Legal Desk
25/06/2026
جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ Equity Relief پر اثر انداز ہوتا ہےعدالت نے تسلیم کیا کہ غیر منقولہ جائیداد کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں، لہٰذا اگر خریدار تاخیر کرتا رہے تو بیچنے والے کو مالی نقصان ہوتا ہے؟اس لیے عدالت equitable relief دیتےوقت مارکیٹ کے حالات کو مد نظر رکھتی ہے۔
2026 LHC 2556
22/06/2026
DNA
19/06/2026
28 کنال 5 مرلہ اراضی کے مالک تھے اور انہوں نے 25 جنوری 1984ء کو ایک رجسٹرڈ جنرل پاور آف اٹارنی محمد شبیر کے حق میں جاری کی تھی۔ اسی پاور آف اٹارنی کی بنیاد پر محمد شبیر نے 30 جنوری 2003ء کو متنازعہ اراضی کا بیع نامہ مدعیان کے حق میں مرتب کیا اور رجسٹری کے لیے سب رجسٹرار ڈسکہ کے سامنے پیش کیا۔ سب رجسٹرار نے پاور آف اٹارنی کی تصدیق کے لیے رپورٹ طلب کی جس سے معلوم ہوا کہ پاور آف اٹارنی دینے والے خُورشید شاہ وفات پا چکے ہیں۔ چنانچہ سب رجسٹرار نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے رجسٹری سے انکار کر دیا کہ موکل (Principal) کی وفات کے ساتھ ہی وکیل/مختار (Agent) کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔
مدعیان نے اس حکم کے خلاف رجسٹرار کے سامنے اپیل کی لیکن وہ بھی مسترد ہوگئی۔ بعد ازاں انہوں نے دفعہ 77 رجسٹریشن ایکٹ کے تحت دعویٰ دائر کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ خُورشید شاہ 30 اور 31 جنوری 2003ء کی درمیانی شب فوت ہوئے تھے، لہٰذا جب بیع نامہ پیش کیا گیا اس وقت وہ زندہ تھے اور رجسٹری سے انکار غیر قانونی تھا۔ ٹرائل کورٹ نے دعویٰ خارج کر دیا، تاہم اپیلیٹ کورٹ نے فیصلہ کالعدم کرکے دعویٰ منظور کر لیا۔ اس کے خلاف قانونی ورثاء نے ہائی کورٹ میں سول ریویژن دائر کی۔
📍قانونی نکات کا خلاصہ:
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 77 کے تحت دائر مقدمہ کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہوتا ہے۔ عدالت کا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ رجسٹرار یا سب رجسٹرار کی جانب سے رجسٹری سے انکار قانونی طور پر درست تھا یا نہیں۔ اس نوعیت کے مقدمہ میں ملکیت، عنوان (Title)، دھوکہ دہی، جبر، معاہدہ کی صحت یا دیگر حقوق کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ رجسٹریشن ایکٹ کی دفعات 32، 33 اور 34 کے تحت سب رجسٹرار پر لازم ہے کہ وہ دستاویز پیش کرنے والے شخص کے اختیار اور اہلیت کی جانچ پڑتال کرے۔ لہٰذا پاور آف اٹارنی کی تصدیق کے لیے رپورٹ طلب کرنا سب رجسٹرار کا قانونی فرض تھا اور یہ اقدام قانون کے مطابق تھا۔
ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ معاہدہ قانون (Contract Act, 1872) کی دفعہ 201 کے مطابق موکل کی وفات سے ایجنسی خودبخود ختم ہو جاتی ہے۔ چونکہ پاور آف اٹارنی دراصل موکل کی طرف سے دیا گیا اختیار ہے، اس لیے موکل کی موت کے بعد وکیل یا مختار کسی قسم کی قانونی کارروائی کرنے کا مجاز نہیں رہتا۔ اس کے بعد اس کی طرف سے کیا جانے والا ہر عمل قانون کی نظر میں بے اثر اور کالعدم (Void) ہوتا ہے۔
عدالت نے ریکارڈ پر موجود انکوائری رپورٹ اور درست شدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ خُورشید شاہ 30 جنوری 2003ء کی صبح سویرے فوت ہو چکے تھے۔ لہٰذا جب رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونا تھا اس وقت پاور آف اٹارنی قانونی طور پر ختم ہو چکی تھی۔ حتیٰ کہ اگر مدعیان کا یہ مؤقف بھی مان لیا جائے کہ وفات 30 اور 31 جنوری کی درمیانی رات ہوئی تھی، تب بھی 31 جنوری کو تصدیقی رپورٹ موصول ہونے تک خُورشید شاہ وفات پا چکے تھے، اس لیے سب رجسٹرار رجسٹری کرنے کا مجاز نہیں تھا۔
عدالت نے یہ اہم قانونی اصول بھی بیان کیا کہ دفعہ 77 رجسٹریشن ایکٹ کے تحت مقدمہ کی ناکامی سے مدعیان کا حقِ دعویٰ برائے مخصوص ادائیگی (Specific Performance) ختم نہیں ہوتا۔ رجسٹری کے انکار سے متعلق مقدمہ اور مخصوص ادائیگی کا دعویٰ الگ الگ نوعیت اور الگ الگ وجوہِ دعویٰ پر مبنی ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی فریق معاہدہ فروخت کے نفاذ کا دعویٰ کرنا چاہے تو وہ علیحدہ طور پر مخصوص ادائیگی کا مقدمہ دائر کر سکتا ہے۔
📍فیصلہ: لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ سب رجسٹرار کی جانب سے رجسٹری سے انکار قانون کے مطابق تھا کیونکہ موکل کی وفات کے بعد پاور آف اٹارنی ختم ہو چکی تھی۔ چنانچہ اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا گیا اور دفعہ 77 رجسٹریشن ایکٹ کے تحت دائر مدعیان کا دعویٰ خارج کر دیا گیا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اگر مدعیان مناسب سمجھیں تو وہ مخصوص ادائیگی (Specific Performance) کے لیے علیحدہ قانونی چارہ جوئی کر سکتے
ہیں۔مدعیان محمد شبیر وغیرہ نے رجسٹریشن ایکٹ 1908ء کی دفعہ 77 کے تحت دعویٰ دائر کیا۔ ان کا کہنا تھا خورشید شاہ 28 کمال 5مدلہ کے مالک تھا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the practice
Telephone
Website
Address
Multan