HUA Academy
06/04/2025
بل گیٹس کی ہائی اسکول کے طلبہ کے لیے نصیحت آموز باتیں
کون سا اصول آپ کو سب سے زیادہ پسند آیا؟ اور آپ طلبہ کو کیا نصیحت کریں گے؟
1. زندگی منصفانہ نہیں ہوتی – اس کی عادت ڈال لو
یہ حقیقت قبول کر لو کہ دنیا میں ہر چیز تمہاری مرضی کے مطابق نہیں ہوگی۔ شکایت کرنے کے بجائے، اپنی صلاحیتوں پر کام کرو اور آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔
2. خود اعتمادی تمہیں خود بنانی پڑے گی
دنیا کو تمہاری خود اعتمادی سے کوئی سروکار نہیں۔ کوئی تمہیں اعتماد دے کر نہیں جائے گا، یہ تمہیں خود پیدا کرنا ہوگا۔ یاد رکھو، دنیا تم سے ہر کام بہترین انداز میں کرنے کی توقع رکھے گی، چاہے تمہیں خود پر یقین ہو یا نہ ہو۔
3. کامیابی وقت لیتی ہے
ہائی اسکول ختم کرتے ہی لاکھوں نہیں کماؤ گے۔ ہر بڑی کامیابی کے پیچھے وقت، محنت اور صبر کی کہانی ہوتی ہے۔
4. تمہارے استاد سخت لگتے ہیں؟ انتظار کرو، باس کیا ہوتا ہے!
اگر تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے ٹیچر سخت ہیں، تو جاب کی دنیا میں قدم رکھ کر دیکھو۔ باس ہمیشہ باس ہی رہے گا، اور وہاں شکایتیں سننے والا کوئی نہیں ہوگا۔
5. کوئی کام چھوٹا نہیں ہوتا
اگر گزارہ کرنے کے لیے برگر بھی تلنے پڑیں، تو شرم کی کوئی بات نہیں۔ ہمارے بزرگ اسے محنت سے پیسہ کمانے کا موقع سمجھتے تھے۔ دنیا کے خیالات کی پرواہ کیے بغیر اپنے کام پر فوکس کرو۔
6. اپنی ناکامی کے ذمہ دار خود ہو
ناکامی کی ذمہ داری دوسروں پر مت ڈالو، خاص طور پر اپنے والدین پر نہیں۔ اپنی غلطیوں سے سیکھو، انہیں قبول کرو، اور بہتر بننے کی کوشش کرو۔
7. اپنے والدین کی قدر کرو
اگر تمہیں اپنے والدین بورنگ لگتے ہیں، تو سوچو کہ وہ تمہارے آنے سے پہلے کتنے مزے کی زندگی گزار رہے تھے۔ تمہاری ضروریات پوری کرتے کرتے انہوں نے اپنی خوشیوں کو پیچھے چھوڑ دیا، اس لیے ان کی عزت کرو اور ان کا شکریہ ادا کرو۔
8. حقیقی زندگی میں غلطیاں دہرانے کا موقع کم ملتا ہے
اسکول میں تمہیں ایک ہی سوال کا کئی بار جواب دینے کی آزادی مل سکتی ہے، لیکن حقیقی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ زندگی میں زیادہ تر مواقع صرف ایک بار آتے ہیں، اس لیے ہر فیصلے کو سنجیدگی سے لو۔
9. حقیقی زندگی میں چھٹی کا کوئی تصور نہیں
زندگی میں سیمیسٹر بریک نہیں آتے۔ تمہیں خود ہی اپنی تفریح اور مشاغل کے لیے وقت نکالنا ہوگا، تمہارے باس کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوگی۔
10. ٹی وی اور ویڈیو گیمز حقیقت سے بہت دور ہیں
جو کچھ تم فلموں یا گیمز میں دیکھتے ہو، وہ حقیقی زندگی کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اصل زندگی میں تمہیں آرام دہ کافی شاپ سے اٹھنا پڑے گا اور سخت محنت کرنی پڑے گی۔
11. ذہین لوگوں سے اچھا سلوک کرو
اگر تم کسی "بےوقوف" (Nerd) کو نظرانداز کر رہے ہو، تو یاد رکھو، مستقبل میں ہو سکتا ہے تمہیں انہی کے آفس میں نوکری کرنی پڑے! اس لیے دوسروں کی عزت کرو، کیونکہ کامیابی کا دار و مدار ذہانت اور محنت پر ہوتا ہے۔ منقول
05/02/2025
جاپانی ڈاکٹر کی حیرت انگیز تحقیق:
معدے کے تیزابیت کا سبب صرف بے ترتیب خوراک نہیں بلکہ بے چینی معدے کے تیزابیت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
بلڈ پریشر کے بڑھنے کی وجہ خوراک میں نمک کی زیادتی نہیں بلکہ جذبات پر قابو نہ پانا بلڈ پریشر کے بڑھنے کی اصل وجہ ہے۔
انسان کے جسم میں خون کی چکنائی زیادہ ہونے کی وجہ چکنائی والی غذا نہیں بلکہ سستی ہے۔
چھاتی کی تمام بیماریوں کا سبب آکسیجن کی کمی نہیں بلکہ غم اور افسردگی ہے، جو انسان کو چھاتی کی مختلف بیماریوں میں مبتلا کرتی ہے۔
شوگر کی بیماری کا سبب جسم میں گلوکوز کی زیادتی نہیں بلکہ غرور اور اپنی بات پر سختی سے قائم رہنا اس بیماری کو دعوت دیتا ہے۔
جگر (لیور) کی بیماریوں کا سبب صرف بے وقت نیند اور ذہنی دباؤ نہیں بلکہ مایوسی اور دل ٹوٹنے کے اثرات بھی جگر کی بیماریوں کا حصہ ہیں۔
دل کی بیماریوں کی وجہ خون کی کمی نہیں بلکہ سکون اور اطمینان کا فقدان ہے جو دل کی بیماریوں کا اصل سبب ہے۔
مختصراً، ان بیماریوں کے اسباب درج ذیل فیصد میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں:
50٪ روحانی اسباب
25٪ نفسیاتی اسباب
15٪ سماجی اسباب
10٪ کیمیائی اسباب
لہذا، اگر آپ ایک صحت مند اور تندرست زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اپنے دل و دماغ کی حفاظت کریں اور حسد، نفرت، غصہ، غرور، سستی، بدکلامی اور دوسروں کو کمتر سمجھنے سے پرہیز کریں۔
28/01/2025
فساد کے پھیلاؤ کا انجام
کہانی میں ایک لومڑی پر پتھر گرا اور اس کا دم کٹ گیا۔
دوسری لومڑی نے اس سے پوچھا:
"تم نے اپنا دم کیوں کٹوا دیا؟"
پہلی لومڑی نے جھوٹ بولا اور کہا:
"مجھے لگتا ہے جیسے میں ہوا میں اڑ رہی ہوں، یہ بہت مزے کی بات ہے!"
یہ سن کر دوسری لومڑی نے بھی اپنے دم کو کٹوا دیا، لیکن جب اسے شدید تکلیف ہوئی اور کوئی مزہ محسوس نہ ہوا، تو اس نے پہلی لومڑی سے پوچھا:
"تم نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا؟"
پہلی لومڑی نے کہا:
"اگر میں نے تمہیں سچ بتا دیا تو باقی لومڑیاں اپنے دم نہیں کٹوائیں گی اور وہ ہم پر ہنسیں گی۔"
پھر وہ دونوں ہر لومڑی کو اپنے دم کٹوانے کے فائدے بتانے لگیں، یہاں تک کہ زیادہ تر لومڑیاں دم کے بغیر ہو گئیں۔
اب جب وہ کسی لومڑی کو دم کے ساتھ دیکھتے، تو اس کا مذاق اڑاتے!
کہانی کا سبق:
جب معاشرے میں فساد عام ہو جاتا ہے، تو نیک لوگوں کو ان کی نیکی پر طعنے دیے جاتے ہیں۔
برے لوگ ان کی بہتری کو مذاق اور طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔
قرآن بھی ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے، جیسا کہ قوم لوط نے کہا:
"اِن کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ تو بہت پاکیزہ بنتے ہیں!" (سورہ الاعراف: 82)
حقیقت:
جب بدی غالب آ جائے، تو اچھائی پر طنز اور نیکی کو عیب سمجھا جانے لگتا ہے۔
ہمیں حق پر ثابت قدم رہنا چاہیے، چاہے دنیا کتنی ہی طنز کرے یا مخالفت کرے۔
غصہ اور قوت برداشت
قوت برداشت کو بڑھانے کے لئے یہ پوسٹ ضرور پڑھیں یقیناً جو بھی عمل کرے گا %90 کامیاب ہوگا ان شاء الله۔
■ ﺻﺪﺭ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ کے ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻠﭩﺮﯼ ﮈﮐﭩﯿﭩﺮ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﮑﭧ ﭘﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺭﻭﺯ ﺻﺒﺢ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﭩﻠﺮ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﮯ ﺩﻭ ﭘﯿﮑﭧ ﭨﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﮉ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﺪﺭ ﺍﯾﻮﺏ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﺳﻠﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﺒﺢ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ.
ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﮮ ﭘﺮ ﺗﮭﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﻨﮕﺎﻟﯽ ﺑﭩﻠﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ، ﺟﻨﺮﻝ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﻏﺼﮧ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﭩﻠﺮ ﮐﻮ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔
ﺟﺐ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺗﮭﮏ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺑﭩﻠﺮ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ:
’’ﺟﺲ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻭﮦ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﭼﻼﺋﮯ ﮔﺎ، ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻓﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﺧﺮﺍﺏ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ‘‘۔
ﺑﭩﻠﺮ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ۔
■ ﺭﺳﺘﻢ ﺯﻣﺎﻥ ﮔﺎﻣﺎ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺍﺱ ﺟﯿﺴﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ‘ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺳﮯ ﺩوﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮔﺎﻣﺎ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﺎﭦ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺎ۔
ﮔﺎﻣﮯ ﮐﮯ ﺳﺮ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﻓﻮﺍﺭا ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮍا‘ ﮔﺎﻣﮯ ﻧﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﻣﻔﻠﺮ ﻟﭙﯿﭩﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﮔﮭﺮ ﻟﻮﭦ ﮔﯿﺎ۔
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ. ﺁﭖ ﺩوﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﭙﮍ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﯽ.
ﮔﺎﻣﮯ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
’’ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ بلکہ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺭﺳﺘﻢ ﺯﻣﺎﻥ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮮ ﮔﯽ‘‘۔
■ ﻗﻮﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﻧﯽ ﭼﯿﺌﺮﻣﯿﻦ ﻣﺎﺅﺯﮮ ﺗﻨﮓ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﯿﮉﺭﺯ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﺗﮭﮯ‘ ﻭﮦ 75 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺷﻨﮕﮭﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺋﻤﻨﮓ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﻣﻨﻔﯽ ﺩﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
■ ﻗﻮﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻐﻞ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻇﮩﯿﺮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﺎﺑﺮ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﮈﮬﺎﺋﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯿﺎﮞ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮊﺩﮬﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ. ﺍﯾﮏ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺲ ﻓﭧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﮊﺩﮬﮯ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﺭﮦ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻟﮍﻧﺎ ﭘﮍﺍ۔
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺧﺎﺭﺵ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺧﺎﺭﺵ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﻻﺣﻖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﺧﺎﺭﺵ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﭙﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻦ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺑﺎﺑﺮ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﺷﺒﺎﻧﯽ ﺧﺎﻥ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁ ﮔﯿﺎ۔
ﯾﮧ ﺑﺎﺑﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮈﻭﺏ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺑﺎﺑﺮ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﭘﻮﺭﺍ ﺷﺎﮨﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺎ
ﺍﻭﺭ ﺑﻦ ﭨﮭﻦ ﮐﺮ ﺷﺒﺎﻧﯽ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ‘ ﻭﮦ ﺁﺩﮬﺎ ﺩﻥ ﺷﺒﺎﻧﯽ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭا ﺭﮨا‘ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺧﺎﺭﺵ ﮨﻮﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺎﺑﺮ ﻧﮯ ﺧﺎﺭﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔
ﺑﺎﺑﺮ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯿﺎﮞ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻓﺘﺢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺩﮬﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
🔘 ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ کامیاب لوگوں ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﺣﺴﻦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﻮﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺎﺭﭦ ﭨﻤﭙﺮﮈ، ﮐﻮﺋﯽ ﻏﺼﯿﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯ ﺷﺨﺺ ﺗﺮﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ وہی ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
🔷 ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﺎﮞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﻞ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﻃﯿﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽؓ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ اکرمؐ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ کی:
’’ ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﭘﺮﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﻓﺎﺭﻣﻮﻟﮧ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺠﺌﮯ‘‘
ﺁﭖؐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
’’ﻏﺼﮧ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ‘‘
ﺁﭖؐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
’’ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ.
ﺍﻭﻝ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺟﻠﺪﯼ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﺍﺻﻞ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺩﻭﻡ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﺍﺻﻞ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.
ﺳﻮﻡ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺍﺻﻞ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔‘‘
ﺁﭖؐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
’’ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ہیں.‘‘
🔘 ﻏﺼﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 90 ﻓﯿﺼﺪ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺻﺮﻑ ﻏﺼﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ 90 ﻓﯿﺼﺪ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺍﯾﻨﭩﯽ ﺑﺎﺋﯿﻮﭨﮏ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﻠﭩﯽ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﮨﮯ ـ
منقول
Category
Website
Address
Multan
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when HUA Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.