۔ صاف پتا چل جاتا ہے لینز لگے ہوئے ہیں۔ لاہور بھی لوگ فوراً پوچھتے تھے کہ لینز لگائے ہوئے ہیں؟
خیر قصہ مختصر۔۔۔
میں نے خشک لینز پر ساتھ دیا ہوا پانی ڈالا اور ڈبیا بند کرکے رکھ دی اور دعا کرنے لگا کہ اللہ کرے یہ ٹھیک ہو جائے۔
پانچ منٹ بعد دیکھا تو لینز سابقہ حالت میں لوٹ چکا ہوں۔ میں نے دونوں لینز لگا لیے۔ آنکھوں سے پانی بہنے لگا اور چبھن بھی محسوس ہوتی رہی۔ بہت عرصے بعد استعمال کر رہا تھا شاید تبھی۔۔۔
واپس امتحانی سینٹر میں آتے ہیں۔
میں نے لسٹ میں دیکھا، رول نمبر موجود ہے اور گیلری میں بیٹھنا تھا۔ جب وہاں آیا تو کرسیوں پر نمبر ہی نہیں لکھے ہوئے تھے۔ کچھ لڑکے جان بوجھ کر مٹا دیتے تھے تاکہ وہ خود ان پر بیٹھ سکیں اپنے دوستوں کے قریب ہو کر۔(نقل کرنے کے لیے)
مجھے ایک پرانا لڑکا نظر آیا جو اشارہ کر رہا تھا کہ اس کرسی پر بیٹھ جاؤ جو اس سے آگے تھے۔
میں وہاں بیٹھ گیا۔ سپرنٹینڈنٹ اور نائب سپرنٹینڈنٹ کچھ لڑکوں کے ساتھ بحث و مباحثہ کر رہے تھے جن کے رول نمبر لسٹ میں موجود نہیں تھے۔ کچھ لڑکے جو دیر سے آ رہے تھے ان کو بھی سپرنٹینڈنٹ رول نمبر چیک کرکے متعلقہ جگہوں پر بٹھا رہے تھے کیوں کہ پرچے کا وقت ہو گیا تھا۔
ایک نگران نیا تھا باقی سبھی پرانے تھے۔ جوابی کاپی ملی تو میں نے پہلی غلطی کر دی۔ فادر نیم کو رول نمبر والی جگہ لکھ دیا۔
لکھتے ہوئے میرا ہاتھ قابو میں نہیں رہتا۔ بہت تیز اور سوچے سمجھے بغیر لکھتا جاتا ہوں اور بعد میں پتا چلتا ہے کہ میں نے غلط لکھ دیا ہے۔
نگران کو دکھایا تو اس نے کہا کوئی بات نہیں،اس کو کاٹ کر یہاں رول نمبر لکھ دیں۔
دوسری غلطی تب کی جب حاضری والی لسٹ مجھے آگے والے لڑکے نے تھمائی۔ سب کچھ لکھنے کے بعد دیکھا تو اس خانے میں کسی اور کا نام لکھا ہوا تھا۔ میں نے اپنا سر پیٹ لیا کہ اندھے ہو کیا؟ بندہ ایک بار دیکھ ہی لیتا ہے۔
میں اس خیال میں تھا کہ پہلے ہر مرتبہ میرا نام ہی ہوتا تھا لیکن اب میرے پیچھے والے لڑکے کا نام پہلے اور میرا اس کے بعد تھا۔
میں نے پھر نگران کو بلا لیا۔ اس نے بھی یہی کہا کہ ایک بار دیکھ لیا کریں آپ تو ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں۔
یہ مسئلہ مشکل سے حل ہوا اور میں پرچہ لکھنے لگا۔ جتنا مجھے سمجھ آیا لکھتا رہا۔ پھر میرا بال پوائنٹ ختم ہوگیا اور پین میں بھی سیاہی ختم تھی۔
پھر سے نگران کو اشارہ کیا کیوں کہ اس نے کہا ہوا تھا کوئی بھی کام ہو صرف مجھے بتانا ہے۔
نگران نے مجھے کسی اور لڑکے سے سیاہی لگا دی اور میں نے پین میں بھر کر باقی کا کام مکمل کیا۔
بال پوائنٹ سے لکھنا زیادہ آسان ہے۔ پہلے مجھے لگتا تھا صرف سیاہی والے پین سے پرچہ حل کرنا ہوتا ہے مگر میرے گرد بیٹھے کچھ طلبہ بال پوائنٹ سے لکھتے نظر آئے تو تیسرے چوتھے پرچے سے میں نے بھی بال پوائنٹ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ پرچہ تو جلدی لکھا جاتا ہے مگر تیزی سے لکھتے ہوئے غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں۔
پرچہ دے کر جب میں پارکنگ میں آیا تو وہاں کھڑے ایک لڑکے نے مجھ سے پرچہ مانگ کر اس کی تصویر بنائی اور سوال جواب کرنے لگا کہ پرچہ کیسا ہوا۔ میں نے کہا بہت اچھا۔۔۔
واپسی پر باربر کے پاس گیا اور سر کا بوجھ ہلکا کیا۔ گھر آ کر دو سوٹ سلائی کیے۔ اگلے پرچے کی تیاری کرنے کا سوچ رہا تھا کہ امی نے کہا پکوڑے اور چپس بنا دوں۔ تو یہ سب چیزیں بناتے ہوئے اندھیرا چھا گیا اور میری کتابیں چھت پر ہی رکھی رہیں۔
اب لیپ ٹاپ پر کچھ کمپوزنگ کا کام کرتے وقت یاد آیا کہ روداد تو لکھی نہیں، اس سے پہلے بھول جاؤں اس کو لکھ لیتا ہوں۔
دو دن کی چھٹی ہے۔ سلائی کا کام کرنا ہے اور پھر ترجمتہ القرآن کے پرچے کی تیاری۔۔۔ مارکیٹ بھی جانا ہے اور ستر مزید کام۔۔۔ افففف!

#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام

14/08/2025

پیارے دوستو!
دسویں جماعت کے پرچوں کی روداد ختم ہوئی۔
آپ نے اس سلسلے کو بہت پسند کیا اس کے لیے سپاس گزار ہوں۔
کل سے ہم نویں جماعت کے پرچوں کی روداد اپنے صفحہ پر شئیر کرنا شروع کریں گے۔
سلامت باشد

#رودادایگزام

13/08/2025

آج 21 مارچ ہے۔ جمعہ المبارک کے دن میرا دسویں جماعت کا آخری پرچہ تھا یعنی مطالعہ پاکستان کا۔
پانچ مارچ سے شروع ہوئی یہ journey آخر کار ختم ہوئی لیکن ہر اختتام کی ایک نئی شروعات بھی تو ہوتی ہے نا؟
دسویں کے بعد اب مجھے نویں جماعت کے پرچے دینے ہیں اور پچیس مارچ کو پہلا پرچہ انگریزی کا ہوگا۔
مطالعہ پاکستان کی کتاب کے اگرچہ چار ابواب تھے لیکن بات وہی کہ کتاب پڑھی ہی نہیں تھی۔ کل چھٹی کا دن تھا لیکن میں صبح سے دوپہر تک مسلسل کپڑے سلائی کرتا رہا۔ ایک سوٹ کی نلکی لانا بھول گیا تھا ورنہ سہ پہر تک وہ بھی سِل جاتا اور یہ والا پرانا کام انجام کو پہنچتا۔
دو ڈھائی بجے ماڈل پیپر اٹھایا اور معروضی یاد کرنے لگا۔ چوں کہ بہت تھک گیا تو لہٰذا آنکھیں بند ہونے لگیں اور پتا ہی نہیں چلا کب سو گیا۔ جب اٹھا تو عصر کی اذانیں ہو رہی تھیں۔ عصر کے بعد چھت پر گیا اور مغرب تک پرچے کی تیاری کرتا رہا۔ افطاری کے بعد بھی کچھ دیر ورق گردانی کی۔
جس صبح پرچہ ہوتا ہے اس رات مجھے ڈھنگ سے نیند ہی نہیں آتی جبکہ جس دن چھٹی ہو تب بہت اچھی نیند آتی ہے۔
میرا دماغ ویسے بھی چوبیس گھنٹے جاگتا ہی رہتا ہے تبھی بے خوابی کا مرض بھی چمٹ گیا۔ نیند ایسی ہوتی ہے جیسے میں جاگ رہا ہوں۔ دماغ میں مختلف خیالات گردش کرتے رہتے ہیں اور یوں نیند کے بعد بھی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔
خیر! آج میں آٹھ بجکر پینتیس منٹ پر گھر سے نکلا تھا اور جب سینٹر پہنچا تو لڑکے اپنی اپنی جگہیں سنبھال چکے تھے اور کچھ لسٹ کے سامنے کھڑے تھے۔ آج میرا رول نمبر موجود تھا اور نشست ہال میں تھی۔ جب میں ہال میں پہنچا تو ایک نگران لڑکوں کو جوابی کاپی بانٹ رہا تھا۔
میں فوراً اپنی نشست پر آگیا۔ جوابی کاپی کے قریباً دس پندرہ منٹ بعد معروضی کا پرچہ دیا گیا۔ اس وقت تک میں اطمینان سے جوابی کاپی پر ضروری کوائف درج کر چکا تھا۔
معروضی میں دس سوالات ہی تھے۔ آخری والے کے بارے میں، میں زیادہ sure نہیں تھا لیکن باقی سبھی کے جواب مجھے معلوم تھے سو فٹافٹ ببل شیٹ فِل کر دی۔
میں نے پچھلے پرچوں کے نمبروں پر زیادہ غور نہیں کیا تھا۔ آج مطالعہ پاکستان کا پرچہ دیکھا تو صرف پچاس نمبر کا تھا۔ چالیس نمبر انشائیہ اور دس نمبر معروضی کے۔
اتنے کم نمبر کیوں ہیں یہ نہیں جانتا۔
انشائیہ میں تین پارٹ تھے۔ پہلے دو سے چھ چھ مختصر سوالات حل کرنے تھے۔
آخری تین سوالات تفصیلی تھے جن میں سے دو کے جوابات لازمی تھے۔ میں نے پورا پرچہ حل کر لیا تھا کیوں کہ زیادہ تر سوالات بہت آسان تھے۔
ابھی چالیس منٹ باقی تھے جب میں نے جوابی کاپی پر حتمی نظر ڈالی اور نگران کو سونپ کر ہال سے باہر آگیا۔ گیلری بھری ہوئی تھی اور طلبہ ایک دوسرے کو دیکھنے میں مصروف تھے۔
مالی بھی وہیں بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھ کر پوچھا کہ پرچہ کیسا ہوا؟
میں نے کہا بہت اچھا۔
بولا کہ ہاں حلوہ سمجھ کر کھا گئے ہوگے۔ اب ڈکار لے لو۔
طلبہ کھی کھی کرنے لگے اور میں بھی مسکراتا ہوا پارکنگ کی طرف چل دیا۔

#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام

11/08/2025

آج بروز منگل 18 مارچ کو میرا مبادیات تعلیم( ایجوکیشن) کا پرچہ بھی ہو گیا ہے۔ ابھی سینٹر سے واپس گھر آیا ہوں اور اگلے پرچے کی تیاری شروع کر دی ہے جو اُردو کا ہوگا۔
اردو کا پرچہ آسان تو نہیں ہو سکتا کیوں کہ رائیٹر ہونے کے باوجود مجھے اردو کی گرامر کی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ اب ماڈل پیپر میں جب گرامر کے سوالات دیکھے تو پریشانی بڑھ گئی۔
ایجوکیشن کے پرچے کی تیاری میں نے کل شام شروع کی تھی۔ چار ابواب تھے جن میں مختلف موضوعات پر مضامین تھے۔ یہ کتاب تو آسان ہے لیکن لکھنے کا کام بہت زیادہ تھا۔ سوکس یعنی شہریت کے پرچے میں بھی ایسا ہی معاملہ تھا۔ سمجھیے آدھی کتاب پرچے میں لکھنا پڑتی ہے۔
جب آس پاس شور شرابا ہو تو میری توجہ اسباق پر مرکوز نہیں ہو پاتی۔ اگر پڑھوں بھی تو لمحوں بعد دماغ سے سب مٹ چکا ہوتا ہے اور میں پھر پیچھے کا صفحہ پلٹتا ہوں کہ پڑھا کیا تھا؟
پرچوں کی تیاری اور مطالعہ کے لیے پُرسکون ماحول ہونا بنیادی شرط ہے۔
جن حالات سے نبرد آزما ہو کر میں دسویں جماعت کے پرچے دے رہا ہوں یہ مجھے ہی پتا ہے۔
لوگ زبردستی سوٹ سلائی کے لیے دے رہے ہیں اور گھر والے یوں سفارشیں کرتے ہیں جیسے کام انھوں نے خود کرنا ہو۔ کٹنگ سے بٹن ٹانکنے تک ایک ایک کام مجھے اکیلے کرنا پڑتا ہے جبکہ لوگ بس زبان ہلا دیتے ہیں کہ کوئی مشکل کام نہیں، مشین پر بیٹھو اور گھنٹے بھر میں سوٹ تیار ۔۔۔ مگر جس تن لاگے وہی جانے۔

آج میں نے سوچا کہ امتحانی مرکز میں پانچ دس منٹ ویسے بھی کھڑے رہنا پڑتا ہے تو گھر سے ہی ساڑھے آٹھ بجے نکلوں تاکہ جب پونے نو بجے لسٹ لگے اس وقت تک سینٹر پہنچ جاؤں۔
صبح سویرے اٹھ کر "ایجوکیشن" کی کتاب پڑھی اور کچھ چیزیں ذہن نشین کر لیں۔
مقررہ وقت پر گھر سے نکل آیا اور آہستہ آہستہ سفر کرتا سینٹر پہنچ گیا۔ مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوا تو ماحول ویران سا نظر آیا۔ سکیورٹی گارڈ نے پوچھا آپ کیوں آئے ہیں؟
میں نے کہا میرا دسویں جماعت کا پرچہ ہے مگر یہاں تو کوئی نظر نہیں آ رہا۔
اس نے کہا اچھا ٹھیک ہے آپ آگے چلے جائیں۔
میں نے سوچا کہ آج پھر مجھے اکیلے ہال میں بیٹھنا پڑے گا۔ دوسرا خیال یہ بھی آیا کہ ہو سکتا ہے مجھے دن اور تاریخ بھول گئی ہو؟ جب رول نمبر سلپ دیکھی تو آج ہی کا دن اور تاریخ لکھی ہوئی تھی۔ خیر موٹر سائیکل آگے بڑھائی اور سینٹر کے قریب پہنچ گیا۔
پارکنگ کی جگہ پر مجھے وہی طالب علم نظر آگیا جو میرے پیچھے بیٹھتا ہے۔ اس کا رول نمبر مجھ سے پیچھے والا ہے اور ہم دونوں ہیں بھی آرٹس والے۔
اس نے مجھے دیکھا تو حیران ہوا کہ کیا آپ کا بھی آج پرچہ ہے؟مجھے تو لگا کہ آپ کا نہیں ہوگا۔
میں نے اس کو سلپ دکھائی اور بتایا کہ آج ایجوکیشن کا پرچہ ہے مگر یہاں تو کوئی نہیں آیا ہوا۔
ہم پارکنگ کی جگہ سے ہال کی طرف چل دیے۔ مجھ سے ایک سکول کے ملازم نے پوچھا کہ آپ کا آج پرچہ ہے؟
میں نے سر ہلا دیا۔
اس نے کہا کہ آپ امتحانی ہال کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ جائیں آپ کے سپرنٹینڈنٹ پرچہ لینے گئے ہوئے ہیں ابھی واپس آ جائیں گے۔
ہم دونوں ہال میں بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے۔ نو بجے وہی سپرنٹینڈنٹ پہنچ گئے جو سوکس کے پرچے کے دوران میرے ساتھ بینک سے سینٹر پرچہ اٹھا کر لائے تھے۔
انھوں نے لکھنے پڑھنے کا سامان ایک کمرے سے نکالا پھر مجھ سے پرچے والے پارسل پر دستخط لیے اور جوابی کاپیز تقسیم کر دیں۔
ہم دونوں نے اس کو اطمینان سے پُر کیا۔ پھر سر نے معروضی کا پرچہ دے دیا اور کہا بیس منٹ کا وقت ہے۔
وہ اپنے کام کرتے رہے اور میں نے جوابی کاپی پر ضروری معلومات درج کرنے کے بعد معروضی کے نشانات بھی بھر دیے۔
پھر انشائیہ کا پرچہ مل گیا اور ہماری حاضری بھی لے لی گئی۔ آج ایک ہی بندہ ہم پر نگرانی کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد مالی بھی آ کر بیٹھ گیا اور بولا کیا کسی کے پاس کتاب بھی ہے؟ اگر ہے تو خوب نقل کرو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
میں نے کہا پرچہ اتنا آسان ہے کہ نقل کی ضرورت ہی نہیں اور نہ ہی ہم نقل والے طلبہ ہیں۔
میں نے اوپر والے تین پورشنز سے چھ چھ سوالات پر نشانات لگا لیے جو مجھے کرنے تھے۔ آخری پورشن میں سے صرف تین کے جوابات دینے تھے اور ٹوٹل شاید پانچ سوالات تھے۔
اس کے بعد میں لکھنے میں محو ہوگیا اور جب گردن میں درد ہونے لگا اور وقت دیکھا تو پونے گیارہ ہو چکے تھے۔
سر نے کہا تھا کہ یہ پرچے واپس بینک بھی جمع کروانے ہیں لہٰذا آپ میں سے جس کے پاس بائیک ہے وہ میرے ساتھ چلے گا۔
پیچھے والے لڑکے نے مجھے کہا کہ آپ گھر چلے جانا میں سر کو بینک لے جاؤں گا۔
میں نے کہا ٹھیک ہے۔
جوابی کاپی سر کو دی تو اچانک وہ چونکے اور کہا:"اوہو۔ میں نے اس پر دستخط کیے ہی نہیں، بیٹا یہ بہت ضروری ہیں ورنہ بورڈ والے آپ کی کاپی جمع نہیں کریں گے۔ آئندہ مجھے یاد کروا دینا۔“
انھوں نے دوسرے طالب علم کو بھی بلا لیا کہ پہلے دستخط کروا لو پھر باقی کا لکھ لینا۔
میں نے انھیں خدا حافظ کہا اور ہال سے نکل آیا۔
گھر میں پھیلاوا مزید بڑھ چکا ہے اور اب اس حصے کی باری ہے جہاں میری سلائی مشین رکھی ہوئی۔ مشین کو ڈھانپ کر اب اُردو کے پرچے کی تیاری کر رہا ہوں۔ آج سلائی کا کام نہیں ہو سکے گا۔ جب کہ ایک ہمسائی آنٹی بہت اصرار کے بعد اپنے میاں کا ایک سوٹ دے گئی ہیں اور میں اس تفکر میں ہوں کہ یہ سارا کام کیسے نبٹا سکوں گا؟

#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام

09/08/2025

آج جمعہ المبارک کا دن ہے۔ تاریخ ہے 14 مارچ دو ہزار پچیس۔۔۔
آج میرا پانچواں پرچہ جنرل سائنس کا تھا۔ صبح سویرے اٹھ کر پہلے اپنے کپڑے استری کیے پھر نہا کر ماڈل پیپر پر ایک نظر دوڑائی۔
جنرل سائنس کا مضمون مجھے بہت مشکل لگا تھا۔ کل شام میں نے معروضی اور پہلے باب کے مشقی سوالات و جوابات ایک بار پڑھے تھے پھر میرا دل اکتا گیا کہ یہ تو نا سمجھ میں آنے والے مضامین ہیں۔
نویں جماعت کی کتاب میں بائیو اور کیمسٹری کے مضامین ہیں اور دسویں والی کتاب میں فزکس ہے۔۔۔
میں نے سوچا کہ جو چیز معلوم ہوئی لکھ آؤں گا کم از کم رعایتی نمبر تو مل ہی جائیں گے۔
میری سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ ایک تو رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہے اس کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں۔ دوسری وجہ عید کے لیے کپڑے سلائی کرنے کی فکر اور پھر اپنے امتحانات کی ٹینشن۔۔۔
رات کو بیٹھ کر پڑھتا ہوں اور صبح پرچہ دیتا ہوں۔ یہ حال ہے۔۔۔
لیکن۔۔۔ لیکن۔۔۔ لیکن!
میں اس بات پر خوش بھی ہوں کہ ریگولر طلبا کی نسبت میرے پرچے اچھے جا رہے ہیں۔ اگر سنجیدگی سے تیاری کرتا تو یقیناً بہت اچھے نمبر حاصل کر سکتا۔
چوں کہ مجھے آج پانچواں دن تھا تو امتحانی مرکز میں چند طلبہ کے چہرے شناسا ہو گئے تھے اور وہ لڑکے بھی مجھے جاننے لگے۔ کل میرا سوکس کا پرچہ دوپہر کے وقت تھا اور میں نے اکیلے بیٹھ کر حل کیا تھا تبھی آج صبح جب سینٹر پہنچا تو چند لڑکوں نے پوچھا کہ کل آپ کیوں نہیں آئے تھے؟
میں نے کہا میں تو آیا تھا لیکن تم سب نہیں تھے۔ 😃
کئی ایک طلبا سے بات چیت ہوئی۔ انھوں نے جب یہ سنا کہ کل میں اکیلا ہال میں بیٹھا تھا تو وہ میری رول نمبر سلپ باری باری دیکھنے لگے۔ اکثر نے یہی سوال کیا کہ اٹھارہ پرچے کیسے دے سکو گے وہ بھی تیاری کے بغیر؟
میں نے کہا کہ تازہ تازہ یاد کرکے پرچہ دے دیتا ہوں اب آگے کے معاملات میں اللہ خیر کرے گا۔
جب بورڈ پر لسٹ لگی تو میں نے اپنا رول نمبر تلاش کرنا چاہا مگر وہ تو تھا ہی نہیں۔
اب میں کچھ فکر مند ہوا پھر سوچا ہو سکتا ہے آرٹس والا میں واحد ہی ہوں تبھی یہاں میرا رول نمبر نہیں ہے۔
میں مرکزی ہال میں گیا اور سپرنٹینڈنٹ صاحب سے کہا میرا نمبر نہیں لکھا ہوا۔ پہلے سپرنٹینڈنٹ پھر نائب سپرنٹینڈنٹ نے لسٹ میں تلاش کیا مگر ہوتا تو ملتا۔۔۔
سر نے کہا کہ آپ گیلری میں ہی بیٹھ جائیں اور بالکل پریشان نہ ہوں، آپ کا مسئلہ ابھی حل کرتے ہیں۔
میں گیلری میں آگیا۔ وہاں شاید کیمسٹری والے طلبا بیٹھے تھے۔
آج جو نگران تھے انھوں نے کہا آپ کی کرسی پر تو رول نمبر ہی نہیں ہے تو پھر آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟
میں نے کہا سپرنٹینڈنٹ صاحب نے بٹھایا ہے۔
وہ سر ہلا کر چلا گیا۔
چند منٹ بعد نائب سپرنٹینڈنٹ صاحب نے مجھے جوابی کاپی دی پھر کچھ دیر بعد دونوں پرچے ایک ساتھ دے دیے۔ کچھ دیر بعد انھوں نے میری حاضری بھی لگوا لی۔
آرٹس والا ایک اور طالب علم بھی آگیا تھا۔ ہم دونوں سب سے آخر میں بیٹھے اپنے اپنے پرچے حل کرنے لگے۔
معروضی کے قریباً سبھی جوابات مجھے آتے تھے سو سب سے پہلے ببل شیٹ بھری۔
انشائیہ میں بھی زیادہ تر سوالات مانوس سے تھے اور جو ابواب میں نے نہیں پڑھے تھے کچھ سوالات ان کے اندر سے آئے تھے۔
میں نے پورے اطمینان سے اپنا پرچہ حل کیا اور جو سوالات مشکل لگے ان کو چھوڑ دیا۔
الحمدللہ مجھے امید ہے چالیس پچاس نمبر مل ہی جائیں گے۔
پرچے اچھے ہونے کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں افطاری کے وقت گھر والوں کو کچھ نہ کچھ بنا کر دیتا ہوں کیوں کہ وہ کہتے ہیں تمھارے پرچے بہت اچھے ہوں گے۔ فکر نہ کرو اور افطاری میں ہمیں کوئی چیز بنا دیا کرو۔ 🫢
آج بھی گھر واپس آتے ہی کپڑوں کی کٹنگ شروع کر دی۔ پھر جمعہ پڑھا اور اب یہ تحریر لکھنے کے بعد دوبارہ دو سوٹ کاٹنے ہیں۔ تھکن بہت ہے مگر کام تو کرنے ہی ہیں۔
اگلے پرچے کے درمیان دو دن کا وقفہ ہے اور پھر جنرل ریاضی کا پرچہ ہوگا۔ میری کوشش ہوگی ان دو دنوں میں سلائی والا کام جتنا ہو سکا کر لوں تاکہ میرے کندھوں سے یہ بوجھ تو کس قدر کم ہو جائے۔
تیرہ روزے ہو چکے ہیں اب عید میں دو ہفتے ہی رہ گئے اور میرے کام بہت زیادہ ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Multan